پولیس کی حراست میں ایک طالبعلم کی مشکوک موت

موت

?️

پشاور(سچ خبریں) پشاور میں پولیس نے ساتویں جماعت کے ایک طالب علم کو حراست میں لیا تھا جس کے پولیس کی حراست میں لڑکے کی موت ہو گئی موت کی خبر سنتے ہی اہل خانہ اور اہل محلہ والوں نے پولیس اسٹیشن کے باہر زبردست احتجاج کیا ہے۔

 ساتویں جماعت کا طالبعلم پولیس کی حراست میں پر اسرار طور پر انتقال کرگیا جس کے بعد لڑکے کے رشتے داروں اور اہلِ محلہ نے غربی پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے غربی پولیس اسٹیشن کے پورے عملے کو معطل اور واقعے کی عدالتی انکوائری کا حکم دے دیا۔

پولیس کے مطابق طالبعلم کی شناخت شاہزیب ولد خیال محمد کے نام سے ہوئی جو وارسک روڈ کا رہائشی تھا، اسے دکاندار کے ساتھ تلخ کلامی اور اسے اسلحہ دکھانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

وزیراعلیٰ کے مشیر اطلاعات کامران بنگش نے کہا کہ عدالتی انکوائری کے بعد اگر پولیس اہلکار لڑکے کی ہلاکت میں ملوث پائے گئے تو انہیں عبرتناک سزا دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے فوراً بعد وزیراعلیٰ نے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ثنا اللہ عباسی کو پولیس اسٹیشن جانے اور اصل صورتحال سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔

اس ضمن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سٹی پولیس افسر عباس احسان اور ایس ایس پی آپریشنز یاسر آفریدی نے کہا کہ طالبعلم کی موت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ یہ نہیں بتایا سکتے کہ طالبعلم نے کس طرح اور کس چیز سے خود کشی کی، غربی پولیس کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) دوست محمد کو بھی گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔

سی سی پی او کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق پولیس نے لیاقت بازار کے دکانداروں کی جانب سے تلخ کلامی اور اسلحہ تاننے کی شکایت پر شاہزیب کو گرفتار کیا تھا۔

پولیس نے دکانداروں کی شکایت پر اسلحہ ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت شاہزیب کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا بعدازاں شاہزیب نے لاک اپ کے اندر خودکشی کرلی تھی۔

پولیس اسٹیشن کے احاطے میں ریکارڈ کروائے گئے ایک ویڈیو پیغام میں شاہزیب کے والد نے الزام عائد کیا کہ ان کا بیٹا لاک اپ میں پولیس تشدد کے باعث ہلاک ہوا، انہوں نے کہا کہ وہ دوپہر 2 بجے اسکول امتحان کے لیے درکار تصاویر بنوانے بازار گیا تھا۔

والد کے مطابق دوپہر 3 بجے پولیس نے انہیں کال کر کے بتایا کہ ان کا بیٹا لاک اپ میں ہے جس پر وہ آدھے گھنٹے کے اندر پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ ‘جب میں پولیس اسٹیشن تو پولیس نے مجھے 3 گھنٹے تک میرے بیٹے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا اور بعد میں پولیس نے انہیں کہا کہ ان کے بیٹے نے لاک اپ کے اندر کسی چیز سے پھندا لگا کر خود کشی کرلی ہے’۔

انہوں نے الزائم عائد کیا کہ پہلے پولیس نے ان کے بیٹے کو تشدد کر کے مار دیا اور ہھر خودکشی کا رنگ دینے کے لیے اس کی لاش لٹکادی، انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ انصآف فراہم کیا جائے ان کے بیٹے کے ساتھ پولیس نے غیر انسانی سلوک کیا۔

بعدازاں طالبعل کے رشتہ داروں نے غربی پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا اور مصروف سنہری مسجد روڈ بلاک کردیا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔

خیال رہے کہ چند روز قبل پولیس اہلکاروں نے گاڑی نہ روکنے پر ایک طالبعلم کو گولی مار کر قتل کردیا تھا، مبشر نامی طالبعلم جامعہ پشاور میں داخلہ لینے کے لیے بنوں سے پشاور آیا تھا۔

مشہور خبریں۔

فرانسیسی عوام کی اکثریت امریکہ کو اپنا اتحادی نہیں سمجھتی  

?️ 6 مارچ 2025 سچ خبریں:فرانسیسی ادارے Elabe کے کی جانب سے کیے جانے والے

زیلینسکی کو جسمانی طور پر ہٹانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے: مدودف

?️ 4 مئی 2023سچ خبریں:کریملن محل پر ڈرون حملے کے بعد، جس کا الزام ماسکو

پیوٹن کی رہائش گاہ پر یوکرین کا حملہ دہشت گردی کی کارروائی ہے: کراکس

?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں: ونزویلا نے بدھ کے روز یوکرین کی جانب سے روسی

بانی پی ٹی آئی نے جو کیا، بھگت رہے ہیں، انہیں توبہ کرنی چاہیے، بلاول بھٹو

?️ 8 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بانی پی

خضدار واقعے پر ہم جو کہہ رہے ہیں، اُس کا ثبوت دیں گے۔ خواجہ آصف

?️ 21 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے

فلسطین سے غداری کے سائے میں یاسر ابوشباب کا انجام 

?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: عبرانی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ یاسر ابوشباب، جو غزہ

پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے وزیر اعظم کا اہم بیان

?️ 18 ستمبر 2021دوشنبے(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے دوشنبے میں آر ٹی وی کو

ایران کی معیشت پابندیوں کے خلاف استقامت کر رہی ہے: سعودی اخبار

?️ 25 جون 2022سچ خبریں:    سعودی اخبار عرب نیوز نے جمعرات کے روز ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے