?️
سچ خبریں: الجزیرہ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ پر کنٹرول اور فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کا منصوبہ بلاشبہ ناقابل قبول ہے اور اسے سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔
ترکی کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات
فیدان نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ترکی کی خارجہ پالیسی کی ترجیح مشرق وسطیٰ، قفقاز، بلقان، بحیرہ اسود اور بحیرہ روم میں تنازعات کا خاتمہ ہے، کہا: جب امن و استحکام قائم ہوگا، اقتصادی ترقی اور عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی آسان ہوجائے گی۔ ہم ایک تعمیری خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس سے دوسروں کی سلامتی کو خطرہ نہ ہو اور ممالک کی علاقائی سالمیت کا احترام ہو۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی حکومت توسیع پسندانہ پالیسیوں کے ذریعے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ مسلم اور عرب ممالک نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ دو ریاستی حل کو قبول کرے اور عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ امن سے رہیں۔ لیکن اسرائیل فلسطینی زمینوں کو ضم کرنے اور لبنان اور شام پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ وہ ہمیشہ کے لیے ایسا نہیں کر سکتے۔
روس، یوکرین اور ترکی کا کردار
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق پیش رفت کے حوالے سے ترک وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ فریقین جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں امریکہ اور روس مذاکرات کے لیے نمائندے مقرر کریں گے۔ اگلے چند ماہ یوکرین میں جنگ روکنے کے حوالے سے بہت تیز اور شدید ہوں گے۔ ہمیں موسم گرما تک نتائج دیکھنا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کے معاملے میں یورپ اکیلا رہ گیا ہے اور امریکہ کے انخلاء سے سیکورٹی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یورپ مستقبل میں نیٹو سے باہر ایک نیا سیکورٹی ڈھانچہ تشکیل دینا چاہتا ہے، فیدان نے کہا کہ ترکی کی سرکاری حیثیت اب بھی یورپی یونین میں رکنیت کی ہے لیکن یورپی شناختی سیاست کی وجہ سے ترکی کو یونین میں شامل نہیں کرنا چاہتے۔
حماس ایک مزاحمتی تحریک ہے اور اسرائیل کے قبضے تک موجود تھی
اس سوال کے جواب میں کہ کیا حماس ایک نظریہ اور نظریہ ہے؟ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حماس فلسطینی اتھارٹی میں ایک جائز سیاسی جماعت ہے، کہا کہ حماس ایک مزاحمتی تحریک ہے۔ جب تک اسرائیل کا قبضہ موجود ہے، وہ لامحالہ مسلح جدوجہد میں شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس صرف لوگوں پر مشتمل تنظیم نہیں ہے بلکہ ایک نظریہ اور نظریہ ہے۔ جب تک قبضہ، جبر اور ذلت جاری رہے گی، حماس کی جگہ زیادہ مزاحمتی ڈھانچہ آئے گا۔
خطے میں ایران کی پالیسی غلط تھی
اس انٹرویو کے ایک اور حصے میں شام میں ہونے والی پیش رفت کے ایران کی علاقائی صورتحال پر اثرات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترک وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے طویل عرصے سے خطے میں ملیشیاؤں کی حمایت کرکے اپنی علاقائی پالیسی کو آگے بڑھایا ہے اور یہ پالیسی ہائی رسک مینجمنٹ ہے۔ یہ پالیسی ایران کے لیے کامیاب رہی ہے لیکن اس نے ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ رقم خرچ کی ہے۔ عراق اور شام میں کامیابیوں اور فتوحات کو برقرار رکھنے کے لیے ایران کو زیادہ پیسہ خرچ کرنا پڑا۔
فیدان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایرانی حکام سے کہا کہ وہ اس پالیسی کو تبدیل کریں کیونکہ اگر اس قسم کی پالیسی کامیاب ہوتی ہے تو اس سے طویل مدت میں ایرانی نظام اور خطے دونوں پر ایک بہت بڑا ساختی بوجھ پڑے گا۔ نئے دور میں پیش رفت نے ایران کو بہت بڑا سبق سکھایا ہے۔ ہمیں علاقائی یکجہتی کو بڑھانا چاہیے اور ماضی کی غلطیوں کو جاری نہیں رکھنا چاہیے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
شہباز گل اسلام آباد سے گرفتار
?️ 9 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر فواد چوہدری اور
اگست
ترکی میں KFC کا دیوالیہ؛ وجہ؟
?️ 19 اپریل 2025 سچ خبریں:فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جاری عالمی بائیکاٹ
اپریل
مجھے یقین ہے کہ ایرانی بات کرنا چاہتے ہیں: ٹرمپ
?️ 18 اپریل 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اپنی تقریر میں کہا کہ
اپریل
شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل داغنے کا اعلان
?️ 25 ستمبر 2022سچ خبریں:شمالی کوریا نے آخر کار مشرقی سمندر (سی آف جاپان) میں
ستمبر
حزب اللہ کہاں تک پہنچ سکتی ہے؟
?️ 19 اکتوبر 2024سچ خبریں: ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ کا ڈرون
اکتوبر
غزہ میں جاری اسرائیلی ظلم و ستم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، وزیراعظم
?️ 30 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ غزہ
جولائی
جارحیت کا دارالحکومت
?️ 18 مارچ 2022سچ خبریں:یمنی نیشنل سالویشن گورنمنٹ کے وزیر اعظم نے خلیج تعاون کونسل
مارچ
امریکہ اخوان المسلمین کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے گا
?️ 25 نومبر 2025 امریکہ اخوان المسلمین کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے
نومبر