ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں ٹرمپ کے اقتصادی اور انتخابی بحران؛ امریکی تجزیہ کار کی زبانی

ایران کے خلاف جنگ

?️

سچ خبریں:ایک امریکی تجزیہ کار کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے امریکی حکمرانی اور صدر ٹرمپ پر چھ منفی اثرات مرتب ہوں گے، جن میں معاشی چیلنجز، عالمی سطح پر ٹرمپ کی ناپسندیدگی اور آنے والے انتخابات میں ان کی مقبولیت میں کمی شامل ہے۔

ایران کے خلاف جنگ کے امریکی حکمرانی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر پڑنے والے متعدد نقصانات کے بارے میں ایک امریکی تجزیہ کار نے تفصیل سے بات کی ہے اور انہیں چھ نکات میں بیان کیا ہے۔

امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ بھڑکانے کے بعد بہت سے تجزیہ کاروں نے بین الاقوامی سیاست کے افق پر اس اقدام کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اسی سلسلے میں یونیورسٹی آف میری لینڈ میں پولیٹیکل سائنس کی پروفیسر سحر خمیس نے امریکی حکومت کے موقف میں موجود الجھن اور تضاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی تقریروں اور پالیسیوں نے امریکہ کے اندر اور باہر بڑھتی ہوئی تنقید کو جنم دیا ہے۔

آنے والے امریکی انتخابات پر جنگ کے اثرات

انہوں نے اس اقدام کے معاشی اور سیاسی نتائج سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ اس اقدام کے منفی اثرات ممکنہ طور پر آنے والے امریکی انتخابات تک بھی پھیل سکتے ہیں۔

سحر نے الجزیرہ سے گفتگو میں واضح کیا کہ ٹرمپ نے ابتدا میں ایرانی حکمرانی کا تختہ الٹنے کی ضرورت پر بات کی اور دعویٰ کیا کہ وہ ذاتی طور پر ایران کی نئی قیادت کے انتخاب میں مداخلت کریں گے، لیکن بعد میں ان بیانات سے پیچھے ہٹ گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ایٹمی معاملے پر ان کے بیانات میں بھی تضادات دیکھے گئے۔ انہوں نے پہلے ایران کی جوہری صلاحیتوں کی مکمل تباہی کی خبر دی تھی، لیکن بعد میں اپنے بیانات سے پیچھے ہٹ گئے۔

عالمی رائے عامہ میں ٹرمپ نفرت انگیز

اس پولیٹیکل سائنس پروفیسر نے زور دیا کہ خطے میں ٹرمپ کی جنگ افروزی کو امریکی عوامی رائے کی منفی موقف کا سامنا ہے اور بڑے شہروں میں جنگ کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے دیکھنے کو ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک اور دیگر شہروں میں بڑے مظاہرے ہوئے اور مظاہرین نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت میں نعرے بازی کی۔

سحر خمیس نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے واشنگٹن کو نیٹو اور یورپی یونین میں اپنے روایتی اتحادیوں سے دور کر دیا ہے، جو ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ جوئی پر کچھ یورپی ممالک کی تنقید میں واضح تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کا جنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ یکطرفہ طور پر اور اتحادیوں یا حتیٰ کہ امریکی کانگریس سے مشاورت کے بغیر کیا گیا، جبکہ امریکی آئین جنگ کے فیصلے سے پہلے ان سے مشاورت کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

عالمی معیشت پر منفی اثرات

اس سیاسیات کے ماہر کا کہنا ہے کہ جنگ نے عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر اشیاء اور توانائی سے منسلک پیداوار کی قیمتوں پر پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی معاشی بحران کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں خبردار کرتی ہے، اس کے علاوہ ایک طویل جنگ میں گھسنے کے خدشات بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ سحر نے امریکہ میں آنے والے وسط مدتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سروے ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کو ظاہر کرتے ہیں، یہاں تک کہ ریپبلکنز اور ان کے سابق حامیوں میں بھی، ان کے خلاف تنقید کا حصہ یہ ہے کہ جنگ امریکی کانگریس سے مشاورت کے بغیر شروع کی گئی، جس نے ملک کے اندر آئینی اور سیاسی بحثیں پیدا کر دی ہیں۔

امریکی حکمرانی کے ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیاں

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ حالات آنے والے انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی حکمرانی کی واپسی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کانگریس پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ٹرمپ کی بہت سی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں میں رکاوٹیں پیدا کر سکتا ہے۔

ٹرمپ کے غیر دانشمندانہ فیصلوں پر بین الاقوامی خدشات میں اضافہ

اس رپورٹ میں ٹرمپ دور میں امریکی خارجہ پالیسی کے بعض پہلوؤں جیسے وینزویلا کے جائز صدر نکولاس مادورو کا اغوا یا گرین لینڈ جزیرے کے الحاق کے بارے میں ان کے فیصلے پر بھی روشنی ڈالی گئی اور کہا گیا کہ ٹرمپ کی یہ پالیسیاں اور بیانات بین الاقوامی سطح پر وسیع خدشات پیدا کر چکے ہیں۔

جنگ کا طویل ہونا، امریکہ کے نقصانات میں اضافہ کرے گا

سحر نے زور دیا کہ ایران کے خلاف جنگ کا طویل عرصے تک جاری رہنا امریکہ کے سیاسی، معاشی اور سفارتی نقصانات کو بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایک مختصر اور تیز جنگ کے خواہاں تھے جو ان کے مقاصد کو حاصل کر لے، لیکن یہ توقعات پوری نہیں ہوئیں۔

الجزیرہ نے اس رپورٹ میں اس سیاسیات کے ماہر کے بیانات کی بنیاد پر زور دیا کہ امریکی انٹیلیجنس رپورٹوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایرانی حکمرانی کی کمزوری یا اس کے قریب مستقبل میں خاتمے کے کوئی آثار موجود نہیں ہیں۔

مشہور خبریں۔

آرئیل آپریشن صیہونی سیکورٹی سسٹم کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا:صیہونی اخبار

?️ 4 مئی 2022سچ خبریں:عبرانی روزنامے کا کہنا ہے کہ آپریشن ایریل اسرائیل کے سیکیورٹی

زیلنسکی پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے: امریکی انٹیلی جنس اہلکار

?️ 14 اپریل 2023سچ خبریں:ایک ریٹائرڈ امریکی انٹیلی جنس افسر اسکاٹ رائٹر نے خبردار کیا

اتحادی حکومت کا آئندہ انتخابات سےقبل ووٹ پکے کرنے کا ایک اور منصوبہ سامنے آ گیا

?️ 11 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے ووٹ بینک بڑھانے کے لیے نوکریاں

ٹرمپ کی مقبولیت میں شدید کمی پر لائیو شو میں سی‌ان‌ان اینکر انگشت بہ دندان

?️ 30 مئی 2026سچ خبریں:سی‌ان‌ان کی تازہ رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں

مسلح افواج نے قوم کو نیا اعتماد دیا‘ دشمن کی ہر پراکسی کو خاک میں ملا دیا جائے گا، فیلڈ مارشل

?️ 18 اکتوبر 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا کہنا ہے

ہیبرون میں فلسطینی جنگجوؤں کی کارروائی میں ایک صہیونی زخمی

?️ 4 مارچ 2023سچ خبریں:مقبوضہ مغربی کنارے میں ہیبرون کے جنوب میں فلسطینی استقامت کاروں

ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 0.6 فیصد تک گرنے کا انتباہ

?️ 5 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ایشیائی ترقیاتی بینک  نے موجودہ سیاسی بحران، سیلاب

24 ویں ’یومِ تکبیر‘ پر وزیر اعظم کا پیغام

?️ 28 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کامیاب جوہری تجربے کو 24

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے