مریم نواز نے پنجاب اسمبلی کی 4 نشستوں پر کاغذات جمع کرادیئے

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے 30 اپریل کو پنجاب میں ہونے والا انتخاب لڑنے کے لیے 4 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے۔

پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کے احتساب کو یقینی بنائے بغیر 2 صوبوں میں آئندہ انتخابات کی مخالف مریم نواز نے لاہور کے 3 اور گوجرانوالہ کے ایک حلقے سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی پنجاب میں زیادہ تر نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں جب کہ اب تک شریف خاندان اور زرداری فیملی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا ہے۔

پی پی پی امیدواروں نے ان چاروں نشستوں پر بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جن پر مریم نواز الیکشن لڑ رہی ہیں۔

دوسری جانب اگر انتخابات شیڈول کے مطابق ہوتے ہیں تو عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ان 4 میں سے کسی ایک نشست پر بھی مریم نواز کے خلاف میدان میں نہیں ہو گی۔

پنجاب اسمبلی کی چار نشستوں پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ مہنگائی کی وجہ سے عمران خان کی بڑھتی مقبولیت کے سامنے مسلم لیگ (ن اور اس کے ڈی فیکٹو سربراہ کے ’کم اعتماد‘ کو ظاہر کرتا ہے، مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پارٹی اپنے سینئر رہنما کی ہار کا خطرہ نہیں لے سکتی، اگر انتخابات ہوتے ہیں تو مریم نواز کو پنجاب اسمبلی میں پہنچنے کے لیے 4 میں سے کم از کم ایک سیٹ جیتنا ہو گی۔

جمعرات کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آخری روز تھا جب کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آخری تاریخ 14 سے 16 مارچ تک بڑھا دی تھی۔

مریم نواز کی جانب سے ان چاروں حلقوں پی پی 149، پی پی 158، پی پی 173 (لاہور) اور پی پی 63 گوجرانوالہ کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کافی محتاط تھیں۔

ان چار حلقوں میں سے 2 حلقے پی پی 149 اور اور پی پی 63 ان میں سے دو حلقے پہلے ان کی پارٹی کے پاس تھے اور باقی دو پی ٹی آئی کے پاس تھے۔

2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے فاتح چوہدری اقبال اپنی قائد کے حق میں پی پی 63 سے دست بردار ہوگئے، گوجرانوالہ کے چوہدری اقبال فرحت شہزادی عرف فرح خان کے سسر ہیں جو سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی قریبی دوست ہیں جنہیں مریم نواز مبینہ کرپشن میں ملوث ہونے پر مہینوں سے تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

مسلم لیگ ن نے 2018 کے عام انتخابات میں پی پی 63 اور پی پی 149 پر تقریباً 7000 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ پنجاب اسمبلی کا حلقہ 158 وہ تھا جسے پی ٹی آئی نے 2018 کے ساتھ ساتھ جولائی 2022 کے ضمنی انتخابات میں بھی جیتا تھا، یہ نشست پی ٹی آئی کے باغی رہنما جو ایک نیوز چینل کے مالک بھی ہیں، علیم خان کے پاس تھی ہیں، مایوس علیم خان نے مبینہ طور پر آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی پی 158 اور پی پی 173 سے پی ٹی آئی کے جیتنے والے امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں، اسی طرح پی پی 149 اور پی پی 63 سے رنرز اپ زبیر نیازی اور رانا عمر نذیر بھی مریم نواز کے مقابلے میں ہیں۔

مریم نواز کے کزن حمزہ شہباز نے بھی لاہور کے تین حلقوں پی پی 146، 147 اور 163 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

مشہور خبریں۔

3 سال بعد جمال خاشقجی کا قتل ایک ایسا کیس جو سعودی جرائم پر پردہ ڈال کر بند کیا گیا

?️ 2 اکتوبر 2021سچ خبریں: 2 اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے

ارجنٹائن کا پاکستان سے 12 لڑاکا طیارے خریدینے کا فیصلہ

?️ 18 ستمبر 2021سچ خبریں:ارجنٹائن کی حکومت نے اپنی ہتھیاروں کی ضروریات کو پورا کرنے

ممتاز اسرائیلی ربی: نیتن یاہو ملحد ہیں اور ان پر بھروسہ نہیں کیا جانا چاہیے

?️ 17 اگست 2025سچ خبریں: ربی یتزاک یوزف، جو پہلے سیفرڈک یہودیوں کے چیف ربی

زنگزور کوریڈور کے 2028 میں شروع ہونے کا امکان

?️ 7 جنوری 2024سچ خبریں:کوریڈور ترکی کے وزیر ٹرانسپورٹ اور مواصلات عبدالقادر اورا اوغلو نے

احسن اقبال کا قوم کو چائے کے بارے میں مشورہ

?️ 14 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اور خصوصی اقدامات

وزیر خارجہ ترکی کے دورے پر افغانستان کے مسائل کو اجاگر کریں گے

?️ 23 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری کی جانب سے

فرانسیسی صدر کی مقبولیت میں غیر معمولی گراوٹ؛ نئے سروے کے نتائج

?️ 28 دسمبر 2025سچ خبریں:حالیہ سروے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی مقبولیت ،

واشنگٹن فلسطین میں امن کی راہ میں واحد رکاوٹ

?️ 20 جون 2024سچ خبریں: ایک امریکی ویب سائٹ نے اپنے ایک تجزیے میں اس طرف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے