یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ؛ ریاض کی توانائی تنصیبات کو خطرات لاحق

یمن اور سعودی عرب

?️

سچ خبریں:یمن اور سعودی عرب کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافے سے آرامکو اور سعودی توانائی تنصیبات کو ممکنہ خطرات لاحق ہونے کا دعویٰ، جبکہ صنعا نے محاصرے کے خاتمے پر زور دیا ہے۔

یمن میں جاری فوجی اور سیاسی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے یمن میں عسکری دباؤ بڑھانے اور اپنے حمایت یافتہ مقامی جنگجوؤں کے ذریعے طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی کوششوں کے باوجود، صنعا کے حکام اور انصاراللہ کا مؤقف ہے کہ ریاض کو اپنے مقاصد میں کامیابی نہیں ملی۔

دوسری جانب یمنی قیادت کی جانب سے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کو ممکنہ جوابی کارروائیوں کے ہدف کے طور پر پیش کیے جانے سے خطے کی توانائی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

صنعا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو طویل جنگ کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے فوجی محاذ آرائی کے بجائے جامع اور پائیدار امن معاہدے کی طرف واپس آنا چاہیے۔ یمنی حلقوں کے مطابق، محاصرے کا خاتمہ اور یمنی عوام کے مطالبات تسلیم کرنا ہی تنازع کے حل کی بنیادی شرائط ہیں۔

صنعا کا سعودی عرب کو سخت پیغام

یمن کی سیاسی قیادت سے قریبی تعلق رکھنے والے ذرائع کے مطابق، صنعا نے طویل عرصے تک سعودی عرب کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم سے گریز کیا، تاہم حالیہ علاقائی تبدیلیوں اور غزہ کے واقعات کے بعد طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے۔

انصاراللہ نے سعودی فضائی حملوں کے جواب میں ’محاصرے کے مقابلے میں محاصرہ‘ اور ’کشیدگی کے جواب میں کشیدگی‘ کی پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حکمتِ عملی میں ان فضائی اڈوں اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی بات بھی شامل ہے جنہیں یمن کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

الجوف اور مأرب میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کو مشکلات

یمن کے مشرقی صوبے الجوف سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پیش قدمی کی کوششوں کو یمنی مسلح افواج کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان اطلاعات میں میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال، فوجی سازوسامان کی تباہی اور جانی نقصانات کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

یمن کے حامی عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق، الجوف اور مأرب کے جغرافیائی حالات سعودی حمایت یافتہ فورسز کے لیے فوجی کارروائیوں کو مشکل بناتے ہیں۔ تاہم ان جھڑپوں میں ہونے والے نقصانات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

آرامکو اور سعودی توانائی تنصیبات پر ممکنہ خطرات

اس تنازع کا ایک اہم پہلو سعودی عرب کے اقتصادی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ خطرات ہیں۔ صنعا کی حکمتِ عملی سے متعلق تجزیے میں سعودی تیل کی تنصیبات اور سرکاری توانائی کمپنی آرامکو کے بنیادی ڈھانچے کو اہم ممکنہ اہداف قرار دیا گیا ہے۔

یمنی مؤقف کے مطابق، اگر سعودی عرب کی جانب سے حملے جاری رہے اور یمن کا محاصرہ ختم نہ کیا گیا تو جنگ کے اثرات یمن کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ان ممالک کے اقتصادی مفادات بھی متاثر ہو سکتے ہیں جو فوجی کارروائیوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔

جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر زور

یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کو تعز سمیت بعض اہم علاقوں میں مشکلات اور محدود جغرافیائی گنجائش کا سامنا ہونے کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب صنعا کی حکمتِ عملی اب دفاعی کارروائیوں کے ساتھ اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کو مستحکم کرنے پر بھی مرکوز بتائی جاتی ہے۔

مجموعی طور پر یمن میں جاری تنازع کے مستقبل کا انحصار فوجی کارروائیوں میں کمی، فضائی حملوں کے خاتمے، محاصرے کے خاتمے اور سیاسی مذاکرات کی بحالی پر ہے۔ بصورتِ دیگر، کشیدگی میں اضافہ نہ صرف یمن بلکہ سعودی عرب اور پورے خطے کی توانائی و اقتصادی سلامتی کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت کو جنگ بندی میں کوئی دلچسپی نہیں:قطر 

?️ 15 مئی 2025 سچ خبریں:قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن نے اسرائیل پر الزام

بلوچستان میں حکومت کو اہم کامیانی ملی

?️ 10 مارچ 2021 اسلام آباد(سچ خبریں) بلوچستان سے آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے سینیٹر

سید مقتدی صدر کے کربلا کی طرف مشی کے لئے اہم پیغام

?️ 11 ستمبر 2022سچ خبریں:     عراق کی صدر تحریک کے رہنما سید مقتدی صدر 

یوکرین کے ڈرون نے ڈرزہبا آئل پائپ لائن کو نشانہ بنایا 

?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیجارٹو نے گذشتہ شب بیلاروس

سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا بھارت کی آبی دہشتگردی ہے، شیخ رشید

?️ 26 اپریل 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا

قومی ایئرلائن کی نجکاری رواں سال نومبر تک متوقع

?️ 2 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو آگاہ

ارمینیا میں امریکی ڈیٹا سینٹر؛ خفیہ مقاصد اور بڑھتے توانائی بحران پر سوالات

?️ 13 ستمبر 2026سچ خبریں:ارمینیا کے شہر ہرازدان میں امریکی کمپنی فائر برڈ کے جدید

امریکا اور یورپی ممالک کے دباؤ سے پاک چین تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے: وزیراعظم

?️ 30 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکا اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے