مزاحمتی محور کے خلاف عربی عبرانی بلاک کا افسانہ کہاں گیا؟

صیہونی

?️

سچ خبریں: حماس کے کامیاب آپریشن اور صیہونی حکومت کے دفاعی-سکیورٹی ڈھانچے کو لگنے والے تاریخی دھچکے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ تل ابیب عرب ممالک کو سکیورٹی کارڈ پہلے کی طرح زیادہ قیمت پر فروخت نہیں کر سکتا۔

7 اکتوبر بروز اتوار صبح سویرے شروع ہونے والے راکٹ حملے اور حماس کی فوجی شاخ کی مقبوضہ علاقوں کے اندر تک رسائی بہت سے علاقائی اور بین الاقوامی میڈیا کی پہلی سرخی تھی،دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بدھ 18 اکتوبر تک صیہونی ہلاکتوں کی تعداد 1400 سے تجاوز کر گئی جبکہ تقریباً 200 اسرائیلی آباد کاروں اور فوجیوں کو فلسطینی مجاہدین نے پکڑ کر غزہ کی پٹی میں منتقل کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: الاقصیٰ طوفان اور صیہونی حکومت کے عرب ممالک کے ساتھ سازش

مزاحمت کے پیشگی حملے کے جواب میں صیہونی فوج نے غزہ کی پٹی پر زبردست بمباری شروع کی، جس میں اب تک 3300 فلسطینی شہید ہوئے ہیں، فریقین کے درمیان تنازعہ کا دائرہ اتنا وسیع اور گہرا ہے کہ بہت سے ماہرین مقبوضہ علاقوں میں طویل جنگ کی بات کرتے ہیں۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ اس تاریخی جنگ نے نہ صرف مقبوضہ فلسطین اور شامات کے علاقے کی اندرونی صورتحال کو متاثر کیا ہے بلکہ اس سے ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات معمول پر آنے میں تاخیر ہوگی، اس تجزیے میں ہم صیہونی حکومت کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل اور ایران کے خلاف عربی عبرانی اتحاد کی تشکیل کے مستقبل پر طوفان الاقصیٰ آپریشن کے اثرات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

صیہونی حکومت کے دفاعی انٹیلی جنس نظام کے غیر موثر ہونے کا ثبوت
بعض عرب ممالک اور صیہونی حکومت کے درمیان باضابطہ امن معاہدہ طے پائے جانے کے اعلان کے بعد تل ابیب نے ایران کے خطرے اور خلیج فارس کے علاقے میں مزاحمت کے محور کو اجاگر کرتے ہوئے تہران کے خلاف ایک متحد دفاعی بلاک بنانے کی کوشش کی ہے جس کے لیے ان نے امریکہ، مصر، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین اور صیہونی حکومت کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں النقب سکیورٹی اجلاسوں کا انعقاد کیا جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی ڈھانچے پر بات چیت کرنا اس سمت میں پہلا قدم تھا، تاہم غزہ کی پٹی کے مضافاتی علاقوں پر 15 میل اندر تک تحریک حماس کے مشترکہ حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی صیہونی حکومت کی اعلیٰ فوجی انٹیلی جنس طاقت کا افسانہ پورے خطے میں مٹی میں مل گیا۔

مزید پڑھیں: عرب ممالک کو پھنسانے کی ایک اور صیہونی چال

مزاحمتی تحریک کو ہلکا سمجھنا؛ نیتن یاہو کی اسٹریٹجک غلطی
صیہونی فوج اور جہاد اسلامی کے درمیان تنازعہ صیہونیوں کے درمیان اس غلط تجزیہ کا باعث بنا کہ فلسطینی گروہوں کے درمیان عدم ہم آہنگی اور اختلاف پیدا ہو گیا ہے لہذا اس کے بعد اسے غزہ سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا، اس کے بعد مزاحمتی محور کے خلاف موساد کے کچھ حفاظتی اقدامات اور شام میں فوجی لاجسٹک اہداف پر صیہونی جنگی طیاروں کے حملوں نے قابض فوج کے اعتماد میں اضافہ کیا ۔

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن کو خطرہ
2017 کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی شکست اور ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد صدی کی ڈیل نیز عرب ممالک اور صیہونی حکومت کے درمیان امن کا معاملہ امریکی خارجہ پالیسی کا ایک اہم کیس بن گیا ، تاہم بائیڈن کی حکومت آنے کے بعد اگرچہ محمد بن سلمان اور بنیامین نیتن یاہو کے ڈیموکریٹس کے ساتھ مثبت تعلقات نہیں تھے اور وہ جمال خاشقجی کے قتل جیسے مسائل کی وجہ سے امریکی سیاستدانوں کی تنقید کا شکار تھے لیکن امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی ٹیم نے بتدریج ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ضروری بنیاد فراہم کی۔

خلاصہ
اسلامی جمہوریہ ایران کی رائے کو مدنظر رکھے بغیر مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے نظام میں کوئی تبدیلی یا قیام ممکن نہیں،حالیہ برسوں میں واشنگٹن نے صیہونی حکومت اور عرب ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ایران کو خطے کے سکیورٹی انتظامات سے باہر کرنے اور تہران کو اسٹریٹجک تنہائی کی پوزیشن میں ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن اسے ایک فیصد بھی کامیابی نہیں ملی

مشہور خبریں۔

لبنان کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف شکایت

?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: لبنان نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل

بلوچستان میں سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کی کارروائی میں 4 دہشت گرد ہلاک

?️ 11 ستمبر 2025کوئٹہ (سچ خبریں) بلوچستان کے ضلع پشین میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور

ذخیرہ اندوزوں کے ساتھ کوئی نرمی نہ کی جائے

?️ 12 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) ملک میں کھاد کی ذخیرہ اندوزی سے ربیع

اسرائیل کا ایک سال کا کارنامہ؛ خواتین اور بچوں کا قتل

?️ 29 اکتوبر 2024سچ خبریں: تحریک حماس کے سینیئر رہنما طاہر النونو نے اعلان کیا

نیب ترامیم کالعدم قرار دیے جانے کے بعد بند کرپشن کیسز بحال

?️ 22 ستمبر 2023لاہور: (سچ خبریں) پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے قومی احتساب

دہشتگردی کیخلاف پوری قوت کے ساتھ بھرپور کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی، وزیراعظم

?️ 16 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا

پاک-برطانیہ کثیرالجہتی روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں، شہباز شریف کا برطانیہ روانگی سے قبل بیان

?️ 3 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان

مولا بخش چانڈیو کا شہباز شریف حکومت کو اپنی حکومت ماننے سے انکار

?️ 15 مئی 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما مولا بخش چانڈیو نے شہباز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے