?️
سچ خبریں: صنعا کی وزارت خارجہ نے سعودی حکومت کی جانب سے مکہ مکرمہ پر صنعا کے حملے کے جھوٹے دعووں اور بیان بازی کے تسلسل کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے۔
انہون نے بتایا کہ سعودی حکومت کا مقصد مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانا اور یمن کے خلاف جنگ میں شرکت کے لیے حمایتی حاصل کرنا ہے جو اب تک کامیاب نہیں ہو سکی، گزشتہ شب ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت کی جانب سے مکہ میں مسجد الحرام کے منبر کو جھوٹ، الزامات اور بہتان پھیلانے کے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا مسلمانوں کے قبلے اور دیگر اسلامی مقدس مقامات کی بڑی توہین ہے۔
یمن کی وزارت خارجہ نے مسجد الحرام کے منبر سے سعودی بیان بازی کے ردعمل میں زور دیا کہ یہ فاسد سعودی علماء جو جھوٹ پھیلانے میں مصروف ہیں، وہی ہیں جو خانہ کعبہ کی تخریب اور تباہی چاہتے ہیں اور کبھی بھی مقدس مقامات کے قابل اعتماد محافظ نہیں ہو سکتے۔
اس وزارت نے مزید کہا کہ سعودی حکومت نے کئی دہائیوں سے مقدس منبروں کو عالم اسلام میں اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے غلط استعمال کیا ہے اور ان مقدس مقامات کو کبھی بھی امت اسلامی کے اہم مقاصد کی خدمت، اس کے دشمنوں اور بالخصوص صہیونی یہودیوں کے مقابلے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عالم اسلام کو اس بڑے خطرے سے مکمل طور پر آگاہ ہونا چاہیے جو مجرم سعودی حکومت مکہ اور اسلامی مقدس مقامات کے لیے پیدا کر رہی ہے۔ سعودی حکومت ان مقدس مقامات کی تقدیس کو اپنے مفادات کے لیے غلط استعمال کرنے اور انہیں اپنا مطیع میڈیا پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سعودی حکومت نے مسلمانوں اور بالخصوص تکفیریوں کے جذبات کو بھڑکانے کی پالیسی کے تحت یہ دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی فضائی دفاع نے ایک ڈرون کو روک لیا جو مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔
درحقیقت، سعودی عرب نے یمن کی مسلح افواج کے سامنے اپنے کرائے کے فوجیوں کی رسوا کن شکستوں اور یمن کے محاذ پر بڑی ناکامی کے بعد، جو اس ملک کے عوام اور مسلح افواج کی بہادرانہ مزاحمت کی وجہ سے ہوئی، یمنیوں کے مکہ مکرمہ پر حملے کے پرانے اور فرسودہ جھوٹ کو فروغ دینے کے پیچھے ہے تاکہ مسلمانوں کی رائے عامہ کو بھڑکایا اور انہیں یمن کے مظلوم عوام کے خلاف اپنی جارحانہ اور غیر انسانی پالیسیوں کے ساتھ شامل کیا جائے۔
اسی تناظر میں، سعودی انصاراللہ کی جانب سے مکہ کو خطرے میں ڈالنے کے اپنے جھوٹے دعوے کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ شاید کچھ اسلامی ممالک کو یمن کے خلاف جنگ میں شرکت پر آمادہ کر سکیں، لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ ایسے حالات میں جب امریکہ نے بھی سعودی درخواست کو منفی جواب دیا ہے، کوئی دوسرا ملک اس جنگ میں مداخلت کے لیے تیار نہیں ہے۔
یہاں تک کہ صہیونیوں نے بھی، باب المندب آبنائے پر انصاراللہ کے مکمل کنٹرول سے شدید تشویش کے باوجود، اپنے سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے متعدد بار اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے اندرونی اور بیرونی بحرانوں کے انتشار کے درمیان ایسی جنگ میں براہ راست داخل ہونے اور ایک نیا محاذ کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
عالمی ایجنسی نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار ریٹنگ میں کمی کردی
?️ 23 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اسٹینڈرڈ اینڈ پورز (ایس اینڈ پی) گلوبل ریٹنگ ایجنسی
دسمبر
وہ آنکھیں جنہیں میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی نظر آتی
?️ 3 فروری 2022سچ خبریں: 2017 میں فوجی کریک ڈاؤن کے بعد 730,000 سے زیادہ
فروری
امارات نے مسجد الاقصی پر حملے کے چند دن بعد صہیونیوں کی میزبانی کی
?️ 9 جنوری 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کا ایک سرکاری وفد یہودی پارٹی کے سربراہ اٹمار
جنوری
شرمالشیخ معاہدہ کیوں طے پایا؟
?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبریں:شرمالشیخ میں طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ، دراصل حماس کی
اکتوبر
عراق کو علاقائی اور عالمی تنازعات کا میدان بننے سے روکا جائے
?️ 30 جولائی 2026سچ خبریں: عراق کے شیعہ گروہوں کے اتحاد ہم آہنگی فریم ورک
جولائی
حکومت کی توجہ برآمدی صنعتوں کے لیے سرمایہ کاری بڑھانے پر ہے: وزیر اعظم
?️ 27 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ زراعت کو
دسمبر
پیپلز پارٹی نے کسی بھی اتحادی پارٹی کو مدعو نہیں کیا
?️ 21 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) راولپنڈی میں پیپلز پارٹی ذوالفقارعلی بھٹو کی 42ویں برسی
مارچ
طالبان آئندہ 30 روز میں افغانستان پر قبضہ کرسکتے ہیں، امریکی انٹیلی جنس کا بڑا دعویٰ
?️ 13 اگست 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی انٹیلی جنس نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کو
اگست