امریکہ اور اسرائیل کی نئی خطرناک سازش؛ لبنان و شام کے دروازے سے گریٹر اسرائیل منصوبہ آگے بڑھانے کی کوشش

امریکہ اور اسرائیل کی نئی خطرناک سازش

?️

سچ خبریں:عبدالباری عطوان نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل لبنان و شام کو ضم کر کے جولانی کی سربراہی میں ایک تابع حکومت قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تاکہ حزب اللہ، حماس اور خطے کی مزاحمتی تحریکوں کو کمزور کیا جا سکے اور گریٹر اسرائیل منصوبے کا راستہ ہموار ہو۔

فلسطینی نژاد معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے لبنان اور شام کے خلاف تیار کی گئی ایک خطرناک منصوبہ بندی پر شدید انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں طاقتیں خطے میں اپنے حتمی منصوبے — یعنی گریٹر اسرائیل — کے راستے کو ہموار کرنے کے لیے لبنان اور شام کو ایک نئی ساخت میں ضم کرنے کی راہ بنا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکہ اور اسرائیل کا لبنان اور شام کے ذریعے خطے کے لیے پریشان کن خواب

عطوان نے روزنامہ رأی الیوم کے اپنے اداریے میں امریکی حکومتی مشیر تام باراک کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ گفتگو محض سیاسی لغزشِ لسان نہیں بلکہ ایک باقاعدہ منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد لبنان اور نئی شام کو ایک ایسی حکومت کے تحت متحد کرنا ہے جس کی سربراہی امریکہ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ ابومحمد جولانی کرے۔

ٹام باراک کے خطرناک بیانات — منصوبے کی جھلک

عطوان کے مطابق ٹام باراک نے دوحہ میں منعقدہ اجلاس میں نئی شام اور لبنان کے انضمام کا تذکرہ انتہائی جوش سے کیا اور جولانی کو اس منصوبے کی سربراہی کے لیے موزوں قرار دیا۔
یہ پہلی بار نہیں کہ باراک نے ایسی بات کی ہو؛ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کی ٹرمپ حکومت اور اسرائیلی قیادت اس منصوبے پر طویل عرصے سے کام کر رہی ہیں۔

اس بڑے منصوبے کی بنیاد زبردستی امن (Peace by Force) کے نظریے پر رکھی گئی ہے، وہی نظریہ جسے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتنیاهو برسوں سے خطے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
اس منصوبے کا مقصد عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی (Normalization) پر مجبور کرنا اور رفتہ رفتہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔

پہلا قدم ؛حزب اللہ اور حماس کا غیر مسلح کرنا

عطوان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کا سب سے بڑا ہدف لبنان میں حزب اللہ اور فلسطین میں حماس کو غیر مسلح کرنا ہے۔
ان کے نزدیک حزب اللہ، حماس اور یمن کی مزاحمت اس بڑے منصوبے کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اسی لیے امریکہ چاہتا ہے کہ مذاکرات یا فوجی دباؤ کے ذریعے اس رکاوٹ کو جلد از جلد ہٹا دیا جائے۔

لبنان کو شام میں ضم کرنے کا اصل مقصد کیا ہے؟

یہ منصوبہ صرف سیاسی اتحاد نہیں بلکہ:

  • لبنان کی موجودہ ریاستی ساخت کو ختم کرنا
  • طائفہ جاتی نظام کو توڑ کر اسے نئی شناخت دینا
  • ایک ایسی حکومت قائم کرنا جو جولانی کی سربراہی میں امریکہ–اسرائیل کے مفادات کے مطابق ہو

اس نئے نظام کے تحت خطے میں ایک بڑا سکیورٹی اسٹرکچر قائم کیا جائے گا جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ عام کاری کو تیزی سے آگے بڑھانا ہے۔

جنگ بندی کی خلاف ورزیاں — اسرائیلی دباؤ کی حکمت عملی

عطوان نے نشاندہی کی کہ اسرائیل نے لبنان میں آتش‌بس معاہدے کی اب تک 7 ہزار سے زیادہ خلاف ورزیاں کی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان، بقاع، ہرمل اور ضاحیہ پر مسلسل حملے جاری ہیں۔
یہ تمام اقدامات لبنانی حکام کو مجبور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ امریکی–اسرائیلی شرائط مان لیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا:

  • اسرائیل ابھی تک جنوبی لبنان کے پانچ علاقوں پر قابض کیوں ہے؟
  • کیا لبنان سمندری سرحدی معاہدے کے بعد اپنے سمندری تیل و گیس کے ذخائر سے فائدہ اٹھا سکا؟
  • کیا اسرائیل نے جنوبی شام پر قبضہ نہیں کر رکھا اور کیا وہ مزید وسعت کا خواہاں نہیں؟

لبنان کی حکومت کا جھکاؤ — پہلی شکست

عطوان نے دکھ کے ساتھ لکھا کہ لبنانی حکام اسرائیلی دباؤ کے آگے جھک رہے ہیں۔
ان کے مطابق لبنان کا سرحدی مذاکرات میں شرکت پر رضامند ہونا پہلی شکست ہے، کیونکہ یہ فیصلہ عوامی مشاورت کے بغیر کیا گیا۔

امریکی سرپرستی میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں سکیورٹی اور اقتصادی سمجھوتوں پر اتفاق ہوا، اور اگلا اجلاس 19 دسمبر کو طے ہے۔
لبنان کی حکومت عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ عام کاری نہیں ہے، لیکن عطوان کے مطابق یہ کھلا فریب ہے۔

گریٹر اسرائیل — منصوبے کا اگلا مرحلہ

عبدالباری عطوان نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کا اصل ہدف یہ ہے کہ:

  • لبنان
  • شام
  • فلسطین
  • عراق کا بڑا حصہ
  • شمالی سعودی عرب
  • حتیٰ کہ مکہ، مدینہ اور جزیرہ سینا کے حصے بھی

ایک وسیع امن معاہدے اور سیاسی ڈھانچے کے تحت اسرائیل کی بالادستی میں شامل کر دیے جائیں۔

یہ عمل آہستہ آہستہ، قدم بہ قدم آگے بڑھایا جا رہا ہے جبکہ عرب ملکوں کی عسکری قوت تیزی سے کمزور ہو رہی ہے۔

آخر میں عطوان کا انتباہ — ایک واحد استثنا: غزہ کی مزاحمت

مزید پڑھیں:واشنگٹن اور تل ابیب کا لبنان کے لیے خطرناک منصوبہ

عطوان نے اپنے اداریے کے اختتام پر لکھا کہ:

  • عرب دنیا اسرائیل سے خوفزدہ ہو کر مکمل طور پر جھک چکی ہے
  • صرف ایک طاقت ہے جو اس ذلت آمیز قاعدے کو توڑ رہی ہے — غزہ کی مزاحمت

انہوں نے کہا کہ غزہ نے مسلم امہ کی عزت کا ایک حصہ بچایا ہے اور وہ کبھی بھی پرچمِ تسلیم بلند نہیں کرے گی۔

مشہور خبریں۔

انتہا پسند گروہ امریکی کانگریس کے سامنے احتجاج کی تیاریوں میں مصروف

?️ 2 ستمبر 2021سچ خبریں:امریکہ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے سابق امریکی

اسرائیل کے لیے 2022 کو خونی سال کیسے کہا گیا؟

?️ 1 جنوری 2023سچ خبریں:سال 2022 صیہونیوں کے لیے تلخ رہا، تقریباً 30 صیہونیوں کی

14 بچوں کی بازیابی کے حکم کے ساتھ 13 اپریل کو پیش رفت رپورٹ طلب

?️ 8 مارچ 2021پنجاب {سچ خبریں} سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ بچوں کی عدم بازیابی پر

عالمی خاموشی کے درمیان اسرائیل نسل کشی سے لفطف اندوز ہو رہا ہے

?️ 21 جولائی 2025عالمی خاموشی کے درمیان اسرائیل نسل کشی سے لفطف اندوز ہو رہا

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے خطے میں مکمل جنگ کے خطرے سے خبردار کر دیا

?️ 11 جون 2026سچ خبریں: اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوٹرس نے امریکہ کے ایران

طالبان نے بائیڈن حکومت پر لگایا چوری کا الزام

?️ 12 فروری 2022سچ خبریں:  طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے کہا کہ افغان بینکوں

گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف

?️ 27 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ

صیہونی ریاست کا زوال قریب

?️ 3 جون 2022حزب اللہ کے سابق سکریٹری جنرل شہید سید عباس الموسوی کی بہن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے