?️
لاہور: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں آئینی ترمیمی بل ملک کیلئے خطرناک ہوگا، حکومت سپریم کورٹ میں اپنے مرضی کے ججز لگانا چاہتی ہے اور اس کے لیے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔
لاہور میں حافظ نعیم الرحمٰن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اس معاملے کو نہیں چھیڑنا چاہیے کیوں کہ موجودہ حالات میں بل ملک کے لیے خطرناک ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو سپریم کورٹ اور حکومت کے معاملات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بھی ججھک ہوتی تھی لیکن اب کھلم کھلا اس پر بات ہوتی ہے کہ کچھ ججز حکومت کے ساتھ ہیں اور کچھ اپوزیشن کے ساتھ ہیں، جب اس حد تک بات اگے چلی جائے تو ملک کے عدالتی نظام پر کس کا اعتبار رہے گا، چیف جسٹس خود سامنے آکر کہیں گے کہ انہیں مدت میں اضافہ نہیں چاہئیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہورہاہے، امید کرتا ہوں چیف جسٹس ایکسٹینشن میں عدم دلچسپی کا اظہار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ کونسی جماعت کیا مؤقف اختیار کرتی ہے، اگر لوگوں کو دھمکایا جا رہا ہے، ڈرایا جارہا ہے تو اس کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجا کے بیان پر نوٹس لینے کا مطالبہ کرتاہوں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے ممبران کو، اہلخانہ کو ڈرایا جارہا ہے اگر ان کی یہ بات غلط ہے تو بھی سامنے آجائے اور اگر درست ہے تو اس سے بڑھ کر بدنصیبی کیا ہو سکتی ہے کہ آپ اپنی مرضی کا فیصلہ اور ترمیم کروانے کے لیے پارلیمنٹ ممبران کے ساتھ یہ سلوک کریں یہ ناقابل قبول ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو اور کتنا پامال کیاجائےگا؟ ایک طرف یہ جماعتیں میثاق پارلیمنٹ کی بات کرتی ہیں اور دوسری طرف حکومت اپنی مرضی کی ترمیم کرنے کے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے تو اس سے زیادہ خراب بات کیا ہوسکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ یہ عمل آئین کو بے وقعت کرنے والا ہے، اس مسئلے کو سنجیدہ لینا چاہیے اور حکومت کو ایسے کسی بھی عمل سے باز رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پورے ملک کی صورتحال ہے خاص طور پر بلوچستان میں جو حالات نظر آرہے ہیں جہاں پاکستان کی بقا پر لوگوں نے سوال اٹھانا شروع کردیے ہیں اور دوسری طرف سندھ میں جو کچے کا علاقہ ہے اس میں کچے کے ڈاکو، پکے کے ڈاکوؤں کی سرپرستی میں کام کررہے ہیں، اسی طرح پنجاب کے ایک بڑے علاقے میں پولیس پر حملہ ہوا، خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں پولیس کی جانب سے تھانوں کا بائیکاٹ ایک بہت بڑا عمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک عارضی مسئلہ ہے، اس مسئلہ کو اس کے وسیع تر تنازع میں دیکھنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں بدامنی کے یہ حالات امریکا نوازی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ فوج اور عوام ایک دوسرے کے سامنے آجائیں، فوج اور پولیس آمنے سامنے آجائیں لہذا اس مسئلے سے نکلنے کی ضرورت ہے، اس میں عقلمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور یہ پاکستان کا مسئلہ ہے،حکومت اور اپوزیشن کو اس پر ایک وسیع تر مشاورت کرنی ہوگی۔


مشہور خبریں۔
اسلامی جہاد: فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کی منظوری منظم قتل کے دائرے میں ہے
?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: اسلامی جہاد نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا
نومبر
سعودی عرب کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے بارے میں اہم بیان
?️ 22 فروری 2022سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر حالات
فروری
فوزیہ صدیقی کی امریکی جیل میں عافیہ سے ایک بار پھر ملاقات طے پا گئی: وکیل
?️ 24 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) فوزیہ صدیقی کی امریکا میں قید اپنی بہن
نومبر
حکومت کا آئندہ مالی سال کیلئے بجلی پر مزید 3.23 روپے سرچارج عائد کرنے کا منصوبہ
?️ 11 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) معاشی بیل آؤٹ کے لیے آئی ایم ایف
مارچ
عراقی انتخابات میں امریکی خاندانوں کا ثقافتی اثر "آئی ایل پی” کے زیر احاطہ
?️ 3 نومبر 2025سچ خبریں: آئی ایل پی پروگرام کے سب سے مؤثر اجزاء میں
نومبر
پی ٹی آئی پر پابندی کے اغراض و مقاصد
?️ 17 جولائی 2024سچ خبریں: وزیر اعظم شہباز شریف نے چند ہفتے قبل قومی اسمبلی
جولائی
انگلینڈ میں بے روزگاری کی شرح میں نمایاں اضافہ
?️ 19 نومبر 2022سچ خبریں:برطانوی ادارہ شماریات نے بے روزگاری کی شرح میں نمایاں اضافے
نومبر
مذہب اسلام کی خاطر شوبز چھوڑنے والی زائرہ نسیم نے نکاح کرلیا
?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: مذہب اسلام کی خاطر شوبز چھوڑنے والی بولی وڈ کی
اکتوبر