?️
پنجاب (سچ خبریں) پنجاب میں عثمان بزدار کی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل میں ہچکچاتے ہوئے بلدیاتی حکومتوں کو بحال کردیا، جو فیصلے پر نظرثانی کی اس کی دائر کردہ درخواستوں کے نتائج سے مشروط ہے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومتِ پنجاب نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد مئی 2019 میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ (پی ایل جی اے) 2013 کے تحت قائم کردہ بلدیاتی اداروں کو تحلیل کردیا تھا۔
تاہم اب بلدیاتی حکومتوں کے سابق نمائندوں نے اپنے دفاتر سنبھال لیے ہیں، میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید نے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ڈینگی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس طلب کیا۔
انہوں نے فنانس افسر سے کہا کہ وہ مختلف اخراجات کی تفصیلات پیش کریں تاکہ وہ بلدیاتی حکومت کے قوانین کے تحت مکمل ہونے والے اور جاری منصوبوں کا ریکارڈ چیک کر سکیں۔
وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے بھی ایک اجلاس طلب کیا اور بلدیاتی اداروں کو فعال بنانے کی منظوری دی، انہوں نے متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ وہ پی ایل جی اے 2013 کی بحالی اور ایڈمنسٹریٹرز کی واپسی کا نوٹی فکیشن جاری کرے۔
چنانچہ محکمہ بلدیات کی جانب سے نوٹی فکیشن جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے 25 مارچ 2021 کے مختصر حکم، جولائی 2021 کے تفصیلی فیصلے اور پی ایل جی اے کے تحت مقامی حکومتوں کی تشکیل کے نوٹی فکیشن کو فوری طور پر واپس لیا جاتا ہے، جو پنجاب حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں زیر التوا نظرثانی کی درخواستوں کے نتائج سے مشروط ہے‘۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے پی ایل جی اے 2019 نافذ کرتے ہوئے پی ایل جی اے 2013 کو ختم کر دیا تھا جس کے بعد وزیر اعلیٰ نے مقامی حکومتوں کے نمائندوں کی مدت ختم ہونے سے 30 ماہ قبل یعنی 4 مئی 2019 کو فوری طور پر ایڈمنسٹریٹرز تعینات کردیے تھے، مقامی حکومتوں کے زیادہ تر نمائندے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتے تھے۔
ایڈمسنٹریٹرز 29 ماہ سے زائد عرصے تک ان اختیارات کا استعمال کرتے رہے جس میں وہ 7 ماہ بھی شامل ہیں کہ 25 مارچ کو جب سے سپریم کورٹ نے پی ایل جی اے 2019 کی دفعہ 3 کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا تھا۔
ابتدا میں پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کو اس بہانے تاخیر کا شکار کیا کہ وہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کر رہی ہے اور بعد میں اس نے جولائی میں تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد نظر ثانی کی درخواست دائر کردی تھی۔
تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے 25 مارچ کے حکم کی عدم تعمیل پر مایوسی کے اظہار اور موجودہ اور سابق چیف سیکریٹریز کو طلب کرنے کے بعد اب صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو تیزی سے بحال کردیا۔
مقامی حکومتوں کے تحلیل شدہ نمائندوں نے پی ایل جی اے 2013 کی تحلیل کے فوراً بعد عدالت سے رجوع کیا تھا اور رواں برس کے اوائل میں عدالت عظمیٰ سے ریلیف حاصل کیا تھا۔
دوسری جانب واپس بلائے گئے ایڈمنسٹریٹرز کے تحت پنجاب کا محکمہ بلدیات صوبے بھر میں 10 ارب روپے کی ترقیاتی اسکیمیں چلا رہا تھا۔


مشہور خبریں۔
تحت الحمایگی کا خاتمہ؛ یورپ کیا کرے گا؟
?️ 5 مئی 2026سچ خبریں: ہسپانوی میڈیا نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ
مئی
شام میں امریکی غیر قانونی موجودگی کا خاتمہ ہو رہا ہے: دمشق
?️ 19 مئی 2022سچ خبریں: شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد نے السریا چینل کو
مئی
غزہ کے مہاجرین کی واپسی سے دشمن کا خواب چکنا چور
?️ 27 جنوری 2025سچ خبریں: شمالی غزہ کی پٹی میں پناہ گزینوں کی واپسی پر
جنوری
اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے مابین تصادم، سینکڑوں فلسطینی زخمی ہوگئے
?️ 12 جون 2021مقبوضہ بیت المقدس (سچ خبریں) اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے مابین تصادم
جون
محمود خان اچکزئی ہمارے بڑے ہیں جتنی سخت باتیں کریں برا نہیں مناؤں گا۔ اعظم نذیر تارڑ
?️ 5 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا
اگست
صیہونی ربی کا گریٹراسرائیل کا خواب
?️ 16 جولائی 2023سچ خبریں:بنیاد پرست صیہونی ربی ایلیزر میلامڈ نے کہا کہ اسرائیلی حکومت
جولائی
ایران اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت
?️ 26 اپریل 2026 سچ خبریں:ایران اور مصر کے وزرائے خارجہ نے ایک ٹیلی فونک
اپریل
روس کی کھیلوں پر پابندی کی وجہ کیا ہے؟
?️ 30 اپریل 2024سچ خبریں: یوکرین میں روسی خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز کے تقریباً
اپریل