وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے، 27ویں ترمیم میں مزید ترامیم شامل کرنے کا فیصلہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق اجلاس آج کسی بھی وقت ہونے کا امکان ہے، اجلاس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا معاملہ زیر غور آئے گا اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم فیصلوں کے علاوہ 27ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم متوقع ہیں۔

حکومت کی جانب سے کابینہ ارکان کو اجلاس کے لیے دستیابی یقینی بنانے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کےحوالے سے اہم فیصلے کیے جاسکتے ہیں، دیگر اہم فیصلوں کی منظوری کا بھی امکان ہے۔

کابینہ ارکان کو باضابطہ طور پر اجلاس کے ایجنڈے سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم میں اضافی ترامیم قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی، حکومت اور اپوزیشن کی اضافی ترامیم پیش کی جائیں گی، قومی اسمبلی سے اضافی ترامیم کی منظوری پر بل دوبارہ سینیٹ کو بھجوایا جائے گا۔

حکومت اضافی ترمیم کی منظوری وفاقی کابینہ سے لے گی، وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس آج ہی ہوگا، سینیٹ کا اجلاس بھی آج شام 5 بجے بلا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے معاملے پر اپوزیشن نے بھی بل کے خلاف 11 ترامیم لانے کا فیصلہ کیا ہے، اپوزیشن کی ترامیم اعلی عدالتی ڈھانچے میں تبدیلی کے خلاف ہیں، اپوزیشن نے استثنیٰ کے معاملے پر بھی ترامیم جمع کروائی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خود کش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوگئے تھے، پاکستان میں حالیہ عرصے میں افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کی جانب سے دہشتگردی کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر کشیدگی کے بعد جھڑپیں بھی ہوئیں، جس میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا تھا، پاکستان نے کابل میں فضائی حملے کرکے ہائی ویلیو ٹارگٹ کو ہدف بنایا تھا، تاہم باضابطہ طور پر پاکستان نے فضائی حملے کا اعتراف نہیں کیا۔

دونوں اسلامی پڑوسی ملکوں میں کشیدگی کے بعد دوست ممالک متحرک ہوئے اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا، جس میں جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا تھا، تاہم معاہدے کے اگلے مرحلے میں پاکستان نے افغان طالبان سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا، جس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے افغان طالبان پر پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث افغان سرزمین پر موجود گروپوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

قطر کے بعد ترکیہ کے دارالحکومت استنبول میں بھی پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے، جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے تھے، جس کے بعد دونوں ثالث ممالک کے وفود پاکستان اور کابل میں بات چیت کے لیے پہنچے تھے۔

مشہور خبریں۔

حزب اللہ کی فوجی تیاری ہمارے لیے اہم چیلنج ہے:صیہونی میڈیا

?️ 29 مئی 2023سچ خبریں:عبرانی زبان کے ایک اخبار نے صیہونی حکومت کی سکیورٹی سروسز

سیاسی بحران میں ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرات میں اضافہ

?️ 17 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سرمایہ کاروں کو ڈیفالٹ سے بچانے والے 5

شام پر قابضین اپنے فضول حملے کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں؟

?️ 23 دسمبر 2021سچ خبریں:شام پر حالیہ حملوں کے دوران اس ملک کے جنوبی علاقوں

اسرائیلی حکومت عراق پر حملہ کرنے کا بہانہ بناتی ہے: السوڈانی

?️ 20 نومبر 2024سچ خبریں: عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی نے کہا کہ صیہونی

غزہ کے ہسپتالوں پر صیہونی حملوں کے بارے میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا بیان

?️ 19 مارچ 2024سچ خبریں: عالمی ادارہ صحت کی ترجمان نے کہا کہ صیہونی حکومت

بغداد اور واشنگٹن امریکی فوج کے انخلا کے ٹائم ٹیبل پر متفق نہیں

?️ 26 جنوری 2024سچ خبریں:ایک امریکی میڈیا نے عراقی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا

بیلجیئم کی یونیورسٹی کا اسرائیلی مراکز سے رابطہ منقطع

?️ 18 مئی 2024سچ خبریں: بیلجیئم کی ایک یونیورسٹی نے تین اسرائیلی اداروں سے تعلقات

اسرائیلی فوج ٹینکوں اور زخمی فوجیوں کی مرمت میں مصروف 

?️ 5 اگست 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے نیٹ ورک "کان” نے رپورٹ دیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے