?️
اسلام آباد/اقوام متحدہ (سچ خبریں) اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرام کا کہنا ہے کہ ہم ممکنہ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، اپنے ملک کا مکمل دفاع کا حق رکھتے ہیں اور یہ حق محفوظ ہے، بھارت کو روکنے اور شکست دینے کے لیے جو بھی ہو سکا کریں گے۔
جنرل اسمبلی کی اسلحے اور بین الاقوامی سلامتی کے معاملات سے متعلق فرسٹ کمیٹی سے خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پا کستان کے مستقل مندوب منیر اکرام نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں امن اور استحکام صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے حل اور دونوں ملکوں کے درمیان روایتی، جوہری اور اسٹریٹجک فوجی توازن کو برقرار رکھ کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاشسٹ بھارتی حکومت کے اقدامات سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہیں، بھارت نے کشمیریوں اور اپنی 20 کروڑ مسلم اقلیت پر وحشیانہ تسلط جاری رکھا ہے، پاکستان اور دیگر پڑوسیوں کے خلاف بھارت ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔
منیر اکرم نے کہا کہ بھارت کو ہتھیار دینے والی ریاستوں کو علم ہونا چاہیئے کہ 70 فیصد بھارتی ہتھیار اور افواجِ پاکستان کے خلاف تعینات ہیں، جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام پاکستان اور بھارت میں تنازعات کے حل سے ہو سکتا ہے۔
علاوہ ازیں سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتِ حال اور وہاں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن پر ہونے والے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج افغانستان اپنی تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے، پاکستان میں اب بھی 30 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں۔
منیر اکرم نے کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان میں مصروفِ عمل رہنا چاہیئے، افغانستان میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہونے سے روکی گئی ہے، کابل پر زور دیتے ہیں کہ عالمی ایجنسیوں کو کام کرنے کی اجازت دے، افغان حکومت یو این ایجنسیوں کو رسائی دے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں انسانی بحران کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے، 18 ملین افغانوں کو انسانی امداد کی فوری ضرورت ہے، افغانستان کو اس کے اقتصادی وسائل تک رسائی کی ضرورت ہے، داعش اور القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں پیر جمانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔
انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں نوٹ کیا گیا کہ افغانستان کے مستقبل کا تعین اس کے لوگوں کو کرنا چاہیئے، افغانستان میں جامع حکومتی ڈھانچہ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا، اس بات پر زور دیا گیا کہ افغان سر زمین کو دوسرے ممالک کے لیے خطرہ نہیں بننے دیا جائے۔
اپنے خطاب میں منیر اکرم کا کہنا ہے کہ وزرائے خارجہ اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں قدم جمانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے، بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان مہاجرین کے لیے پائیدار مالی مدد فراہم کرے۔


مشہور خبریں۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا تحریری معاہدہ جاری
?️ 11 اکتوبر 2025حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا
اکتوبر
یمن بحران کا واحد حل دشمن کے مقابلے میں اتحاد ہے:انصاراللہ
?️ 6 اپریل 2022سچ خبریں:یمنی کی عوامی تنظیم انصاراللہ کا کہنا ہے کہ یمن کے
اپریل
نیتن یاہو اور بائیڈن کے درمیان صرف ایک منٹ کی ملاقات
?️ 24 ستمبر 2023سچ خبریں:عبرانی زبان کے اس میڈیا نے سنیچر کی شام کو اعلان
ستمبر
تل ابیب یمن کے حملوں کا جواب دے گا ؟
?️ 8 دسمبر 2023سچ خبریں:حالیہ دنوں میں یمنیوں نے عملی طور پر بحیرہ احمر کو
دسمبر
پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنےکا فیصلہ صحیح نہیں ہے: وزیر خارجہ
?️ 8 دسمبر 2021برسلز (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کو گرے
دسمبر
فلسطینی قیدیوں کی رہائی؛ صہیونی رہنماؤں کے درمیان اختلاف کا نیا موضوع
?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: تل ابیب کابینہ کی داخلی سلامتی کے وزیر اٹمر بن
جولائی
بائیڈن نے پیوٹن کو امریکہ کا مذاق اڑانے کا موقع دیا: ٹرمپ
?️ 14 ستمبر 2023سچ خبریں:امریکہ کے سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شام اس ملک
ستمبر
افغانستان میں قحط ختم کرو
?️ 9 جنوری 2022سچ خبریں: سردیوں کا موسم قریب آنے اور افغانستان میں ممکنہ انسانی
جنوری