کسانوں کو 18 سو ارب روپے کے قرضہ جات دیے جائیں گے، شہباز شریف

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ کسانوں کو 18 سو ارب روپے کے قرضہ جات دیے جائیں گے، یہ رقم پچھلے سال کے مقابلے میں 400 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں کسان پیکیج کے حوالے سے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب نے پورے پاکستان میں تباہی مچائی، 40 لاکھ ایکٹر پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، سندھ میں کھجور کا نام و نشان مٹ گیا، کپاس اور چاولوں کی فصلوں کو نقصان ہوا، اسی طرح گنے کی فصل کا بھی نقصان ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کو اگر کوئی چیز آگے بڑھا سکتی ہے تو ہماری زرعی معیشت ہے، زراعت کو تیزی سے آگے بڑھا سکتے ہیں، ایسا شعبہ ہے جو 6 مہینے میں اپنی معیشت کو بالکل ٹرانسفارم کرسکتا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو 88 ارب روپے کی نقد اور اشیا کی شکل میں امداد تقسیم کی ہے، وفاق نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 70 ارب روپے اور 18 ارب روپے این ڈی ایم اے کے ذریعے تقسیم کی ہے، جس میں کمبل، خوارک وغیرہ شامل ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ کسانوں کو 18 سو ارب روپے کے قرضہ جات دیے جائیں گے، یہ رقم پچھلے سال کے مقابلے میں 400 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ جانتے ہیں کہ وزیر خزانہ ڈنڈا ہاتھ میں لے لیتے ہیں، بینکوں کو عادت ہے کہ وہ محفوظ سرمایہ کاری کرتے ہیں، ٹی بلز لے لیے، حکومتی بانڈز لے لیے، اور جو اصل شعبے ہیں، چھوٹے کسان، چھوٹے کاروباری لوگ ان کو پوچھتے تک نہیں ہیں، یہ ہمارے مالیاتی نظام میں سب سے بڑی بیماری ہے، مجھے امید ہے کہ ہم اس طرف آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ قرضے پوری طرح کسانوں کو مہیا کیے جائیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جو چھوٹے کسانوں پر جو قرضے تھے، ان پر شرح سود کو معاف کیا جارہا ہے، اس کے لیے 10 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم شہبازشریف نے مزید کہا کہ اسی طریقے سے وفاق اور چھوٹے صوبے مل کر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں چھوٹے کسانوں تقریباً 8 ارب 20 کروڑ روپے ان کو مہیا کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں جو نوجوانوں بچے ہیں، پہلی مرتبہ زرعی شعبے کو شامل کیا گیا ہے، ان نوجوان بے روزگار بچوں کے لیے جو زرعی شعبے میں کام کرنا چاہیں گے، ان کو 50 ارب روپے کے قرضے دیے جائیں گے، اور اس کے لیے حکومت پاکستان 6 ارب 40 کروڑ روپے سے شرح سود میں سبسڈی دے گی، ان کو سستا قرضہ مہیا کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ڈی اے پی کھاد کا فی ایکڑ پیداوار بڑھانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے، ڈی اے پی بنانے کے لیے حکومت سستی گیس مہیا کرتی ہے، اس کو آرام سے مہنگے داموں بیچا جاسکتا ہے، ہم نے فرٹیلائزر کمپینوں سے مذاکرت کیے، ان سے ڈی اے پی کھاد کی فی بوری کی قیمت 2 ہزار 500 روپے کم کروائی گئی ہے، اس کے بعد اس کی قیمت کم ہو کر 11 ہزار 250 روپے ہو گئی ہے، کسانوں کو اس کا فائدہ ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گندم کے سرٹیفائیڈ بیج کی 12 لاکھ بوریاں مہیا کریں گے، اس کے لیے پچاس فیصد پیسے وفاق دے گا، اور پچاس فیصد صوبے دیں گے، اس کے لیے 13 ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بے زمین ہاریوں کے لیے بلاسود قرضے دینے 5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ اسی طریقے سے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کسی بھی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ایس ایم ایز کو بھی اسکیم میں شامل کیا گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

نواز شریف اور مریم نواز کی زیرصدارت اجلاس، سیاحتی منصوبوں کی منظوری

?️ 18 اپریل 2026مری (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف

عراق کے شہر سلیمانیہ میں گاڑی میں دھماکہ، ایک شخص جاں بحق

?️ 19 فروری 2026عراق کے شہر سلیمانیہ میں گاڑی میں دھماکہ، ایک شخص جاں بحق

کشمیر پاکستان کی شہ رگ، اس پر سمجھوتہ ممکن نہیں۔ مراد علی شاہ

?️ 5 اگست 2025کراچی (سچ خبریں) وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کشمیر

چین اور امریکہ کے درمیان جنگ کا کتنا امکان ہے؟

?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:امریکہ اور چین کے درمیان ان دنوں کشیدگی میں شدت نے

تل ابیب کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ڈر لگتا ہے:صیہونی کمانڈر

?️ 10 اپریل 2022سچ خبریں:صیہونی مسلح افواج کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ پہلے ہمیں

یوکرائن پر حملوں کی مذمت کے سلسلہ میں قرارداد پر روس کا ویٹو

?️ 27 فروری 2022سچ خبریں:روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی یوکرائن میں فوجی

ملکی بقا و ترقی قائداعظمؒ کے اصولوں پر عمل میں مضمر ہے۔ مریم نواز

?️ 11 ستمبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ

چین امریکہ کے بحرانوں سے کیسے فائدہ اٹھا رہا ہے؟

?️ 7 ستمبر 2026سچ خبریں:مشرق وسطیٰ، یوکرین اور مشرقی ایشیا کے بڑھتے بحرانوں نے امریکہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے