نواز شریف، مولانا فضل الرحمن کی ملاقات، 8 فروری کو مل کر حریفوں سے مقابلہ کرنے کا عزم

?️

لاہور: (سچ خبریں) سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے لاہور میں سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف سے دو ہفتوں میں دوسری ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماؤں نے 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں حریفوں کا سامنا کرنے کے لیے ایک ساتھ آگے بڑھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کی پی ٹی آئی کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے صوبے خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ (ن) زیادہ تر جے یو آئی (ایف) پر انحصار کر رہی ہے، اور اس کا یقین ہے کہ اگر جمعیت علمائے اسلام (ف) ان کے ساتھ ہوگی تو بلوچوستان میں بھی مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مضبوط ہوجائے گی، مسلم لیگ (ن) نے سندھ میں بھی پیپلز پارٹی مخالف اتحاد تشکیل دیا، جس میں ایم کیو ایم پاکستان، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور جمعیت علمائے اسلام (ف) ان کے ساتھ شامل ہے۔

پیر کو ہونے والے اجلاس میں جے یو آئی(ف) کے ایک رہنما کے حالیہ بیان کے پس منظر میں منعقد کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن صدارتی امیدوار ہیں۔

جے یو آئی (ایف) کے ترجمان مولانا حمداللہ نے اتوار کو دعوی کیا تھا کہ 8 فروری کو چاہے پیپلز پارٹی جیتے یا مسلم لیگ(ن)، مولانا فضل الرحمٰن ہی پاکستان کے اگلے صدر ہوں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن اگلے انتخابات کے بعد صدر ارتی عہدہ سنبھالنے کے خواہشمند ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ مولانا کی بڑے عرصے سے خواہش رہی ہے اور حالیہ صورتحال کے پیش نظر نوازشریف کو ان کی خواہش ماننی پڑے گی کیونکہ وہ اس مرحلے پر اپنے قابل اعتماد اتحادی کو ناراض کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ تاہم ایک بار انتخابات ہونے کے بعد اسمبلیوں میں مسلم لیگ (ن) کی نشستوں کی تعداد کے مطابق صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے۔

جب مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب سے پوچھا گیا کہ کیا اجلاس میں صدارتی امیدوار کا معاملہ زیر بحث آیا تو ان کا کہنا تھا کہ نہیں اس معاملے پر گفتگو نہیں ہوئی۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیر کو ہونے والی ملاقات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ماڈل ٹاؤن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے مشاورت کر رہی ہے۔

انہوں نے انتخابات میں تاخیر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس 8 فروری کو انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے موجود ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل نومبر کے آخر میں بھی نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کی ملاقات ہوئی تھی، جہاں دونوں فریقین نے مستقبل میں مل کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس سے قبل اکتوبر میں بھی سربراہ جے یو آئی ایف نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ملاقات کی تھی، مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن نے مشاورت اور اشتراک عمل سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور کہا بحرانوں سے مل کر ہی نمٹا جاسکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

فرانس میں احتجاجی مظاہروں کی نئی لہر؛ یلو ویسٹ مظاہرین اور طلبہ سڑکوں پر

?️ 17 اکتوبر 2026سچ خبریں:فرانس کے دارالحکومت پیرس اور دیگر شہروں میں مہنگائی، ایندھن کی

ایران اور شمالی کوریا کے بارے میں امریکی جوہری پالیسی میں تضاد؛ٹرمپ کا اعتراف

?️ 30 ستمبر 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی

امریکہ کو ایران کے منطقی مطالبات کا جواب دینا چاہئے : بیجنگ

?️ 24 جون 2022سچ خبریں:   چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے ایرانی ہم منصب

امیر قطر اور صدر امارات کے درمیان اہم ملاقات

?️ 15 فروری 2026 سچ خبریں:قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور

صیہونیوں کے ساتھ سمجھوتے کے مخالفین کے ساتھ آل خلیفہ کا سلوک

?️ 12 دسمبر 2021سچ خبریں:بحرین کے مرکز برائے انسانی حقوق نے اپنی تازہ ترین رپورٹ

مذاکرات کے فوری نتیجے کی توقع رکھنا معقول نہیں : بقائی

?️ 1 مئی 2026 سچ خبریں:ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا

پولیس کی طرف بڑھنے والے ہاتھ توڑ دیں گے، نگران وزیر اعلیٰ پنجاب

?️ 20 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے