?️
سچ خبریں:معاشی حسابات سے ہٹ کر، امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک اہم پہلو جسے مغربی میڈیا اور سرکاری تجزیوں میں کم توجہ دی گئی ہے، وہ افکارِ عامہ میں نمایاں تبدیلی ہے—خاص طور پر مسلم معاشروں میں—اور اس کا یورپی حکومتوں کے سیاسی فیصلوں پر اثر۔
مختلف سروے، فیلڈ رپورٹس اور تھنک ٹینک تجزیے ظاہر کرتے ہیں کہ حالیہ جنگ نے، توقعات کے برعکس، ایران کو تنہا نہیں کیا بلکہ عالمِ اسلام کے بعض حصوں میں اس کی علامتی حیثیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔
یہی تبدیلی، خاص طور پر اُن یورپی ممالک میں جہاں مسلم آبادی قابلِ ذکر ہے، سیاستدانوں کے رویوں اور بیانات کو متاثر کر رہی ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار، جو عرب پبلک اوپینین انڈیکس سے سامنے آئے ہیں، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جواب دہندگان کی بڑی اکثریت امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے۔ اس تناظر میں ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی دفاعی اقدام کے بجائے ایک خطرے کے تسلسل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
اس ادراکی فرق نے ایک ایسا سماجی ماحول پیدا کیا ہے جس میں بیرونی جارحیت کے خلاف مزاحمت کے بیانیے کو زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔
اس رجحان کا عکس علاقائی میڈیا میں بھی نظر آتا ہے، جہاں بعض تجزیوں کے مطابق ایران کی مزاحمت عرب عوام کے لیے ایک متاثر کن مثال بن رہی ہے، اگرچہ اس کا مطلب مکمل حمایت نہیں، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ عوامی توجہ علاقائی اختلافات سے ہٹ کر بیرونی طاقتوں کے خلاف موقف کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
یہ رجحان یورپ کے اندر، خاص طور پر برطانیہ میں زیادہ واضح ہے۔ تھنک ٹینک پالیسی ایکسچینج کی ایک رپورٹ، جو جی ایل پارٹنرز کے سروے پر مبنی ہے، بتاتی ہے کہ مارچ 2026 میں کیے گئے ایک قومی نمونے میں تقریباً نصف برطانوی عوام ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شرکت کے مخالف تھے، جبکہ صرف 18 فیصد اس کے حامی تھے۔
اسی رپورٹ کے ایک اضافی سروے میں، جو برطانیہ کے مسلمانوں پر کیا گیا، یہ سامنے آیا کہ 39 فیصد مسلمانوں کی ایران کے بارے میں رائے مثبت تھی، جبکہ مجموعی آبادی میں یہ شرح صرف 8 فیصد تھی۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ برطانیہ کے مسلم ووٹروں کے لیے ایک حساس اور فیصلہ کن مسئلہ بن چکی ہے، جو بعض حلقوں میں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اخبار گارڈین کے مطابق، حکمران جماعت لیبر کو برمنگھم، لیسٹر اور لندن کے کچھ علاقوں میں مسلم ووٹوں کے کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔ مور اِن کامن کے لوک ٹریل کے مطابق، جنگوں کے بارے میں مسلمانوں کا ردعمل اب ان کے ووٹنگ رویے کو متاثر کر رہا ہے۔
ایسے حالات میں برطانوی حکومت کا مؤقف بھی محتاط رہا ہے۔ وزیرِاعظم Keir Starmer نے ابتدائی ردعمل میں واضح کیا کہ برطانیہ کو اس جنگ میں نہیں گھسیٹا جانا چاہیے اور سفارتکاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ بعد ازاں بھی انہوں نے کہا کہ امریکہ کے دباؤ کے باوجود برطانیہ جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔
اسی طرح کے اشارے دیگر یورپی ممالک میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ جرمنی کے وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کا ملک جنگ میں شریک نہیں ہوگا، تاہم اس کے معاشی اثرات براہِ راست محسوس کیے جا رہے ہیں، اور اسی لیے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
مزید برآں، یورونیوز کے مطابق ایک سروے میں 57 فیصد یورپی شہریوں نے ایران کے خلاف جنگ کو غیر جواز قرار دیا۔
اسی سروے میں:
* 70 فیصد نے فوجی شرکت کی مخالفت کی
* 65 فیصد نے اسلحہ فراہم کرنے کے خلاف رائے دی
* 56 فیصد نے اڈے اور ہوائی اڈے دینے کی مخالفت کی
* 53 فیصد نے بحری جہاز بھیجنے کے خلاف رائے دی
یہ تمام شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ یورپ کی جانب سے مکمل حمایت سے پیچھے ہٹنا صرف معاشی یا حکمتِ عملی کے اختلافات کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں افکارِ عامہ میں ہیں—خاص طور پر مسلم کمیونٹیز میں، جو مغربی بیانیے سے متفق نہیں۔
آج یورپی حکومتیں ایک ایسے مقام پر کھڑی ہیں جہاں امریکہ کے ساتھ غیر مشروط ہم آہنگی نہ عوامی سطح پر قابلِ قبول ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر کم قیمت۔ انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ ایران کے خلاف جنگ، ابتدائی توقعات کے برعکس، بعض حلقوں میں ایران کی علامتی حیثیت کو بڑھا رہی ہے، اور اس جنگ کی کھلی حمایت اندرونی بے چینی، سماجی دباؤ اور انتخابی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
خاص طور پر برطانیہ جیسے ملک میں، جہاں مسلم ووٹرز بعض علاقوں میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں، یہ حقیقت اور بھی نمایاں ہے۔
اس لیے یورپ کی محتاط پالیسی کو صرف معاشی مفادات یا امریکہ سے اختلاف کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یورپی حکومتیں اب اپنی پالیسی اور عوامی جذبات کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے سے خوفزدہ ہیں۔
یہ جنگ مغربی اتحاد کو مضبوط کرنے کے بجائے اس کے اندرونی تضادات کو نمایاں کر رہی ہے، اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ یورپ اب عوامی دباؤ—خاص طور پر مسلم کمیونٹیز کے ردعمل—کو نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔


مشہور خبریں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل: ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی ٹرمپ کی دھمکیاں، جنگی جرم ہیں
?️ 6 اپریل 2026سچ خبریں: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل نے ایران میں پلوں اور
اپریل
صیہونیوں کے ساتھ سمجھوتے کے مخالفین کے ساتھ آل خلیفہ کا سلوک
?️ 12 دسمبر 2021سچ خبریں:بحرین کے مرکز برائے انسانی حقوق نے اپنی تازہ ترین رپورٹ
دسمبر
روبی انعم کا بشریٰ انصاری سے متعلق اپنی بات کا دفاع
?️ 25 اگست 2025لاہور: (سچ خبریں) اسٹیج اداکارہ روبی انعم نے سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری
اگست
انور مقصود نے پاک بحریہ سے معافی مانگ لی، اپنے ’اغوا‘ کی خبروں کی تردید
?️ 9 دسمبر 2024کراچی: (سچ خبریں) لیجنڈ مصنف، ڈراما ساز اور مزاح نگار انور مقصود
دسمبر
حکومت کا اراکین اسمبلی کی گرفتاری کے حوالے سے قوانین میں ترمیم کا فیصلہ
?️ 19 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم خان سواتی
اکتوبر
بلوچستان: سی ٹی ڈی کی اہم کارروائی،9 دہشت گرد ہلاک
?️ 23 اکتوبر 2021کوئٹہ( سچ خبریں) بلوچستان پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی
اکتوبر
ترکی کی شام پر گولہ باری
?️ 9 جولائی 2022سچ خبریں:ترک فوج نے شام کے صوبہ حلب میں شامی فوج کے
جولائی
سویڈا بحران کہاں سے شروع ہوا؟
?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: سویدا میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری بحران کی جڑیں
جولائی