عمان اجلاس کی کامیابی کے امکانات 6 وجوہات کی بنا پر روشن: عطوان

عمان اجلاس

?️

سچ خبریں:معروف عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ صلالہ میں ایران اور 6 خلیجی عرب ممالک کے اجلاس کی کامیابی کے امکانات 6 اہم وجوہات کی بنا پر زیادہ ہیں۔

معروف عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ پیر کے روز عمان کے شہر صلالہ میں ایران اور خلیج فارس تعاون کونسل کے 6 عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے اجلاس کی کامیابی کے امکانات 6 اہم وجوہات کی بنا پر بہت زیادہ ہیں۔

رائے الیوم کے مطابق عبدالباری عطوان نے اپنے تجزیہ میں لکھا کہ صلالہ میں ہونے والا یہ اجلاس اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے اور طویل عرصے سے مؤخر ہونے کے بعد منعقد ہورہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اجلاس ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کو درست سمت میں لانے کی ایک اہم کوشش ہے۔

عطوان نے پہلی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات پہلی بار خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن عرب ممالک اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان براہ راست اور آمنے سامنے ہورہے ہیں اور اس عمل میں امریکی مداخلت یا دھمکیوں کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

 ان کے بقول امریکہ ایک جارح ملک ہے جو فرقہ وارانہ اور سیاسی اختلافات کے بیج بونے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فراہم کرنے کے نام پر خلیجی عرب ممالک سے بلیک میلنگ کے ذریعے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔

دوسری وجہ کے طور پر عطوان نے کہا کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ امریکہ اپنے اہداف، بالخصوص ایران میں نظام کی تبدیلی اور اس کے جوہری پروگرام کی تباہی، حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

 ان کے مطابق یہ ناکامی ایران کی میدان جنگ میں مزاحمت، اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے اور کسی قسم کی رعایت نہ دینے کا نتیجہ ہے، جبکہ تہران کو ایک ہی وقت میں امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ کا سامنا رہا۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ عطوان کے مطابق خلیجی عرب ممالک اس جنگ کے سب سے بڑے نقصان اٹھانے والے بن چکے ہیں، جو اب اپنے چھٹے ماہ میں داخل ہوچکی ہے۔

 انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے بیشتر ممالک اپنی آمدنی کا ایک ڈالر بھی قومی خزانے میں جمع نہیں کراسکے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کی جانب سے اپنے مطالبات، بالخصوص بحری و اقتصادی محاصرے کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی، پر اصرار کے باعث وہ تیل اور گیس برآمد نہیں کر پارہے۔

عطوان نے کہا کہ جنگ سے قبل خلیجی ممالک روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمد کرتے تھے، لیکن امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی بحری جہازوں سمیت امریکی فوجی طاقت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں، چاہے طاقت کے ذریعے ہو یا مذاکرات کے ذریعے، ناکام رہی ہے۔

ان کے مطابق بعض خلیجی ممالک نے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے سینکڑوں ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے ہیں جبکہ متعدد ترقیاتی منصوبے بھی روک دیے گئے ہیں۔

چوتھی وجہ بیان کرتے ہوئے عطوان نے کہا کہ بعض ثالث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے خوفزدہ تھے اور وہ دراصل پیغام رساں کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکی مطالبات اور دباؤ ایران تک پہنچا رہے تھے۔ اس لیے ان کے بقول وہ مکمل طور پر غیر جانب دار نہیں تھے۔

پانچویں وجہ عمان کی پوزیشن ہے۔ عطوان کے مطابق عمان خطے کے تمام فریقوں کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات اور علاقائی ممالک کے درمیان اپنی متوازن حیثیت کے باعث مذاکرات کے لیے زیادہ موزوں راستہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمان خود خلیج فارس کے خطے کا حصہ ہے، اس لیے ایران اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان اس ملک کے ذریعے ہونے والی بات چیت کو ایک طرح کا خاندانی مکالمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

عطوان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا اور مسقط میں ہونے والے سابقہ مذاکرات میں عمان کے کردار کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ عمان کی ثالثی میں ہونے والی ان کوششوں کے نتیجے میں فریقین کے لیے قابل قبول معاہدہ طے پانے کا امکان موجود تھا، لیکن یہ عمل روک دیا گیا۔

 ان کے مطابق اسرائیل نے ان کوششوں کی ناکامی میں کردار ادا کیا، کیونکہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی معاہدے اور جنگ کے خاتمے کا خواہاں نہیں تھا بلکہ کشیدگی کا تسلسل چاہتا تھا۔

6۔ چھٹی وجہ کے طور پر عطوان نے کہا کہ خلیجی ممالک اب غفلت کی نیند سے بیدار ہوچکے ہیں اور انہیں احساس ہوگیا ہے کہ امریکہ اور حتیٰ کہ اسرائیل بھی ان کی حفاظت نہیں کرسکتے۔

 ان کے مطابق خلیجی ممالک نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ وہاں موجود امریکی فوجی اڈے، جن میں سے بیشتر مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں، بالخصوص بحرین اور کویت میں، دراصل مالی بلیک میلنگ کا ذریعہ ہیں۔ بحرین نے پیر کے روز صلالہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عطوان نے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر ٹرمپ کے مئی 2025 میں 3 خلیجی ممالک کے پہلے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر 5 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کے معاہدوں کے ساتھ واپس گئے، جبکہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو کروڑوں ڈالر مالیت کے تحائف بھی دیے گئے، جن میں تقریباً 400 ملین ڈالر مالیت کا صدارتی طیارہ بھی شامل تھا۔

عطوان نے مزید لکھا کہ عمان کے سلطان ہیثم بن طارق نہ صرف خطے کے تمام فریقوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی وجہ سے بلکہ اپنی سیاسی بصیرت، تدبر، سفارت کاری اور خلیجی دارالحکومتوں کے ساتھ مشاورت کے باعث اس اجلاس کے انعقاد کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خلیجی ممالک ہی شاید اس کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے بن جائیں، خاص طور پر اگر صلالہ اجلاس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر ہی سہی، دوبارہ کھولنے کا معاہدہ ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہوسکے گی۔

عطوان نے افسوس کا اظہار کیا کہ مصر اور اردن کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی، اگرچہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان دونوں ممالک کا آبنائے ہرمز سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔

 انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں ایک اور تاریخی مفاہمتی اجلاس منعقد ہوگا جس میں مصر، اردن، خلیجی عرب ممالک اور ایران شریک ہوں گے۔

رائے الیوم کے تجزیہ کار نے آخر میں امید ظاہر کی کہ یمن اور وہاں جاری جنگ کو صلالہ اجلاس کے ایجنڈے میں مرکزی حیثیت دی جائے گی۔ ان کے مطابق عمان کے سلطان کو تمام فریقوں کا اعتماد حاصل ہے اور امید ہے کہ یہ اجلاس عرب ممالک اور ایران کے درمیان مفاہمت اور قربت کا ذریعہ بنے گا اور خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی مداخلت اور اختلافات کو ہوا دینے کی کوششوں کے دروازے بند کرے گا۔

مشہور خبریں۔

پاکستان کی مقبوضہ کشمیر 4 کشمیریوں کے قتل کی شدید مذمت

?️ 16 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) بھارتی افواج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں 4کشمیریوں کے

وزیراعلی سندھ کا جاں بحق افراد کے ورثاء کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کا اعلان

?️ 19 جنوری 2026کراچی (سچ خبریں) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ میں

زیادہ سے زیادہ دباؤ سے زیادہ سے زیادہ پابندیوں تک؛ ایران پر امریکی پابندیاں کیوں ناکام ہوتی ہیں؟

?️ 29 اگست 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکی پابندیوں، چین اور روس کے کردار، 2018

امریکی سینیٹر کی قرارداد کا بنیادی مرکز کہاں ہے ؟

?️ 17 دسمبر 2023سچ خبریں:امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے محکمہ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے

غزہ میں بھوک اور نسل کشی, مغرب کی حمایت سے عربوں کی خاموشی اور ذلت تک

?️ 28 جولائی 2025غزہ میں بھوک اور نسل کشی, مغرب کی حمایت سے عربوں کی

دیا مرزا کے تعریفی کلمات پر پریانکا چوپڑا کا ردعمل

?️ 25 دسمبر 2021ممبئی ( سچ خبریں) بالی ووڈ میں دیسی گرل کی شہرت رکھنے

لبنان اور صہیونی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کی 8 خطرناک شقیں

?️ 30 جون 2026سچ خبریں:قطری ویب سائٹ عربی 21 نے لبنان اور صہیونی حکومت کے

غزہ میں قحط اور بھوک کی وجہ سے 5 سال سے کم عمر کے بچوں کی موت

?️ 25 فروری 2024سچ خبریں:فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں غزہ کی پٹی میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے