پاکستان کے بجلی کے شعبے میں بڑی بد انتظامی

بجلی

?️

اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان کے بجلی کے شعبے میں بڑی بد انتظامی کی ایک اور داستان سامنے آگئی، حکومت ہر سال آئی پی پیز کو استعمال نا ہونے والی 10 ہزار میگاواٹ بجلی کی مد میں سالانہ 850 ارب روپے ادا کر رہی ہے، مگر 4 لاکھ 85 ہزار بجلی کے نئے کنکشن مانگنے والے پاکستان کے عوام کو بجلی لگا کر نہیں دے رہی۔

جیو نیوز کو ملنے والی معلومات کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے پاس بجلی کے نئے کنکشن کی 4 لاکھ 85 ہزار سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں، جبکہ حکومت نجی بجلی گھروں کو ہر سال استعمال نا ہونے والی اوسطاً 10 ہزار میگا واٹ بجلی کی قیمت بھی ادا کر رہی ہے۔

وزیر خزانہ شوکت تر ین کے مطابق حکومت پاکستان ہر سال 850 ارب روپے نہ استعمال ہونے والی اضافی بجلی کی مد میں آئی پی پیز کو ادا کررہا ہے، یہ رقم رواں سال ایک ہزار ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔

پچھلے سال پاور ڈویژن نے گردشی قرض ختم کرنے کا منصوبہ کابینہ کے سامنے پیش کیا لیکن یہ صرف کہنے کی حد تک ہی رہا، اس دوران گردشی قرض میں اضافہ جاری رہا۔

جون تک پاکستا ن کا گردشی قرض دو ٹریلن 30ارب یعنی 2 ہزار 30 ارب روپے تک پہنچ گیا جس میں اب ان چھ ماہ میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔

زیر التواء درخواستوں کی تفصیل کے مطابق اس وقت ملتان کی بجلی تقسیم کار کمپنی میپکو میں بجلی کے نئے کنکشن کے لئے سب سے زیادہ 2 لاکھ 18ہزار بارہ درخواستیں زیر التواء ہیں۔

لاہور کی تقسیم کار کمپنی لیسکو میں ایک لاکھ سات ہزار 866، پشاور کی کمپنی پیسکو میں چار ہزار 664، اسلام آباد کی کمپنی آئیسکو میں 44 ہزار 225 ، گوجرانوالہ کی کمپنی گیپکو میں 51 ہزار 30 اور فیصل آباد کی فیسکو میں 54 ہزار 278 درخواستوں پر نئے کنکشن نہیں دیے جارہے۔

حیدرآباد کی بجلی تقسیم کار کمپنی حیسکو میں تین ہزار 69، سکھر کی کمپنی سیپکو میں 524، کوئٹہ کی کیسکو میں 470 جبکہ کے الیکٹرک میں 17ہزار 705 درخواست دہندہ نئے کنکشن کے منتظر ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ بجلی دستیاب ہے مگر عوام کو کنکشن کیوں نہیں دیے جا رہے؟ بغیر استعمال اس بجلی کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہے؟ اس معاملے پر متعدد بار رابطہ کرنے کے باوجود وفاقی وزیرتوانائی حماد اظہرنے جواب نہیں دیا۔

مشہور خبریں۔

شام کے خلاف جنگ اس ملک کے ارادے کو نہیں توڑ سکتی: مقداد

?️ 29 ستمبر 2022سچ خبریں:    شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد نے پورے ملک

امریکی مداخلت پاکستان کے عوام کے لیے کسی قیمت پر قابل قبول نہیں:صاحبزادہ ابوالخیر زبیر

?️ 3 اپریل 2022لاہور(سچ خبریں)ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی قائدین کے منصورہ میں ہونے

وزیر داخلہ شیخ رشید نے  اپوزیشن  کو تنقید کا نشانہ بنایا

?️ 16 جنوری 2022راولپنڈی(سچ خبریں) وزیرداخلہ شیخ رشید نے اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ

شام میں قتل عام کے بعد الجولانی کی پہلی باضابطہ وضاحت  

?️ 11 مارچ 2025 سچ خبریں:گروہ تحریر الشام کے سرکردہ دہشت گرد اور خودساختہ حکمران

بیروت پر صہیونی حملہ متعدد افراد شہید اور زخمی

?️ 1 اپریل 2026سچ خبریں:لبنان کے دارالحکومت بیروت پر صہیونی حملے میں 5 افراد شہید

ملک کو مزید نقصانات سے بچانے کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنا پڑے گا، خواجہ آصف

?️ 3 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سابق وفاقی

صیہونی حکومت کے خلاف ہیگ کی عدالت کے فیصلے کا امکان

?️ 21 جنوری 2024سچ خبریں:جنوبی افریقہ کی مشاورتی ٹیم کے ایک رکن نے پیش گوئی

ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات پر اتفاق ہوگیا، اسحٰق ڈار

?️ 3 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے