ہمارے اقدام سےغریب کو احساس ہوگا سیاستدان تنگی برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کفایت شعاری کے لیے ہمارے مشترکہ اقدام سے غریب شخص کو یہ احساس ضرور ہوگا کہ آج سیاستدان اور بیوروکریٹ صرف دکھانے کے لیے نہیں مگر دل سے کفایت شعاری، سادگی اور تنگی برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسلام آباد میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قوم کڑے امتحان اور چیلنج سے گزر رہی ہے اس لیے ہم سب کو مل کر کفایت شعاری کرنی چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وقت ہم سے پکار پکار کر کفایت شعاری، سادگی، قربانی اور ایثار کے جذبے کی تقاضا کر رہا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہر دور کی مشکلات میں نہ چاہتے ہوئے بھی غریب نے قربانی دی ہے، غریب مہنگائی میں پسا، بچوں کو ایک وقت کی روٹی دینے پر مجبور ہوا اور غریب شخص عید جیسے مواقع پر دوائی اور دودھ کے پیسوں سے بچوں کے لیے کپڑے خریدنے پر مجبور تھا۔

انہوں نے کہا کہ صاحب حیثیت لوگوں نے یقناً غریب لوگوں کی مدد میں اپنا حصہ ڈالا ہے مگر یہ سوالیہ نشان ہے کہ کیا سب نے اپنا حصہ ڈالا یا نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں رہنے کے بجائے ماضی سے سبق حاصل کرکے آج آگے بڑھنے کا فیصلہ کرنا ہے کیونکہ آج قوم کی توقع ہم سے اور قومی ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کی نظریں مخلوط حکومت پر ہیں مگر یہ کوئی مذاق نہیں ہے کہ مخلوط حکومت انتہائی کڑے امتحان میں فیصلے کر رہی ہے اور ملک کو اپنی سمت پر لانے کے لیے پوری توانائی سے کوشش کر رہی ہے لیکن اس کے لیے آج عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ چاہے کوئی وزیر، مشیر، معاون خصوصی ہے، چاہے کوئی بیوروکریٹ یا حکومتی عہدیدار ہے ہم سب کو پہلے اس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا پھر ہم اشرافیہ اور صاحب حیثیت لوگوں سے قربانی کی توقع کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں چیلنج قبول کرنے کے لیے کھڑا ہونا ہوگا تاکہ دنیا کو بھی بتائیں کہ پاکستانی قوم توانا قوم ہے اور پاکستانی حکومت ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہر قدم کو بروئے کار لائے گی اور کسی بھی قدم کو اٹھانے میں تعطل کا شکار نہیں ہوگی۔

انہوں نے کابینہ کے شرکا سے مخطاب ہوکر کہا کہ یقیناً آج کفایت شعاری کی جو پریزینٹیشن پیش کی جارہی ہے وہ عام آدمی یا یتیم انسان کو خوش نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس کے لیے مہنگائی کو کم سکے گی مگر اس کے اندر 75 برس سے ملک میں جو کچھ ہوتا رہا اس سے اس کا غصہ کم ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے مشترکہ اقدام سے غریب شخص یہ احساس ضرور ہوگا کہ آج سیاستدان اور بیوروکریٹ صرف دکھانے کے لیے نہیں مگر دل سے کفایت شعاری، سادگی اور تنگی برداش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غریب آدمی کی تنگی یہ کہ اس کے پاس سو روپے ہو اور اسے یہ فیصلہ کرنا ہو کہ وہ اپنی بیمار ماں کے لیے دوائی لے یہ بچوں کی کتابیں خریدے مگر اس تناظر میں ہمارے لیے تنگی یہ ہوگی کہ اگر ہمیں سرکاری طور پر باہر جانے کے لیے فرسٹ کلاس یا بزنس کلاس سفر کی اجازت ہے تو ہمیں اگر اکانومی کلاس میں جانا پڑے گا تو اسے ترجیح دیں گے لیکن غریب کو درپیش تنگی اور اس کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج وقت ہے کہ اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے کھڑے ہوں اور اللہ اور پاکستان کے نام پر کفایت شعاری کرکے دکھائیں۔

واضح رہے کہ 21 فروری کو قومی اسمبلی نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی شرط پر پیش کیا گیا ضمنی مالیاتی بل منظور ہونے کے بعد وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ وزیر اعظم حکومتی اخراجات میں واضح کمی کا جامع پروگرام ایوان میں پیش کریں گے۔

مشہور خبریں۔

بیروت کے لیے امریکہ کا خطرناک جال

?️ 13 مارچ 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ساتھ ملک کی حالیہ جنگ کے بعد لبنان

کیا پی ٹی آئی کا مخصوص نشستوں کی فہرست تبدیل کر رہی ہے؟

?️ 17 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کی فہرست کو تبدیل

صہیونی قیدیوں کا غصہ اور فریاد

?️ 6 اپریل 2025سچ خبریں: تحریک حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے گذشتہ

 مغربی خفیہ ایجنسیاں سیف الاسلام قذافی کے قتل میں ملوث

?️ 9 فروری 2026 مغربی خفیہ ایجنسیاں سیف الاسلام قذافی کے قتل میں ملوث  ایک مشہور

ہمارا چیف آف آرمی سٹاف بریف کیس میں قیمتی پتھر لے کر گھوم رہا ہے، یہ کیا مذاق ہے؟ ایمل ولی خان

?️ 1 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی سینیٹر ایمل ولی

حماس  کے پاس صہیونی قیدی ابھی تک زندہ ہیں

?️ 10 اگست 2022سچ خبریں:     تحریک حماس کے شعبہ اطلاعات کے سربراہ علی العمودی

آزادی کی تحریکوں کو ظلم و ستم اور طاقت کے زور پر نہیں دبایا جاسکتا: کشمیری رہنما

?️ 24 مئی 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں جموں کشمیر فریڈم فرنٹ اور جموں

اسرائیل، امریکہ اور مغرب کی بدبو چھپائی نہیں جا سکتی

?️ 13 اگست 2024سچ خبریں: 7 اکتوبر 2023 کو غزہ جنگ کے آغاز سے لے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے