?️
سچ خبریں: قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے زور دے کر کہا ہے کہ جواب دہی کی عدم موجودگی اور منصفانہ حل کے بغیر تنازعات کی طوالت بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری دنیا جوابدہی کے فقدان اور منصفانہ حل کے بغیر جاری تنازعات کے باعث بحرانوں میں غیرمعمولی اضافے کا مشاہدہ کر رہی ہے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے واضح کیا کہ صرف منصفانہ حل ہی پائیدار امن قائم کرتے ہیں اور تصادم اور تقسیم کے چکر کو جاری رہنے سے روکتے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ جوابدہی کا فقدان بین الاقوامی نظام میں خلل ڈالنے کی انتہائی خطرناک صورتوں میں سے ایک ہے، اور یہ بات ہمارے خطے میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
قطری وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی عوام کی تکالیف اور سوڈان میں ہونے والے المیے ظاہر کرتے ہیں کہ انصاف کا حصول اور حقوق کی حمایت خطے کی استحکام برقرار رکھنے اور اس کے انہدام کو روکنے کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے خطے کے سامنے موجود چیلنجز بین الاقوامی قوانین کے احترام میں خطرناک کمی اور طاقت کے بے تحاشا استعمال سے الگ نہیں ہیں۔ ہماری دنیا کو قانون پر اعتماد بحال کرنے اور ایک زیادہ منصفانہ بین الاقوامی نظام کے قیام کے ساتھ ساتھ انسانی برادریوں اور امدادی تنظیموں کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔
شیخ بن عبدالرحمٰن نے زور دیا کہ پائیدار امن سطحی فیصلوں سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے جو انسانی وقار کو تمام پالیسیوں کے مرکز میں رکھتی ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ انصاف محض ایک سیاسی ہدف نہیں بلکہ بین الاقوامی امن کی بقا اور استحکام کو برقرار رکھنے کا ایک بنیادی ستون ہے۔
قطر کے وزیر اعظم نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قطر کی حکومت فعال ثالثی کے اپنے کردار کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک ستون کے طور پر جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم مواصلات کے چینلز کھلے نہیں رکھیں گے تو ہم کسی بھی تنازعے کو حل کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ ہم ثالثی کے کردار کی انجام دہی کے دوران کسی فریق کی جانب نہیں جاتے اور بات چیت کے تسلسل اور نتائج کی مثبت نوعیت پر اصرار کرتے ہیں۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم جامع جنگ بندی کا تصور بھی نہیں کر سکتے جب تک کہ صیہونی فورسز مکمل طور پر پسپا نہ ہو جائیں اور غزہ میں استحکام قائم نہ ہو جائے۔
انہوں نے بتایا کہ ثالث اگلے مرحلے کی غزہ جنگ بندی پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، اور قطر، ترکی اور مصر کی حکومتیں ریاستہائے متحدہ کے ساتھ مل کر غزہ میں اگلے مرحلے کے لیے مستقبل کا راستہ متعین کرنے پر بات چیت کر رہی ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ہزاروں فرانسیسی شہریوں کا میکرون کے استعفے کا مطالبہ
?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں:سردی کا موسم قریب آنے نیز بجلی اور گیس کی کٹوتی
ستمبر
تائیوان کے قومی دن میں کنیسٹ کے ارکان کی شرکت کے ساتھ چین کے خلاف اسرائیل کی کارروائیاں زیادہ عام ہو جاتی ہیں
?️ 1 اکتوبر 2025سچ خبریں: ایک کارروائی میں جسے عبرانی میڈیا نے بے مثال قرار
اکتوبر
اگر قحط جاری رہا تو روزانہ ۵۰۰ افراد جاں بحق ہوں گے:وزارت صحت غزہ
?️ 17 اگست 2025اگر قحط جاری رہا تو روزانہ ۵۰۰ افراد جاں بحق ہوں گے:وزارت
اگست
امریکی جہاز حملہ کرنے کے بجائے بھاگ جاتے ہیں، وجہ ؟
?️ 9 جولائی 2024سچ خبریں: یمن کی تحریک انصار اللہ کے سربراہ عبدالملک بدر الدین
جولائی
کینیا کے باشندوں کا برطانیہ سے معاوضے کا مطالبہ
?️ 25 اگست 2022سچ خبریں: کینیا کے متعدد شہریوں نے انگلینڈ کے خلاف انسانی
اگست
انسداد دہشت گردی عدالت کا شاہ محمود قریشی کو سخت نوٹس
?️ 22 جولائی 2024سچ خبریں: لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف
جولائی
لاہور: آصف زرداری کا ایک بارپھر ’چارٹر آف اکانومی‘ کی ضرورت پر زور
?️ 8 جون 2023لاہور: (سچ خبریں) وفاق میں براجمان حکمران اتحاد کے اہم رہنما، سابق
جون
روس کی یوکرین بحران کے حل کے لیے تین اہم شرطیں
?️ 30 دسمبر 2025سچ خبریں:روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یوکرین بحران کے حل
دسمبر