وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے متعدد محکموں کو بند یا ضم کرنے کی تجویز

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ سے متعلق اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کو ایک ذیلی کمیٹی نے وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی میں متعدد کم کارکردگی کے حامل اداروں کو یا دوسرے محکموں کے ساتھ ضم کرنے کی سفارش کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان سفارشات میں پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پی سی ایس ٹی) اور کونسل فار ورکس اینڈ ہاؤسنگ ریسرچ (سی ڈبلیو ایچ آر)کو بند، پاکستان کونسل فار رینیوایبل انرجی ٹیکنالوجیز (پی سی آر ای ٹی) کو ایک اور ادارے میں ضم اور وزارت تعلیم کو وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی زیر نگرانی کام کرنے والی یونیورسٹیوں میں منتقل کرنا شامل ہے۔

اگر رائٹ سائزنگ کمیٹی نے اس تجویز کو منظور کیا تو یہ معاملہ حتمی فیصلے کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

وفاقی حکومت کے رائٹ سائزنگ پر اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا نوٹی فکیشن جون میں جاری کیا گیا تھا اور اس نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے اندر مختلف محکموں کے کام کاج، ان کے وجود کے جواز، ریونیو اکٹھا کرنے اور خود انحصاری کے حوالے سے سوال اٹھائے تھے۔

وزارت میں ذرائع نے بتایا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے مطالبہ کیا ہے کہ 2016 میں ماتحت ادارے کے طور پر قائم پاکستان حلال اتھارٹی (پی ایچ اے) کو اسی کے ماتحت رہنا چاہیے تاہم ذیلی کمیٹی کے اراکین نے تجویز دی کہ پاکستان حلال اتھارٹی کو کابینہ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول میں دیا جانا چاہیے۔

اسی دوران سب کمیٹی نے سوالات اٹھائے کہ پی ایچ اے کے افعال وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے اندر دوسرے محکموں کے ساتھ اوورلیپ ہوتے ہیں، جیسا کہ پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) اور پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ۔

ذیلی کمیٹی کی جانب سے پی ایچ اے اور پی ایس کیو سی اے کے ممکنہ طور پر کسی دوسری وزارت میں منتقلی سے قبل انضمام کی سفارش کرنے کی امید ہے۔

پی سی ایس آئی آر کا سالانہ بجٹ اربوں روپے میں ہونے کے باوجود آمدنی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہونے پر بھی پینل نے تحفظات کا اظہار کیا۔

وزارت کے حکام نے ذیلی کمیٹی کی سفارشات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ماتحت 9 ادارے بغیر کسی مستقبل سربراہ کے کام کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ قیادت کا خلا ہے جس کی وجہ سے بہت سے محکموں کی کارکردگی خراب ہے۔

قائدانہ بحران کا سامنا کرنے والے شعبہ جات میں پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی، کونسل فار ورکس اینڈ ہاؤسنگ ریسرچ ، نیشنل میٹرولوجی انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی، کومسیٹس یونیورسٹی اور پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل شامل ہیں۔

رائٹ سائزنگ کمیٹی کی حتمی سفارشات وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کے ڈھانچے اور آپریشنز میں بڑی تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل کی امریکی حمایت نے عالمی نظم کو متاثر کیا ہے: فیڈان

?️ 14 ستمبر 2024سچ خبریں: ترک وزیر خارجہ ہاکن فڈن نے ہفتے کے روز صیہونی

عالمی برادری اسرائیل کی غزہ میں صحافیوں کی ہلاکت میں غیر مستقیم شریک: عثمان الحکیمی

?️ 30 اگست 2025عالمی برادری اسرائیل کی غزہ میں صحافیوں کی ہلاکت میں غیر مستقیم

دہشتگردوں کو امن واستحکام برباد نہیں کرنے دیں گے

?️ 24 اکتوبر 2021راولپنڈی (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق آئی ایس پی آر نے ہرنائی

پاکستان اور بحرین کے درمیان عسکری تعاون میں پیش رفت

?️ 26 ستمبر 2025پاکستان اور بحرین کے درمیان عسکری تعاون میں پیش رفت منامہ اور

بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو ہر پل، ہر چیز سے اپڈیٹ رکھا گیا۔ بیرسٹر گوہر

?️ 26 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان

یمن کی تقسیم کا منصوبہ ناکام

?️ 19 جنوری 2022سچ خبریں:ابوظہبی اور دبئی پر یمنی افواج کا حالیہ حملہ متحدہ عرب

دنیا کو بدلنے کیلئے وسائل نہیں بلکہ بڑے خیالات درکار ہوتے ہیں۔ مریم نواز شریف

?️ 21 اپریل 2026لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ

شہزاد اکبر کا استعفیٰ منظورکر لیا گیا

?️ 26 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) صدر مملکت عارف علوی نے شہزاد اکبر کا بطور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے