?️
سچ خبریں: ایک معروف عبرانی نیوز ویب سائٹ کے تجزیہ کار نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل کے اپنے بارے میں مثبت سوچ کے برعکس، مغربی ممالک میں درجنوں ادارے اسے عالمی استحکام اور امن کے لیے ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ رویہ ایران کے خلاف جنگ میں تل ابیو کے کردار کے بعد خاص طور پر شدت اختیار کر گیا ہے۔
ناحوم برنیاع، جو یدیعوت آحارانوت اور وای نت نیوز پورٹل کے تجزیہ کار ہیں، نے اپنے ایک مضمون میں انکشاف کیا کہ اوسلو انٹرنیشنل فورم، جو ناروے کی وزارت خارجہ کے زیر اہتمام ہر سال جون میں امن اور جنگ کے مسائل پر بحث کے لیے منعقد ہوتا ہے، اس تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس فورم میں سفارت کار، محققین، انسانی حقوق کی تنظیموں کے سربراہ اور صحافی شامل ہوتے ہیں، جہاں کسی بھی ذریعہ سے معلومات منسوب کرنے پر سخت پابندی عائد ہے۔
گزشتہ برس اس فورم نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور شام کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ اسعد شیبانی کی میزبانی کی۔ برنیاع کے مطابق، شیبانی نے اسرائیلی ہونے کے باوجود ان سے مصافحہ کیا اور ہاتھ نہیں چھوڑا۔
مضمون کے ایک اور حصے میں بتایا گیا کہ اگلی صبح امریکی اور اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایران پر حملہ کیا، جسے بارہ روزہ جنگ کا نام دیا گیا۔ ان مباحثوں سے جو تصویر ابھرتا ہے، وہ اسرائیل کے اپنے بارے میں سوچ اور بیرونی دنیا میں اس کے ادراک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتی ہے۔
دنیا کی اکثریتی نگاہ میں اسرائیل عالمی استحکام اور امن کے لیے خطرہ ہے — کبھی بالواسطہ، جیسے ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع میں اس کے کردار کی صورت میں، اور کبھی براہِ راست، جیسے لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں اس کی جنگی کارروائیاں۔
برنیاع نے تسلیم کیا کہ اگر سات اکتوبر کے واقعے کے بعد اسرائیل کا مقصد خود کو ایک زور آور ہمسایہ کے طور پر پیش کرنا تھا، تو وہ اس میں کامیاب رہا۔ نتن یاہو کی پسندیدہ دلیل یہ رہی ہے کہ اسرائیل مغرب کو نام نہاد اسلامی دہشت گردی سے بچانے والا ایک قلعہ ہے، لیکن اب فلسطینیوں کو دنیا میں اسرائیل کی جارحیت کے خلاف ڈھال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج فلسطینی اپنی مظلومیت سے دنیا کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں، اور عالمی برادری فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھا کر اس کا شکریہ ادا کر سکتی ہے، جس سے اسرائیل ناخوش ہوگا۔ ناروے نے یہ قدم اٹھایا تو اسرائیلی حکومت نے جوابی پابندیاں عائد کردیں۔
ایران کے خلاف حالیہ کارروائی میں ناکامی تسلیم کرتے ہوئے برنیاع نے لکھا کہ اوسلو میں کسی نے ایران میں ریگیم چینج پر بات نہیں کی، لیکن بہت سے لوگ اسرائیل میں ریگیم چینج پر گفتگو کر رہے تھے۔ یورپیوں اور عربوں کے لیے نتن یاہو اور ان کی حکومت کو مسترد کرنا تمام اسرائیلیوں کو مسترد کرنے سے آسان ہے، اور ان کا خیال ہے کہ نتن یاہو کے جانے کے بعد پرامن معمول پر واپسی ممکن ہوگی۔
مضمون کے مطابق، چند اسرائیلی محققین اور صحافیوں نے وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ نئی کابینہ بھی تمام مطالبات پورے نہیں کر سکتی، لیکن سننے والوں نے صرف انتخابات پر توجہ مرکوز کر رکھی تھی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
گنڈاپور کے استعفی کی منظوری میں آئین کی مکمل پاسداری کروں گا۔ فیصل کریم کنڈی
?️ 12 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے
اکتوبر
ٹرمپ کی نیٹو سے باہر نکلنے کی شرائط
?️ 9 دسمبر 2024سچ خبریں:امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اپنے ایک
دسمبر
پاکستان کا سندھ طاس معاہدے پر ثالثی عدالت کے فیصلے پر بھارت سے فوری عملدرآمد کا مطالبہ
?️ 30 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے سندھ طاس معاہدے پر ہیگ میں
جون
امریکہ تنزل پذیر ملک بنتا جا رہا ہے: اقوام متحدہ
?️ 29 ستمبر 2022سچ خبریں: اقوام متحدہ کے دفتر برائے پائیدار ترقی کے تازہ
ستمبر
پنجاب حکومت نے کالعدم جماعت کے مزید100 کارکن رہا کرنے کی منظوری دے دی
?️ 4 نومبر 2021لاہور(سچ خبریں) حکومت پنجاب نے کالعدم تنظیم تحریک لبیک کے مزید 100
نومبر
غزہ پر صیہونیوں کی بمباری
?️ 22 اپریل 2022سچ خبریں:غزہ پر صیہونی جنگی طیاروں نے وحشیانہ بمباری کی ہے۔ اسرائیلی
اپریل
ابتدائی حلقہ بندیاں: کراچی کی ایک قومی، تین صوبائی اسمبلی کی نشستیں بڑھ گئیں۔
?️ 28 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری
ستمبر
کورونا: بیرون ملک سے آنے والوں مسافروں کیلئے ہدایت نامہ جاری
?️ 12 جون 2021 اسلام آباد (سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی
جون