?️
سچ خبریں:غزہ کے حالیہ تنازع سے یہ واضح ہو گیا کہ امریکہ کی مرکزی دھارے کا منظر بدل رہا ہے، امریکی سیاستدانوں ترقی پسند بائیں بازو کے ڈیموکریٹس اور دیگر شخصیات نے پہلے سے کہیں زیادہ فلسطینیوں کے حق میں بات کی ہے، سینیٹر ٹوڈ ینگ اور کرس مرفی نے اپنے الگ الگ بیانات میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا جس میں درجنوں قانون سازوں کے دستخط ہیں۔
غزہ کے حالیہ تنازعہ نے یہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ کا اسرائیل کی طرف رجحان بدلا ہے، اسرائیل اور فلسطین تنازعہ میں موجودہ تشدد مکمل طور پر نامتناسب ہے ، اور یہ عدم مساوات کئی دہائیوں سے برقرار ہے، حالیہ تنازعہ میں 61 بچوں سمیت کم از کم 213 فلسطینی ہلاک ہوئے جبکہ ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی کل تعداد 10 تھی،یادرہے کہ پچھلی چند دہائیوں میں ایک اور عام عنصر ریاستہائے متحدہ میں مرکزی دھارے کے دانشوروں اور ذرائع ابلاغ کا رد عمل تھا ، جس نے ابھی تک نمایاں طور پر اسرائیل کی حمایت کی ہے،اس کے علاوہ تھنک ٹینکوں ، سیاسی جماعتوں ، یا امریکی میڈیا کے درمیان اسرائیل پر شاذ و نادر ہی تنقید کی جاتی رہی ہے،تاہم غزہ میں تنازعہ بڑھنے کے بعدیہ واضح ہو گیا کہ امریکہ کے مرکزی دھارے کا منظر بدل رہا ہے، امریکی سیاستدانوں ، ترقی پسند بائیں بازو کے ڈیموکریٹس اور دیگر لوگوں نے پہلے سے کہیں زیادہ فلسطینیوں کے حق میں بات کی ہے۔
سینیٹرز ٹوڈ ینگ اور کرس مرفی نے اپنے الگ الگ بیانات میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا جس میں درجنوں قانون سازوں کے دستخط ہیں، جنگ کے دوران امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس نے بائیڈن انتظامیہ کو اسرائیل کو پوائنٹ-شوٹ بموں کی 735 بلین ڈالر کی فروخت معطل کرنے پر مجبور کرنے کی قرارداد پاس کرنے کی کوشش کی جو اقدام پہلےسے غیر معمولی تھا، سینیٹر برنی سینڈرز نے 20 مئی کو بھی ایسا کیا ، اگرچہ ان میں سے کوئی بھی اقدام کامیاب نہیں ہوا لیکن انہوں نے ایک نیا باب کھولا جو پہلے موجود نہیں تھا،اس کے علاوہ علی والشی ، جان اولیور ، مہدی حسن سے بہت سارے میڈیا اراکین اور صحافی فلسطینیوں کے حقوق کی مکمل حمایت کے ساتھ آگے آئے،انھوں نے بہت سے ایسے الفاظ استعمال کیے جیسے "جنگی جرائم” ، "نسل کشی” جن کا نام امریکہ میں مرکزی دھارے کی سیاست ، میڈیا اور افکار سے شاذ و نادر ہی سنا گیا تھا۔
اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی حالت زار جنھیں شدید امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بھی پہلی بار مرکزی دھارے میں شامل امریکی میڈیا کی بحث کا حصہ بن سکتی ہے نیزیہ رخ انسانی حقوق کے تھنک ٹینکوں اور تنظیموں میں بھی عیاں ہے،واضح رہے کہ 19 مئی کو کارنیگی فاؤنڈیشن فار انٹرنیشنل پیس نے ایک تاریخی رپورٹ جاری کی جس میں زور دیا گیا تھا کہ ریاستہائے متحدہ کو”انسانی حقوق پر مبنی نقطہ نظر” کی اپنی پالیسیوں کو مغربی کنارے ، یروشلم اور غزہ کے لیے بدلنا چاہئےجس کے قریب ایک ہفتہ بعد ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بی ٹیسلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ، اسرائیلی حکام کو نسل کشی اور تشدد کا ارتکاب کرنے کا مجرم قرار دیا۔
در ایں اثنا سیاہ فاموں کی زندگی اہم ہے کے نعرے کی موافقت میں ’’ فلسطینیوں کی زندگی اہمیت کی حامل ہے‘‘ کا نعرہ لگایا گیا جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رویے میں اس تبدیلی کی مثال ہے ،ان نعروں سےظاہرہوتا ہے کہ امریکی ترقی پسندوں میں شہری آزادیوں کی ضرورت ایک بار پھر سامنے آئی ہے، ڈیموکریٹک پارٹی بالخصوص نوجوانوں میں بائیں بازو کی طرف جھکاؤ دیکھنے کو ملا ہے، بائیڈن کے اعتدال پسند ہونے کے باوجود جن کی انتخابی مہم میں بائیں بازو کی اہم شخصیات موجود تھیں،جن میں برنی سینڈرز اور الزبتھ وارن شامل ہیں، دونوں سینیٹرز ، بشمول اداکار جان کوزک ، نٹلی پورٹ مین اور مارک رافیلو سمیت دیگر شخصیات اور مشہور شخصیات فلسطینیوں کی کھل کر حمایت کرتےنظر آئیں۔
واضح رہے کہ 19 مئی کو ، اسرائیل میں سابق امریکی سفیر ، مارٹن انڈیک نے مہدی حسن کو بتایا کہ اسرائیل کی حمایت برسوں سے کم ہوتی جارہی ہےاور فلسطینیوں کی حمایت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اس طرح کے اختلافات ڈیموکریٹک پارٹی میں دراڑ پیدا کررہے ہیں، تاہم حالیہ تنازعہ میں امریکی پالیسی اسرائیل کی حامی رہی اور بائیڈن انتظامیہ نے اقوام متحدہ کے امور میں بار بار مداخلت کی نیز سلامتی کونسل کی طرف سے جنگ بندی تک پہنچنے کی کوششوں کو ناکام بنادیا اور بار بار اس کی حمایت کی ہے جسے وہ "اسرائیل کے دفاع کے حق” کے نام سے موسوم کرتے ہیں جبکہ اس بات پر زور دیتے ہوئے اس بات کی تاکید نہیں کی کہ یہ دفاع صرف بین الاقوامی قانون کے تناظر میں ہونا چاہئے ۔
جیسا کہ توقع کی جاتی ہے کہ امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں اسرائیل کے ذریعہ غیر متناسب طاقت کا استعمال ہوا اور شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی،اس کے علاوہ ، اسرائیلی حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے فلسطینیوں کے حق کے ساتھ ساتھ فلسطینی شہریوں کے قتل کی مذمت کا ذکر بھی امریکی حکومت نے نہیں کیا اور جب کبھی کسی نے ان امور پر زور دیا تو حکومت نے عجیب و غریب بیانات دئیے،اس وقت اسرائیل فلسطین تنازعہ سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے لیکن مرکزی دھارے میں ہونے والی بحث یقینا بدل رہی ہے، اس ہفتے کے شروع میں بائیڈن کے 500 سرکاری عہدیداروں نے امریکی صدر کو ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کے لئے زیادہ متوازن طرز عمل کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
سوال یہ نہیں ہے کہ کیا پالیسیاں تبدیل ہوں گی یا نہیں ، لیکن اس تبدیلی کا وقت، اس کے علاوہ ، اسرائیلی سیاست میں دائیں بازو کی انتہاپسندوں کی تیزی سے اضافے سے اسرائیل اور امریکی بائیں بازو تنظیموں سے وابستہ اراکین کے مابین فاصلے کو مزید وسعت ملے گیج س میں ڈیموکریٹک پارٹی بھی شامل ہے، دیرینہ سچائی یہ ہے کہ واقعی فلسطینیوں کی زندگی اہم ہے۔


مشہور خبریں۔
چین نے ایک بار پھر پاکستان کی مدد کا اعلان کیا
?️ 29 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبیریں) ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ
اپریل
ٹرمپ کی باتیں بائیڈن کی نائب کی زبانی
?️ 8 جون 2021سچ خبریں:امریکی نائب صدر نے لاطینی امریکہ کے دورے کے دوران ڈونلڈ
جون
صہیونی نے کیا فلسطینی قیدیوں کو اذیت دینے کے لیے کیمیکل کا استعمال
?️ 19 اپریل 2025سچ خبریں: جنگ بندی کے دوران قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے دوران
اپریل
غزہ میں نسل کشی، روم میں انسانیت کی تدفین
?️ 28 اپریل 2025سچ خبریں:پاپ فرانسیس کی تدفین کے دوران مغربی رہنماؤں نے انسان دوستی
اپریل
حزب اللہ کا مرحوم ایرانی صدر کے بارے میں اظہار خیال
?️ 20 مئی 2024سچ خبریں: حزب اللہ نے ایران کے صدر اور ان کے ساتھیوں
مئی
فلسطینی شہریوں کے قتل کے خلاف برطانوی موقف
?️ 15 دسمبر 2023سچ خبریں:برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے صیہونی غاصبوں سے مطالبہ کیا
دسمبر
ہم جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شامل نہیں ہوں گے: شمالی کوریا
?️ 7 مئی 2026 سچ خبریں:شمالی کوریا نے واضح کر دیا ہے کہ وہ جوہری
مئی
‘کسی کو پسندیدہ بندہ تو کسی کو رشتے دار لانا ہے، سارے اداروں کا بیڑہ غرق کردیا‘
?️ 20 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی
اکتوبر