پاکستان کو ٹرمپ پر اعتماد نہیں کرنا چاہیئے، حامد میر کا مشورہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک کے سینئر صحافی حامد میر نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد نہیں کرنا چاہیئے۔ اپنے کالم اور جیو نیوز کے پروگرام میں انہوں نے کہا کہ ہم ٹرمپ اور ایران میں مفاہمت نہیں کروا سکتے کیوں کہ ٹرمپ اول و آخر نیتن یاہو کا دوست ہے وہ ہمارا دوست نہیں بن سکتا، ٹرمپ اور نیتن یاہو نے مل کر ڈپلومیسی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، دونوں نے ڈپلومیسی کو فیل کر دیا ہے، ٹرمپ سے ہوشیار رہنا ہوگا، پاکستان کو ٹرمپ پر اعتماد نہیں کرنا چاہیئے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران پر حملے کا فخریہ اعلان دراصل بین الاقوامی لاقانونیت کی ایک چیختی اور چنگھاڑتی ہوئی مثال ہے، دنیا پر جنگل کا قانون نافذ کرنے کی کوشش فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، امریکہ کی فوجی طاقت سے کسی کو انکار نہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ امریکہ نے ماضی قریب میں کوئی بڑی جنگ نہیں جیتی، اس امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور خوار ہو کر طالبان سے مذاکرات پر مجبور ہوا، یاد رکھیے گا کہ یہ امریکہ ایک دن ایران سے بھی شکست کھا کر مذاکرات پر مجبور ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ 21جون کو حکومتِ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کیلئے نامزد کیا اور 22جون کو ٹرمپ اسرائیل اور ایران کی جنگ میں کود گئے، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران پر حملے کے بعد ٹرمپ کو مبارکباد دی اور اسرائیل و امریکہ کے انتہائی پائیدار اتحاد پر فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اطمینان کا اظہار کیا، یہ نیتن یاہو کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ وہ امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹ لایا۔

حالاں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 19 جون کو وائٹ ہاؤس میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایران و اسرائیل میں سیز فائر کیلئے دو ہفتے تک انتظار کریں گے، اس کے بعد استنبول میں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں سفارت کاری کے ذریعہ مسئلے کا حل نکالنے پر غور و فکر ہوا لیکن اس اجلاس کے چند گھنٹے بعد امریکہ نے ایران کی تین ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر دیا۔

سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ دن انتظار کر لیتے اور دو ہفتے کے بعد ایران پر حملہ کرتے تو شاید اتنا ردعمل نہ ہوتا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے تو دو دن بھی انتظار نہ کیا، اب اسرائیل اور ایران کی لڑائی امریکہ اور ایران کی لڑائی میں بدل چکی ہے، ایران کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر بھی حملے کئے جا سکتے ہیں لیکن اس حقیقت میں کسی کو شک نہیں رہنا چاہیئے کہ اسرائیل کی فوجی طاقت کا بھرم ٹوٹ گیا ہے، اسرائیل تن تنہا ایران کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہا اور اسی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے امریکہ کو جنگ میں گھسیٹا گیا۔

مشہور خبریں۔

سعودی عرب کے بارے میں نیتن یاہو کے بیانات پر حماس کا ردعمل

?️ 14 فروری 2025 سچ خبریں: تحریک حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم

آصف زرداری نے ’الیکٹیبلز‘ کو راغب کرنے کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دیں

?️ 26 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) سابق صدر مملکت و رہنما پیپلز پارٹی آصف علی

سیاسی اختلاف کا احترام کرتی ہوں، آج ایک ہونا ہوگا۔ مشعال ملک

?️ 5 اگست 2025کراچی (سچ خبریں) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے

فلسطینی قوم کی بڑھتی ہوئی بغاوتکو روکنا مشکل

?️ 2 اکتوبر 2022سچ خبریں:    فلسطین کی اسلامی استقامتی تحریک حماس نے ایک بیان

چیف جسٹس نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی تشکیل نو کردی۔

?️ 26 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے پریکٹس

عراق کا صیہونیوں کے چہرے پر زوردار طمانچہ

?️ 29 مئی 2022سچ خبریں:عراقی پارلیمنٹ میں صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر

پاک فضائیہ کے 4 افسران کو ترقی دے دی ہے

?️ 12 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ترجمان پاک فضائیہ کی جانب سے جاری بیان

شام میں ہونے والی فوجی کاروائیوں کے بارے میں عربی رابطہ کمیٹی کا بیان

?️ 15 دسمبر 2024سچ خبریں:عربی رابطہ کمیٹی نے اپنے اپنے اجلاس کے اختتامی بیان میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے