صیہونیوں کی جنت

صیہونیوں

?️

سچ خبریں:بیشتر مسلم ممالک کے عوام کی مخالفت کے باوجود اور متحدہ عرب امارات کا صیہونی قابض حکومت کے درمیان سمجھوتہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات صہیونیوں کے لیے جنت بن چکا ہے۔
ابوظہبی میں اسرائیلی سفارت خانہ اور دبئی میں اس کے قونصل خانے کا افتتاح گذشتہ منگل صیہونی حکومت کے پہلے عہدیدار ، نئے اسرائیلی وزیر خارجہ ،یئر لاپڈ کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے ساتھ ہوا جس کے بعد دونوں حکومتوں کے مابین تعلقات ڈپلومیسی کی سطح کے عروج پر پہنچ گئے اگرچہ دونوں حکومتوں کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کو 10 ماہ سے زہادہ نہیں ہوئے ہیں تاہم ان کے درمیان تعلقات کی وسعت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ، یہ واضح نہیں ہے کہ فلسطینیوں کے خون بدلے صہیونیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والے متحدہ عرب امارات کے کہاں تک جانے کا اراد رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے پر 15 ستمبر 2020کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے وائٹ ہاؤس میں صیہونی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ پر دستخط کیے جس کے بعد متحدہ عرب امارات کی حکومت نے گذشتہ 10 ماہ کے دوران صیہونیوں کو بہت ساری خدمات فراہم کیں جو عرب اور غیر عرب ممالک میں غیر معمولی ہیں،جبکہ علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق ان اقدامات نے متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کو عملی طور پر صہیونیوں کے غلاموں میں تبدیل کردیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی لیکس ویب سائٹ ، جو متحدہ عرب امارات کے اندر سے پردے کے پیچھے کی خبروں کو منظر عام پر لانے کے لئے مشہور ہے ، نے گذشتہ جمعہ کو اپنی تازہ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ پچھلے تین ماہ کے دوران تقریبا 5000 اسرائیلیوں نے متحدہ عرب امارات کی شہریت حاصل کی ہے، ان ذرائع کے مطابق انہیں ایسی دستاویزات معلوم ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلیوں نے متحدہ عرب امارات ، خاص طور پر دبئی اور ابو ظہبی میں سرمایہ کاری کے بارے میں اس مسئلے (شہریت کے قوانین میں تبدیلی) کا خیرمقدم کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام سرمایہ کاروں اور کاروباریوں کو ان کی اصل شہریت ترک کیے بغیر متحدہ عرب امارات کی شہریت حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں جو صیہونیوں کو شہریت دینے اور عرب ممالک کا سفر کرنے کے لئے انہیں گرین لائٹ فراہم کرنے کے لئے ایک اچھا پلیٹ فارم ہے جس کے تحت صیہونی خلیج فارس اور دیگر عربوں سے بغیر ویزا حاصل کیے یہاں آسکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے لیکس کے مطابق شہریت دینے کے لئے شرائط کو کم کرنے کے لئے متحدہ عرب امارات کے حکام کے اقدام نے ملک کے سوشل میڈیا پر ایک بہت بڑا تنازعہ کھڑا کردیا ہے ، اور صارفین نے اسرائیلیوں کے ذریعہ خلیج فارس میں جائیداد خریدنے کے لئے متحدہ عرب امارات کی شہریت کی پامالی کرنے کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے شہریت قانون میں ہونے والی تبدیلیوں پر متحدہ عرب امارات کی حزب اختلاف اور سماجی کارکنوں نے یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات کے حکومت کے اپنے میڈیا پلیٹ فارم میں بھی انھیں بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیاہےکیونکہ وہ اسے ملک کے آبادیاتی تناسب کے لئے خطرہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اماراتی صارفین نے لکھا ہے کہ غیر ملکیوں خصوصا اسرائیلیوں کو وسیع پیمانے پر شہریت دینے کا عمل متحدہ عرب امارات میں خفیہ طور پر انجام دیا جارہا ہے جبکہ اس ملک کے اصل باشندے بے گھر ، قید یا ان کی شہریت چھینی جارہی ہے۔

 

مشہور خبریں۔

اسرائیل کو بھاگنے نہ دیا جائے؛ اقوام متحدہ کے نام فلسطینیوں کے خطوط

?️ 23 مارچ 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندے نے زور دے کر کہا کہ

غزہ کی بحالی کی نگرانی کے لیے امریکی قیادت میں نیا کمانڈ سینٹر جلد فعال ہوگا

?️ 18 اکتوبر 2025غزہ کی بحالی کی نگرانی کے لیے امریکی قیادت میں نیا کمانڈ

اسرائیل نے حملہ کرکے زیادتی کی، ہم ایران کیساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ نواز شریف

?️ 16 جون 2025لاہور (سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز

غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے صیہونی حکومت پر دباؤ

?️ 13 اگست 2024سچ خبریں: ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اپنے امریکی ہم منصب انتھونی

مزاحمت، ایک صرف ایک فوجی ڈھانچے نہیں ہے: حماس

?️ 4 جون 2026سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے سینئر رہنما محمد نزال

ٹرمپ کے کینیڈا اور سعودی عرب کے لیے دستورات

?️ 25 جنوری 2025سچ خبریں: شمالی کیرولائنا کے دورے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ

داعشی رہنما افریقہ کے بڑے صحرا میں ہلاک؛ فرانسیسی صدر کا دعویٰ

?️ 16 ستمبر 2021سچ خبریں:فرانسیسی صدر نے دعویٰ کیا کہ عدنان ابو ولید الصحراوی داعشی

وزیر اعظم کی محمد بن سلمان سے ملاقات، 5 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری پیکج کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق

?️ 8 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سعودی مملکت کے ولی عہد اور وزیر اعظم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے