وزیراعظم نے لینڈ ریونیو اور کسٹم کو علیحدہ کرنے کی منظوری دے دی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے ریونیو جمع کرنے والے 2 اداروں کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو سروسز (آئی آر ایس) کو علیحدہ کرنے کی منظوری دے دی ہے، وزیر اعظم نے گزشتہ ماہ ٹاسک فورس کی جانب سے میری ٹائم سیکٹر میں اصلاحات کے لیے پیش کی جانے والی سفارشات کی منظوری دی تھی۔

ڈان اخبار نے سرکاری دستاویزات کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کمیٹی نے کم از کم 99 اقدامات تجویز کیے تھے جن میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی سے لے کر بندرگاہوں پر سہولتوں میں اضافہ تک شامل تھا، ان لینڈ ریونیو سروسز اور کسٹم کی تقسیم 31 مارچ تک کی جائے گی۔

ریونیو اتھارٹی کی ویب سائٹ کے مطابق موجودہ ڈھانچے کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ایک جامع ادارہ ہے، جس میں آئی آر ایس اور کسٹمز اس کے 2 ونگ ہیں۔

آئی آر ایس سیلز ٹیکس، انکم اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کرتا ہے جبکہ کسٹمز سرحدوں کے آر پار اشیا کی تجارت پر لیویز عائد کرتا ہے۔

مجوزہ اصلاحات میں ایف بی آر کی فعالیت اور فیصلہ سازی کی نگرانی کے لیے 3 الگ الگ بورڈز کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق پالیسیاں تیار کرنے کے لیے پالیسی بورڈ کا قیام بھی شامل تھا، وزیر خزانہ کی سربراہی میں بننے والے بورڈ میں نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ارکان شامل ہوں گے۔

آئی آر ایس اور کسٹمز کی نگرانی اور گورننس کے لئے دو الگ الگ بورڈ قائم کیے جائیں گے،ان بورڈز کی صدارت ایک ریٹائرڈ ٹیکس افسر یا وزیر خزانہ کی جانب سے نامزد کردہ ماہر کریں گے۔ ان بورڈز میں نجی شعبے کی نمائندگی بھی ہوگی۔

اگر اس منصوبے پر عمل درآمد ہوتا ہے تو چیئرمین ایف بی آر کا عہدہ ختم ہو جائے گا اور ان کی جگہ ان بورڈز کے چیئرپرسنز لے لیں گے۔

اصلاحات میں ایف بی آر کے موجودہ ارکان کی جگہ آئی آر ایس اور کسٹمز کے ڈائریکٹر جنرلز تعینات کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے، ٹیکس جمع کرنے کا ڈھانچہ اور طریقہ کار فیلڈ کی تشکیل کو تبدیل نہیں کرے گا۔

آئی آر ایس اور کسٹمز کو ریونیو ڈویژن سے منسلک کیا جائے گا، ڈی جیز کو اپنے اداروں پر انتظامی، مالی اور آپریشنل کنٹرول حاصل ہوگا، جس میں بجٹ سازی، پوسٹنگ اور تبادلے شامل ہیں۔

اسی قسم کے اقدام کا اعلان سابق نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے 16 نومبر 2023 کو کیا تھا، اس وقت کی کابینہ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کی تھی، تاہم موجودہ حکومت نے ابھی تک مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ ٹیکس اداروں کی جانب سے ایک بار پھر اس منصوبے کی مخالفت کی جائے گی اور حکام ان اصلاحات کو دیکھنے میں حکومت کی سنجیدگی پر بھی سوال اٹھائیں گے۔

ایک سینئر ٹیکس افسر نے ان شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا ٹیکس انتظامیہ میں اصلاحات کا کوئی ارادہ نہیں ہے، عہدیدار نے پیش گوئی کی کہ اس اقدام کا انجام ماضی کے اقدام سے مختلف نہیں ہوگا۔

یہ خدشہ اس حقیقت سے پیدا ہوتا ہے کہ ایف بی آر نے ابھی تک کسٹمز ایڈمنسٹریشن کے لیے ایک علیحدہ ممبر مقرر نہیں کیا ہے جس کی سفارش وزیر اعظم نے بھی منظور کی تھی۔ فی الحال، ایک رکن دونوں ٹیکس گروپوں کے انتظامی امور کی نگرانی کرتا ہے۔

حکومت نے تقریباً 7.1 کھرب روپے کے محصولات کے فرق کو پورا کرنے کے لیے ایک جامع تبدیلی کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، اس تبدیلی کا مرکز ٹیکس جمع کرنے کے لیے ڈیجیٹل حل کی تعیناتی ہے۔

مزید برآں، آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق حکومت ٹیکس کی فیصلہ سازی کے عمل کو وصولی سے الگ کرنے پر غور کر رہی ہے، ذرائع کے مطابق ایف بی آر اب بھی کسٹمز کی پالیسی سازی میں کردار ادا کرتا ہے۔

مشہور خبریں۔

ٹیکس کم سے کم اور سہولتیں زیادہ سے زیادہ کی پالیسی پر عمل کیا جائے

?️ 22 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیر صدارت ریسورس موبلائزیشن

یوم القدس منانا اتنا ضروری کیوں ہے؟ جانیئے اس رپورٹ میں

?️ 7 مئی 2021غزہ (سچ خبریں) اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم نے اپنی ناجائز تشکیل

رفح کراسنگ کی بحالی فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے:حماس

?️ 3 فروری 2026رفح کراسنگ کی بحالی فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے:حماس حماس کے

روس کے خلاف مغربی ممالک کی ایک اور ناکامی

?️ 21 جولائی 2023سچ خبریں: روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ مغرب

555 دن؛ غزہ میں دنیا کی شرمندگی کی کہانی

?️ 17 اپریل 2025سچ خبریں: کل، غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی حکومت کی وحشیانہ نسل

عمران خان کی رہائی ملکی مسائل کے حل میں ہے، شاہد خاقان عباسی

?️ 7 اپریل 2025جہلم: (سچ خبریں) عوام پاکستان پارٹی کے رہنماء شاہد خاقان عباسی کا

یمن میں ایک امریکی فوجی ہلاک

?️ 29 اپریل 2021سچ خبریں:امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ یمن میں ان کا ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے