پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کا عمران خان کو مؤقف میں نرمی کا مشورہ، سیاسی مذاکرات پر زور

?️

لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریکِ انصاف کے جیل میں قید سینئر رہنماؤں نے ایک خط کے ذریعے پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے بجائے سیاسی قیادت سے بھی مذاکرات کی راہ اپنائیں۔

رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ موجودہ بحرانی صورتحال سے نکلنے کے لیے بامعنی سیاسی مکالمہ ناگزیر ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے جیل قید میں موجود رہنماؤں نے پارٹی کو مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تجویز دی ہے، جو پارٹی کے سرپرست عمران خان کے اس غیر لچکدار مؤقف کے برعکس ہے جس کے تحت وہ صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے خواہاں ہیں۔

منگل کے روز لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے لکھے گئے ایک خط میں پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی، سینیٹر اعجاز احمد چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید نے موجودہ شدید بحرانوں سے ملک کو نکالنے کے لیے حکومت کی سیاسی قیادت کے ساتھ ’بامعنی مذاکرات‘ کے آغاز پر زور دیا۔

تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں نے واضح کیا کہ مذاکرات کا آغاز سیاسی قیادت کے درمیان ہونا چاہیے، جس کے بعد اسے مقتدر قوتوں تک توسیع دی جا سکتی ہے۔

اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مختلف رہنماؤں نے اس معاملے پر باہمی مشاورت کیسے کی، کیونکہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو دیگر رہنماؤں سے علیحدہ بیرک میں رکھا گیا ہے، تاہم خط میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ انہیں بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت انہیں سابق وزیراعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں باقاعدہ مشاورت کے لیے رسائی دے تاکہ مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل پر مشورہ کیا جا سکے۔

رہنماؤں نے یہ تنبیہ بھی کی کہ حکومت میں شامل عناصر کو یہ اجازت نہ دی جائے کہ وہ سیاسی قیادت سے مذاکرات کی ان کی پیشکش کو غیر سنجیدہ سمجھیں، کیونکہ ایسا کرنا پورے عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہوگا۔

واضح رہے کہ عمران خان کا حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے ایک واضح مؤقف ہے۔

انہوں نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد کئی مرتبہ یہ بات دہرائی ہے کہ ہم صرف ان سے بات کریں گے جن کے پاس اصل اختیار ہے (فوجی اسٹیبلشمنٹ)، حکومت میں شامل جماعتوں کے پاس کوئی اختیار نہیں۔

خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی حکومت کی جانب سے مالی سال 26-2025 کا صوبائی بجٹ عمران خان کی منظوری کے بغیر منظور کیے جانے کے بعد پارٹی میں اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

سابق وزیراعظم کی بہن علیمہ خان نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی میں اب ’مائنس عمران‘ فارمولا نافذ ہو چکا ہے۔

چونکہ پی ٹی آئی میں گروپ بندی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، اس لیے پارٹی کے ایک دھڑے کا خیال ہے کہ عمران خان کو صرف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے مؤقف میں نرمی لانا چاہیے تاکہ پارٹی کے لیے درکار سیاسی گنجائش اور ریلیف حاصل کیا جا سکے۔

پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے ڈان کو بتایا کہ خان صاحب کو اپنے مؤقف میں نرمی لاتے ہوئے حکومت سے مذاکرات کے آغاز کی اجازت دینی چاہیے، موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کو وقتی طور پر مزاحمتی سیاست پر نظرثانی کرنا ہوگی اور سیاسی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی تاکہ وہ موجودہ مشکل حالات میں خود کو مؤثر سیاسی قوت کے طور پر برقرار رکھ سکے۔

انہوں نے قید میں موجود پانچ رہنماؤں کی مذاکراتی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پارٹی کے سرپرست اعلیٰ عمران خان اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کا ساتھی

?️ 24 جولائی 2024سچ خبریں: غزہ میں صیہونی حکومت کی بربریت کے ساتھ ساتھ اس ملک

اسرائیل کی تباہی کی نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں:سید حسن نصر اللہ

?️ 7 مارچ 2023سچ خبریں:حزب اللہ کے جنرل سکریٹری نے اس بات کی طرف اشارہ

صہیونی حکومت کا ڈرائیونگ انجن بند

?️ 14 ستمبر 2024سچ خبریں: مقبوضہ علاقے میں 5 ٪ سے زیادہ ٹکنالوجی کمپنیوں کو

جنگ کے بعد غزہ کے ساتھ کیا کریں گے؟ امریکہ کا اعلان

?️ 23 اکتوبر 2024سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اور اس کے

جرمن حکومت کی انتہا پسندی، حماس کے پرچم پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا

?️ 22 جون 2021برلن (سچ خبریں)  جرمن حکومت نے انتہا پسندی اور یہود نوازی کا

صیہونی ذرائع ابلاغ کا صیہونی حکومت کے خلاف اہم انکشاف

?️ 19 جولائی 2023سچ خبریں:پریس نیوز سائٹ نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ

نیتن یاہو نے اسرائیل کو bait میں بدل دیا: صہیونی میڈیا

?️ 16 اپریل 2023سچ خبریں:Ma’ariv اخبار نے اس حوالے سے ایک نوٹ میں لکھا کہ

کے پی حکومت انسداد دہشت گردی کیلئے صوبائی ادارے مضبوط کرے۔ وزیراعظم

?️ 2 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے