?️
رفح کراسنگ کی بحالی فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے:حماس
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رفح سرحدی گزرگاہ کی دوبارہ بحالی جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں طے شدہ تھی، تاہم اسرائیل نے جان بوجھ کر اس عمل کو طویل عرصے تک مؤخر رکھا۔
الجزیرہ کے مطابق، حازم قاسم نے کہا کہ رفح کراسنگ کا کھلنا غزہ کے فلسطینی عوام کا حق ہے۔ معاہدے کے آغاز ہی میں اس کی بحالی کا منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن قابض اسرائیل نے اسے تاخیر کا شکار کیا اور اسے غزہ میں موجود آخری قیدی کی لاش کی حوالگی سے مشروط کر دیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے آزادانہ آمد و رفت کا مکمل حق حاصل ہے، اور یہ حق بین الاقوامی قوانین کے تحت ضمانت یافتہ ہے۔
حماس کے ترجمان نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر عائد کی جانے والی کسی بھی قسم کی شرط یا پابندی، جنگ بندی معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔
حماس کے بیان میں ثالث اور ضامن ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ رفح کراسنگ پر اسرائیلی اقدامات کی کڑی نگرانی کریں تاکہ فلسطینی عوام کو محاصرے کی کسی نئی شکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اسی دوران، مصر اور فلسطینی حکام کی جانب سے تاحال رفح کراسنگ کی باضابطہ بحالی سے متعلق کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج سے وابستہ ادارے کوآرڈینیشن آف گورنمنٹ ایکٹیویٹیز ان دی ٹیریٹریز (COGAT) نے خبر رساں ادارے انادولو کو بتایا کہ رفح کراسنگ کو جنگ بندی معاہدے اور اسرائیلی سیاسی قیادت کی ہدایات کے تحت غزہ کے محدود تعداد میں شہریوں کی آمد و رفت کے لیے کھولا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، آج گزرگاہ کو آزمائشی بنیادوں پر کھولا گیا ہے اور کل سے پیدل افراد کی آمد و رفت شروع ہوگی۔ ابتدائی مرحلے میں روزانہ 150 افراد کو غزہ سے باہر جانے اور 50 افراد کو غزہ واپس آنے کی اجازت دی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق، مصر سے انسانی امداد لے جانے والے ٹرکوں کو اس راستے سے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق، غزہ میں داخلے اور اخراج کا عمل مصر کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے انجام پائے گا۔ مصر 24 گھنٹے قبل مسافروں کی فہرست اسرائیل کو فراہم کرے گا، جس کی منظوری کے بعد اسرائیل اپنی سکیورٹی جانچ کرے گا، اور اس کے بعد یورپی یونین کے امدادی مشن کی نگرانی میں آمد و رفت ممکن ہوگی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
سائنس دانوں کی امریکہ کے بجائے چین میں رہنے کو ترجیح
?️ 23 اپریل 2023سچ خبریں:اقتصادی تعاون اور ترقی تنظیم کے شائع کردہ اعداد و شمار
اپریل
لیبیا کی پارلیمنٹ نے برطانوی سفیر کو ناپسندیدہ عنصر قرار دیا۔
?️ 28 دسمبر 2021سچ خبریں: لیبیا کے ایوان نمائندگان کے سرکاری ترجمان عبداللہ بالیق نے کہا
دسمبر
پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے فوری نمٹنے کا مطالبہ
?️ 13 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اٹارنی جنرل برائے پاکستان (اے جی پی) منصور
دسمبر
کیا پوری دنیا میں امریکی قیادت کا راج ہے؟
?️ 21 نومبر 2021سچ خبریں: سوچی میں والدین کی 28ویں بین الاقوامی میٹنگ میں صدر پوتن
نومبر
غزہ پر گزشتہ رات 100 سے زائد فلسطینی شہید
?️ 27 اکتوبر 2023سچ خبریں:المیادین ٹی وی چینل نے آج اپنے رپورٹر کے حوالے سے
اکتوبر
اسرائیل اور لبنان جنگ کی تازہ ترین صورتحال
?️ 23 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ٹیلی ویژن کے چینل 12 نے اتوار
ستمبر
اراکین اسمبلی کے اثاثوں کی معلومات تک محدود رسائی، انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان
?️ 3 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان اراکین اسمبلی کی جانب
دسمبر
جنگ کا مستقل خاتمہ صرف ایک شرط پر
?️ 12 مئی 2025سچ خبریں: محمد الہندی، فلسطینی جہاد اسلامی تحریک کے نائب سیکرٹری جنرل،
مئی