پاکستانی فلم انڈسٹری بھارتی شوبز کی توسیع تھی، واسع چوہدری

?️

لاہور: (سچ خبریں) معروف فلم لکھاری، ٹی وی میزبان اور اداکار واسع چوہدری کا کہنا ہے کہ دراصل پاکستانی فلم انڈسٹری بھارتی شوبز کی توسیع تھی، پہلے یہاں ایک ہی ملک ہوا کرتا تھا، فلموں میں کام کرنے والے لوگ بھی وہی تھے جو بعد میں کچھ پاکستان تو کچھ ہندوستان رہ گئے۔

واسع چوہدری نے حال ہی میں احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے شوبز انڈسٹری سمیت دیگر معاملات پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے اپنی ’جوانی پھر نہیں آنی‘ سمیت دیگر فلموں پر بھارتی فلموں کی کاپی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ایسی باتیں احمقانہ ہیں اور ایسی باتوں کا جواب دینا بھی فضول ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ جب انہوں نے ’جوانی پھر نہیں آنی‘ فلم لکھی، تب ان پر تنقید کی گئی کہ انہوں نے بھارتی اسٹائل کو کاپی کیا لیکن انہوں نے کسی بھی تنقید کا جواب نہیں دیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ’جوانی پھر نہیں آنی‘ 6 سے 7 ماہ میں لکھ کر مکمل کی تھی جب کہ ہدایت کار ندیم بیگ کی بھی وہ ہدایت کردہ پہلی فلم تھی۔

ان کے مطابق ’جوانی پھر نہیں آنی‘ نے 32 کروڑ روپے کی کمائی کی تھی لیکن اس سیریز کی دوسری فلم نے 50 کروڑ سے بھی زائد کمائی کی اور وہ سیریز کے طور پر فلمیں بنانے کے حق میں ہیں۔

واسع چوہدری نے پاکستانی فلموں پر بھارتی فلموں کی کاپی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دراصل پاکستان اور یہاں کی فلم انڈسٹری ہی بھارت کی توسیع ہے۔

انہوں نے دلیل دی کہ تقسیم سے قبل یہاں ایک ہی ملک تھا اور شوبز انڈسٹری میں کام کرنے والے لوگ بھی وہی تھے۔

اداکار کا کہنا تھا کہ تقسیم کے بعد پاکستان کی فلم انڈسٹری دراصل بھارتی شوبز انڈسٹری کی توسیع تھی۔

فلم لکھاری نے کہا کہ پاکستان کی پہلی فلم ’تیری یاد‘ جو کہ 1948 میں ریلیز ہوئی تھی، اس میں بھی وہی اسٹائل تھا جو کہ اس وقت کی بھارتی فلموں میں ہوتا تھا، کیونکہ تقسیم سے قبل ہندوستان اور پاکستان کے لوگ ایک ہی تھے، ان کی سوچ اور کام کرنے کا طریقہ بھی ایک ہی تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی فلموں کا کلچر اور اسٹائل ایک ہی تھا، ماضی میں مرحوم وحید مراد اور ندیم بھی درختوں کے گرد اسی طرح رقص کیا کرتے تھے جس طرح بھارتی اداکار کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں بھی پاکستانی فلموں میں آئٹم سانگ شامل ہوتے رہے ہیں لیکن وہ ایسے گانوں کو فلم کا حصہ بنانے کےحق میں نہیں۔

واسع چوہدری کے مطابق آئٹم سانگ کو ’اسپیشل سانگ‘ کہا جاتا تھا لیکن اسے بھارتی فلم انڈسٹری نے ’آئٹم‘ کا نام دیا اور ہم نے اسی نام کو کاپی کیا، کیوں کہ ہم محنت نہیں کرتے، ہم نے اس کے لیے دوسرے متبادل لفظ کی تلاش بھی نہیں کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ فلموں میں آئٹم سانگ شامل کرنے کے حق میں نہیں۔

میزبان اور اداکار نے یہ بھی کہا کہ وہ فلموں میں بہت زیادہ بولڈ رومانوی مناظر دکھانے کے حق میں بھی نہیں، جو کام گلے لگنے سے ہوسکتا ہے، اس کے لیے بوس و کنار دکھانا کیوں لازم ہے؟

انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہیرو اور ہیروئن کے درمیان رومانس دکھاتے وقت پس منظر میں عاطف اسلم کا رومانوی گانا چلے اور دونوں کو ہاتھوں میں ہاتھ ملا کر دکھایا جانا چاہیے، بہت زیادہ بولڈ مناظر دکھانے کی ضرورت نہیں۔

مشہور خبریں۔

لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر پہلی کرنل کمانڈنٹ بن گئیں

?️ 27 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)

عراق میں ترکی کے فوجی اڈے پر راکٹ حملہ

?️ 3 جنوری 2022سچ خبریں:عراق میں ترکی کی قابض فوج کے اڈے پر راکٹوں کی

ایران فنِ سوداگری میں فاتح قرار پایا:برطانوی اخبار

?️ 1 اپریل 2026سچ خبریں:برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ میں امریکی تجزیہ کار سڈنی بلومنٹل

جوہر ٹاؤن دھماکے میں بیرونی عناصر ملوث ہونے پر تحقیقات جاری

?️ 26 جون 2021لاہور(سچ خبریں) جوہر ٹاؤن دھماکے کے حوالے سےقانون نافذ کرنے والے اداروں

وال اسٹریٹ جرنل کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات میں ایک اور چیلنج

?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مرکزی بینک کے چیئرمین کی

پی پی 52 سمبڑیال میں انتخابی مہم کا آج آخری دن

?️ 30 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پی پی 52 سمبڑیال میں انتخابی مہم کا

بیرسٹر گوہر نے اسد مجید کا بیان دوبارہ ریکارڈ کرنے کا مطالبہ کردیا

?️ 21 مارچ 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے ڈونلڈ لو

بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمٰن کی ملاقات، مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے مشاورت

?️ 12 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے