غزہ میں بھوک اور نسل کشی, مغرب کی حمایت سے عربوں کی خاموشی اور ذلت تک

غزہ

?️

غزہ میں بھوک اور نسل کشی, مغرب کی حمایت سے عربوں کی خاموشی اور ذلت تک
غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی طرف سے جاری بربریت اور نسل کشی پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر مغربی طاقتیں اور عرب حکمران بدستور خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کو یقین ہے کہ اسے جو کھلی چھوٹ امریکہ اور مغرب نے دے رکھی ہے، اس کی وجہ سے اس کے خلاف کوئی سنجیدہ قدم نہیں اُٹھایا جائے گا۔
غزہ: انسانی المیہ، دنیا کی بےحسی
غزہ میں بھوک، پیاس، بمباری، جبری نقل مکانی اور روزانہ کی بنیاد پر معصوم شہریوں کا قتل عام ایک منصوبہ بند نسل کشی ہے۔ سڑکوں پر عورتوں، بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں کو بے ہوش اور مرتے دیکھنا ایک ایسا منظر ہے جو قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی ہاتھوں سے ترتیب دی گئی سازش کا شاخسانہ ہے۔ یہ سب کچھ اُس وقت ہو رہا ہے جب عرب ممالک مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور مغرب کھلے عام اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
اسرائیل کی جارحیت، عرب حکمرانوں کی بے حسی
اسرائیل کی جانب سے وحشیانہ بمباری، زمین سوختہ پالیسی، عام شہریوں کی گرفتاری و تشدد، اسپتالوں، عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کی تباہی، حتیٰ کہ قبرستانوں تک کی بےحرمتی—یہ سب کچھ ایسے حالات میں ہو رہا ہے جب عرب حکمرانوں کی غیرت سوئی ہوئی ہے۔ نہ کوئی احتجاج، نہ عملی اقدام۔ کیا واقعی عرب دنیا اس قدر بےبس ہو چکی ہے کہ غزہ کے محصور شہریوں کو روٹی کا ایک ٹکڑا اور پانی کی ایک بوند دینے کی بھی استطاعت نہیں رکھتی؟
تاریخی خیانت: اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات
متعدد عرب ممالک نے حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ دعویٰ کیا گیا کہ ان تعلقات کے نتیجے میں فلسطینیوں کی حالت بہتر ہوگی، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے ان تعلقات کو اپنی جارحیت کے لیے "گرین سگنل” سمجھ لیا۔ نہ صرف بمباری میں اضافہ کیا، بلکہ غزہ کی مکمل آبادی کو بےدخل کرنے کے منصوبے بھی ترتیب دیے گئے۔
فلسطینیوں کو جلاوطنی پر مجبور کرنے کی کوشش
رپورٹس کے مطابق، اسرائیل مختلف ممالک بشمول مصر، افریقہ، یورپ اور ایشیا سے رابطے میں ہے تاکہ غزہ کے باشندوں کو پناہ گزینوں کے طور پر دوسرے ممالک میں دھکیلا جائے۔ اسرائیل، نہ صرف خوراک اور پانی روک کر بلکہ انہیں سمندر تک رسائی سے بھی محروم کر کے غزہ سے مکمل انخلا پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔
مغربی دوغلاپن انسانی حقوق یا مفادات؟
مغربی دنیا، خاص طور پر امریکہ، اسرائیل کو مکمل فوجی، مالی اور سفارتی مدد فراہم کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں، حتیٰ کہ جنگی جرائم کی تفتیش کرنے والے افسران تک کو اسرائیل نے دھمکیاں دیں اور انہیں یہودی دشمن قرار دیا۔ فرانچسکا آلبانیز، اقوامِ متحدہ کی ایک خصوصی نمائندہ، جنہوں نے اسرائیل کے خلاف ٹھوس شواہد فراہم کیے، اُن پر امریکی حکام پابندیاں لگانے کی بات کر رہے ہیں۔
اسرائیل کا پیغام ہم سب پر غالب ہیں
اسرائیل کا رویہ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور عرب دنیا کے لیے ایک کھلا پیغام ہے کہ وہ کسی بھی ملک پر حملہ کر سکتا ہے، اور کوئی اسے روکنے والا نہیں۔ جب تک امریکہ اور مغرب کی پشت پناہی اور عربوں کی خاموشی قائم رہے گی، اسرائیل کو کسی قانون کا خوف نہیں۔

مشہور خبریں۔

مصر فرانس سے 6 باراکوڈ آبدوزیں خریدنے کا خواہاں

?️ 9 ستمبر 2022سچ خبریں:      افریقہ انٹیلی جنس ویب سائٹ نے حال ہی

ٹیکنوکریٹ حکومت کو ہرگز قبول نہیں کریں گے، فواد چوہدری

?️ 28 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا

صہیونیوں کے 5 بڑے چیلنج/ اسرائیلی فوج کسی جنگ میں داخل ہونے کو تیار نہیں

?️ 13 دسمبر 2022سچ خبریں:نئے مرحلے میں صیہونیوں کو درپیش بہت سے اندرونی اور بیرونی

امریکہ نے ایران پر حملہ کیوں کیا؟

?️ 22 جون 2025 سچ خبریں:امریکی حملہ ایران کی جوہری تنصیبات پر ایک ناکام اور

حکومت کا وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے خلاف کارروائی پر غور

?️ 19 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے عمران خان کے قافلے میں سرکاری پروٹوکول

گوگل پلے سٹور پر مشکوک اور غیر محفوظ اینڈرائیڈ ایپلی کیشنز موجود ہونے کا انکشاف

?️ 2 مئی 2024کیلیفورنیا: (سچ خبریں) گوگل پلے سٹور پر مشکوک اور غیر محفوظ اینڈرائیڈ

زخمی اسرائیلیوں کی تعداد 964 تک پہنچی 

?️ 26 مئی 2026 سچ خبریں: صہیونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے

بیرنز نے پاکستان کی معاشی بحالی کو منی معجزہ قرار دیا ہے۔ احسن اقبال

?️ 15 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے