حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا تحریری معاہدہ جاری

معاہدہ

?️

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا تحریری معاہدہ جاری
روسیا الیوم نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے تحریری معاہدے کا متن سامنے آ گیا ہے۔ اس معاہدے کو غزہ میں جنگ کے مکمل خاتمے کا نام دیا گیا ہے، جس میں تمام قیدیوں کی رہائی، فوجی کارروائیوں کی بندش اور غزہ میں ایک نئے عبوری مرحلے کے آغاز پر اتفاق کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، فریقین نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ تمام قیدیوں کی رہائی کے بعد ہر قسم کی فوجی کارروائی بند کی جائے گی اور غزہ میں عبوری انتظامی مرحلہ شروع ہوگا۔
تحریری معاہدے کے مطابق، حماس اس بات کی پابند ہوگی کہ تین دن (72 گھنٹے) کے اندر اندر تمام ایسی معلومات فراہم کرے جو ہلاک شدگان سے متعلق ہوں۔ یہ معلومات ایک بین الاقوامی کمیٹی کو دی جائیں گی، جس میں قطر، مصر، ترکی اور ممکنہ طور پر عالمی ریڈ کراس شامل ہوں گے۔
مزید یہ طے پایا کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کسی رسمی تقریب یا میڈیا کوریج کے بغیر عمل میں لائی جائے گی تاکہ اس عمل کو سیاسی یا تشہیری مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
اس معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی ایک بین الاقوامی ٹیم کرے گی، جس میں امریکہ، قطر، مصر، ترکی اور دیگر ممالک کے نمائندے شامل ہوں گے جن پر دونوں فریق متفق ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق، یہ معاہدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا سب سے اہم حصہ ہے۔ مزید دستاویزات بھی تیار کی جا رہی ہیں تاکہ اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
امریکی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ مراحل میں اسرائیلی افواج مکمل طور پر غزہ سے نکل جائیں گی۔ ان کے مطابق، معاہدے پر عملدرآمد اعتماد اور تصدیق (Trust and Verify) کے اصول پر کیا جائے گا۔
اسرائیلی کابینہ کا ہنگامی اجلاس جمعہ کی صبح ختم ہوا، جس میں وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے منصوبے سے اتفاق کیا۔
نتن یاہو نے کہا کہ “اگر امریکی صدر اور ان کی ٹیم کا تعاون نہ ہوتا تو ہم اس مقام تک نہ پہنچ پاتے۔”
انہوں نے خاص طور پر امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر (صدر ٹرمپ کے داماد) کا شکریہ ادا کیا۔نتن یاہو، جنہوں نے دو سالہ جنگ میں غزہ کو تباہ کر کے بھی اپنے اہداف حاصل نہیں کیے، اب اس معاہدے کو “ایک تاریخی موڑ” قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہمارا بنیادی مقصد تمام اسرائیلی مغویوں کی واپسی ہے — زندہ یا مردہ — اور یہ مقصد حاصل ہو رہا ہے۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے کہا کہ “وزیراعظم نتن یاہو کے مشکل فیصلے کرنے کے حوصلے نے اس معاہدے کو ممکن بنایا۔روسیا الیوم کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ اور بین الاقوامی نگرانی کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ 9 اکتوبر 2025  کو حماس نے باضابطہ طور پر غزہ میں جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا اعلان کیا تھا، جو اسی روز نافذالعمل ہوا۔یہ مذاکرات 6 اکتوبر 2025 کو مصر کے شہر شرم الشیخ میں شروع ہوئے، جن میں امریکی وفد کے ہمراہ اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے بھی شرکت کی۔یہ معاہدہ دو سالہ جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک نئے سیاسی و انسانی دور کی بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی فوجیوں کی فائرنگ سے 3 فلسطینی ماہی گیروں کی شہادت

?️ 7 مارچ 2021سچ خبریں:اسرائیلی فورسز نے بحیرہ خانیونس میں آج فلسطینی ماہی گیروں پر

قطر کا غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی ثالثی سے دستبرداری کا اعلان

?️ 10 نومبر 2024سچ خبریں:خبر رساں ادارے روئٹرز  کی رپورٹ کے مطابق، قطر نے غزہ

صحت کارڈ کے حامل مریضوں کو علاج کی رقم واپس نہیں کرنی ہوگی: فیصل سلطان

?️ 4 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے بعد شیخ نشین ممالک کی حکمت عملی

?️ 23 مارچ 2026سچ خبریں: سعودی تجزیہ کار نے خلیج فارس کے عرب ممالک کی

 سعودی صیہونی تعلقات کے اصلی ہیرو

?️ 13 جولائی 2022سچ خبریں:صیہونی اخبار نے آج ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں

جان بولٹن نے عدالت میں بے قصور ہونے کی استدعا کی

?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: ٹرمپ انتظامیہ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن

بچوں کی ابتدائی پرورش مستقبل کی معیشت کا تعین کرے گی۔ احسن اقبال

?️ 17 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے