عربوں کے ساتھ سمجھوتے کے معاہدے کو وسعت دینے کا صیہونی چارجانبی منصوبہ

چارجانبی

?️

سچ خبریں:ایک صہیونی عہدیدار نے عرب ریاستوں کے ساتھ سفارتی تعلقات بڑھانے کے اسرائیل کے نئےچارجانبی منصوبے کا انکشاف کیا۔
الخلیج الجدید کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر صہیونی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی وزارت خارجہ عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ابراہیم نامی معاہدے کو آگےبڑھانے کے لیے ایک چارجانبی منصوبہ رکھتی ہے،صیہونی وزارت نے اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان خفیہ تعلقات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ٹائمز آف اسرائیل نے صیہونی وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ کے سابق ڈائریکٹر رگف کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کا تمام عرب ممالک کے ساتھ کسی نہ کسی طرح کا تعلق ہے، وہ جو برسلز میں یورپی یونین میں اسرائیلی مشن کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ پچھلے 20 سالوں میں اسرائیلی وزارت خارجہ عرب دنیا کے تقریبا ہر ملک کے ساتھ رابطے میں ہے۔

اسرائیلی عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے چار بنیادی ستونوں کی ضرورت ہے:
1۔ سفارتی یا دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا ۔
2۔ سمجھوتہ کرنے والے ممالک کے ساتھ نجی شعبے کی تجارت کو فروغ دینا ۔
3۔ بین الاقوامی تنظیموں اور امریکہ کا تعاون حاصل کرنا۔
4۔ نئے شراکت داروں تک رسائی حاصل کرنا۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ، یہ وہ سبق ہیں جو محکمہ خارجہ نے مصر اور اردن کے ساتھ کئی دہائیوں کے سمجھوتے سے سیکھے ہیں،رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے تاکہ اردن اور مصر کے ساتھ اپنے تعلقات میں واقع ہونے والےخلا سے بچ سکے۔

، اسرائیلی وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ کے سابق ڈائریکٹر نے تعلقات معمول پر لانےکے معاہدے سے پہلے اور بعد میں ابوظہبی کے بارے میں نقطہ نظر کو تبدیل کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہیں چھپایا اور ہمیں مشکل صورتحال میں نہیں ڈالا۔

انہوں نے مزید کہاکہ جب میں نے 2014 میں ابو ظہبی میں بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر کا سفر کیا تو میں نے ہوائی اڈے کے اندر سائیڈ روم میں 40 منٹ تک انتظار کیا اور پھر ایک خاص ہوٹل میں منتقل کر دیا گیا ،تاہم یہ رویہ بعد میں تبدیل ہوا اورمیں نے صرف 10 منٹ میں ابوظہبی ہوائی اڈے سے بغیر کسی مشکل کے باہر آگیا۔

 

مشہور خبریں۔

ٹرائل یہاں ہو یا وہاں کیا فرق پڑتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل کے فوجی عدالتوں کے کیس میں ریمارکس

?️ 4 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندو خیل

صہیونی کی جانب سے ماہ رمضان سے قبل مسجد اقصیٰ پر سخت پابندیاں

?️ 17 فروری 2026صہیونی کی جانب سے ماہ رمضان سے قبل مسجد اقصیٰ پر سخت

’پچھلے 5 سالوں میں والدین اور بہن کا انتقال ہوا‘، عمران عباس آبدیدہ ہوگئے

?️ 7 اپریل 2024کراچی: (سچ خبریں) نامور فلموں اور ڈراموں کے ذریعے اپنی پہچان بنانے

ایف آئی اے نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کے لیے پی ٹی آئی رہنماؤں کو طلب کرلیا

?️ 7 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی

مسجد الاقصی میں صیہونی عسکریت پسندوں کی فلسطینیوں سے جھڑپ

?️ 22 اپریل 2022سچ خبریں:  فلسطینی میڈیا نے آج جمعہ کی صبح اطلاع دی ہے

طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے چین اور پاکستان کے اقدامات

?️ 6 مئی 2023سچ خبریں:افغانستان میں طالبان کی حکومت کو قائم ہوئے ڈیڑھ سال سے

جسٹس عیسیٰ کےخلاف ریفرنس واپسی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس کریں گے

?️ 9 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال 10 اپریل

جو یوکرین کی مدد نہیں کرے گا اس کے ساتھ کیا کریں گے؛یورپی یونین کا انتباہ

?️ 29 جنوری 2024سچ خبریں: ایک برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی یونین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے