?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال اندازے سے کہیں زیادہ خراب ہے، ہمارے پاس مالی گنجائش نہیں ہے جس کی وجہ سے سبسڈی نہیں دے سکتے اور اگر آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد نہیں کرتے تو حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے بھی شرکت کی۔
دوران اجلاس ملک کی موجودہ معاشی صورتحال بالخصوص بجلی کے زائد بلوں کے حوالے سے وزیر خزانہ شمشاد اختر سے ارکان کمیٹی نے سوالات کیے۔
چیئرمین کمیٹی نے بڑھتی مہنگائی اور ایکسچینج ریٹ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کا مسئلہ بے یقینی کی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔
کمیٹی کے رکن کامل علی آغا نے بڑھتے ہوئے اور عوام کی پریشانی کو اجاگر کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ سے دریافت کیا کہ موجودہ بجلی کے بلوں کی صورتحال میں وزیر خزانہ کیا حل پیش کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک جگہ چوری ہوتی ہے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے اور مطالبہ کیا کہ بجلی بلوں میں عائد ٹیکسوں کو فی الفور واپس لیا جائے۔
تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے بھی استفسار کیا ڈالر کی قیمت کے سلسلے میں آپ کیا کررہے ہیں اور سارے کا سارا پیسہ کچھ گروپس کو جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز اور پاکستان ساتھ نہیں رہ سکتے، فالٹی معاہدے ہوئے، انہوں نے اوور انوائس کرکے منصوبے لگائے اور آج آج مخلوق باہر نکل آئی کہ وہ بل ادا نہیں کرسکتی۔
پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ اس وقت سنگین صورتحال ہے، لوگ بل نہیں دے سکتے کیونکہ بلز میں ٹیکسز کی لمبی فہرست ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لوگ بل دینا بند کردیں تو آپ معاہدے ہولڈ نہیں کر سکتے، سننے میں آرہا ہے دو اور سرچارجز لگنے جا رہے ہیں، یہ چارجز کمر توڑ ہوچکے ہیں، لوگ اس وقت بہت تکلیف میں ہیں اور ہمیں لوگوں کے پاس جانا ہوتا ہے اور جواب دینا ہوتا ہے۔
اس موقع پر نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں کا نقصان ناقابل برداشت حد تک پہنچ چکا ہے لہٰذا نجکاری کے عمل کو تیز کرنا ہو گا اور نجکاری کے آسان اہداف کو جلد حاصل کیا جانا چاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کے لیے جو ادارے تیار ہوچکے ہیں ان کی فوری نجکاری کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کی 70 فیصد ٹیکس آمدن قرضے اتارنے پر خرچ ہو رہی ہے۔
شمشاد اختر نے مزید کہا کہ ڈالر ان فلو کم اور ڈالر آؤٹ فلو زیادہ ہونے کے باعث روپیہ دباؤ کا شکار ہے اور آئندہ منتخب حکومت کو آئی پی پیز سے دوبارہ بات چیت کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد نہیں کرتے تو ڈالر ان فلو رک جائے گا اور حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کے علاوہ اقدامات کی ضرورت ہے تاہم بدقسمتی سے ہم نے معیشت کو کمزور کرنے کے لیے تمام کام کیے ہیں۔
نگران وزیر خزانہ نے کہا کہ تیل کے لیے ہمارا دنیا پر انحصار ہے اور ہمیں بوجھ عوام پر منتقل کرنا پڑتا ہے، ہمارے پاس مالی گنجائش نہیں ہے جس کی وجہ سے سبسڈی نہیں دے سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی صورت حال اندازے سے کہیں زیادہ خراب ہے، آئی ایم ایف معاہدہ ہمیں ورثے میں ملا ہے اس لیے اس پر دوبارہ بات چیت ممکن نہیں ہے جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ دوسرے قرضے بھی جڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے ہمارے پاس لامحدود اختیارات ہیں، ہمارے پاس محدود اختیارات ہیں اور ان ہی کے اندر رہتے ہوئے کام کریں گے۔
ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ گزشتہ منتخب حکومت نے آئی ایم ایف سے ایڈجسٹمنٹس کا معاہدہ کیا لہٰذا نگران حکومت اس ضمن میں کچھ نہیں کرسکتی۔


مشہور خبریں۔
لبنان نے شام میں زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے اپنی بندرگاہیں اور ہوائی اڈے کھولے
?️ 7 فروری 2023سچ خبریں:شام میں زلزلہ کے متاثرین کی مدد کے لیے لبنان کی
فروری
روضہ امام حسین (ع) کے ارد گرد کڑی نگرانی
?️ 26 جولائی 2023سچ خبریں:آستان امام حسین (ع) سے وابستہ محکمہ نظم و نسق نے
جولائی
قومی اسمبلی نے مخصوص نشستوں کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا
?️ 2 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) قومی اسمبلی نے مخصوص نشستوں کی بحالی کا
جولائی
میئر کراچی کے الیکشن کے خلاف جماعت اسلامی کی حکم امتناع کی درخواست مسترد
?️ 14 جون 2023سندھ 🙁سچ خبریں) سندھ ہائی کورٹ نے میئر کراچی کے الیکشن کے
جون
راجن پور اور کچے کا علاقہ ڈاکوؤں سے 100 فیصد پاک کردیا۔ وزیراعلی پنجاب
?️ 14 فروری 2026لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ راجن
فروری
عمران خان کی عبوری ضمانت منظور
?️ 2 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچی خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج دھمکی کیس میں
اکتوبر
برطانیہ میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کو جرم قرار دینے کا منصوبہ
?️ 10 دسمبر 2022سچ خبریں:نئے برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کی حکومت پچھلی حکومت کی
دسمبر
صدر عارف علوی نے قومی احتساب ترمیمی بل 2023 پارلیمان کو واپس بھجوا دیا
?️ 30 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی احتساب
اپریل