اسلام آباد غزہ کے غیر واضح امن منصوبے کے دلدل میں نہ پھنسے:سابق پاکستانی سفارتکار کا انتباہ

?️

 اسلام آباد غزہ کے غیر واضح امن منصوبے کے دلدل میں نہ پھنسے:سابق پاکستانی سفارتکار کا انتباہ

 پاکستان کی سابق سینئر سفارتکار اور سیاسی تجزیہ کار ملیحہ لودھی نے غزہ میں کسی بھی قسم کی فوجی تعیناتی کے ممکنہ نتائج پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کو غزہ کے غیر واضح اور مبہم امن منصوبے یا اسرائیل کو بالواسطہ تسلیم کرنے والی کسی بھی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

ملیحہ لودھی، جو اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل نمائندہ رہ چکی ہیں، نے ایک تجزیاتی تحریر میں امریکی صدر کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کسی بین الاقوامی فورس میں شمولیت نہ صرف خطرناک ہو سکتی ہے بلکہ یہ ملک کو ایک پیچیدہ اور طویل تنازع میں دھکیل سکتی ہے۔

ان کے مطابق امریکا غزہ کے لیے ایک کثیر القومی استحکام فورس  تشکیل دینا چاہتا ہے جس کی قیادت ایک امریکی جنرل کرے گا، تاہم اس منصوبے کی کامیابی حماس کی رضامندی سے مشروط ہے۔ اگر حماس نے اس فورس کو قبول نہ کیا تو اس میں شامل ممالک کو براہِ راست فلسطینی مزاحمتی گروہوں سے تصادم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ملیحہ لودھی نے واضح کیا کہ پاکستانی حکومت پہلے ہی واشنگٹن کو آگاہ کر چکی ہے کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی بھی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ فورس کی کمان، اختیارات اور مالی ڈھانچے کے بارے میں بھی ابہام پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے کئی ممالک ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی عوام فلسطین کی آزادی کے حامی ہیں اور حماس کے خلاف کسی بھی اقدام کو عوامی سطح پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کی دیرینہ پالیسی، جس کے تحت اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا گیا، اس فیصلے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

سابق سفارتکار کے مطابق غزہ میں جنگ بندی نہایت کمزور ہے اور اسرائیل کی جانب سے اس کی بار بار خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جبکہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور نئی یہودی بستیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی انہیں براہِ راست تنازع میں جھونک دے گی۔

ملیحہ لودھی نے خبردار کیا کہ پاکستانی فوجیوں کا فلسطینی گروہوں سے تصادم نہ صرف اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول ہوگا بلکہ اندرونِ ملک شدید سیاسی اور عوامی ردعمل کو بھی جنم دے سکتا ہے۔

انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کو اپنے قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے غزہ کے غیر یقینی امن منصوبے سے دور رہنا چاہیے، کیونکہ اس میں شامل ہونا ایک ایسے دلدل میں اترنے کے مترادف ہو سکتا ہے جس کا انجام نہ واضح ہے اور نہ ہی فائدہ مند۔

قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان غزہ میں صرف امن کے فروغ کی حمایت کرے گا، کسی پر امن مسلط کرنے یا حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی کوشش کا حصہ نہیں بنے گا۔

مشہور خبریں۔

امریکہ عراق میں فرقہ واریت پھیلا رہا ہے:اردنی سیاسی کارکن

?️ 21 اگست 2022سچ خبریں:اردن کی عوامی تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن نے کہا

سوڈان میں ان دنوں کیا ہو رہا ہے؟/ اقتدار کی ہوس یا بکھرنے کا خطرہ

?️ 20 اپریل 2023سچ خبریں:ان دنوں سوڈانی فوج اور ریپڈ ری ایکشن فورسز کے درمیان

امریکی سفارت کا روس کے بارے میں اہم دعوی

?️ 8 مارچ 2024سچ خبریں: ماسکو میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کرتے

بھارت جموں وکشمیرپراپنے فوجی قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے انتخابات کا ڈرامہ رچا رہا ہے

?️ 26 مئی 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر

صیہونی وزیر خارجہ کا دورہ قاہرہ اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی تفصیلات

?️ 11 دسمبر 2021سچ خبریں:لبنانی اخبار نے صیہونی وزیر خارجہ یائر لاپڈ کے دورہ مصر

ٹرمپ جھوٹا ہے: بائیڈن

?️ 1 اکتوبر 2024سچ خبریں: امریکی صدر جو بائیڈن نے طوفان ہیلن سے نمٹنے کے

جماعت اسلامی کا پیپلزپارٹی پر بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں دھاندلی کا الزام

?️ 5 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) جماعت اسلامی نے حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی پر 15

روس، چین اور شمالی کوریا ہماری سلامتی کے لیے خطرہ:جاپان

?️ 22 جولائی 2022سچ خبریں:جاپان کی وزارت دفاع نے جمعہ کو شائع ہونے والی اپنی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے