?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) مخصوص نشستوں کے کیس کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے وضاحت کے لیے سپریم کورٹ میں سول متفرق درخواست دائر کردی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے تفصیلی آرڈر اور پارلیمنٹ کی طرف سے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد کی صورتحال پر الیکشن کمیشن گزشتہ چند روز سے غور وخوض جاری تھا، جس کے نتیجے میں مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے وضاحتی آرڈر میں چند نکات پر نظرثانی درخواست داخل کر دی گئی ہے۔
مزید کہنا تھا کہ چونکہ تفصیلی حکم نامہ آ چکا ہے لہٰذا پہلے سے دائر شدہ نظر ثانی پر مزید نکات شامل کیے گئے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم اور بعد میں پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون کی روشنی میں کس پر الیکشن کمیشن کو عمل کرنا ہوگا اس پر سپریم کورٹ میں سول متفرق درخواست (سی ایم اے) داخل کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز مخصوص نشستوں کے کیس کے حوالے سے غور کے لیے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ساتواں اجلاس منعقد ہوا تھا۔
23 ستمبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کے تفصیلی فیصلہ میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کا یکم مارچ فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔
مخصوص نشستوں سے متعلق تفصیلی فیصلہ 70 صفحات پر مشتمل ہے، تفصیلی فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق اکثریتی فیصلہ اردو زبان میں بھی جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔
تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کوکالعدم قرار دیتی ہے، الیکشن میں سب سے بڑا اسٹیک عوام کا ہوتا ہے، انتخابی تنازع بنیادی طور پر دیگر سول تنازعات سے مختلف ہوتا ہے، یہ سمجھنے کی بہت کوشش کی کہ سیاسی جماعتوں کے نظام پر مبنی پارلیمانی جمہوریت میں اتنے آزاد امیدوار کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟
تحریری فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے یکم مارچ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ملک میں جمہوری عمل کا ضامن اور حکومت کا چوتھا ستون ہے، الیکشن کمیشن فروری 2024 میں اپنا یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔
قبل ازیں، 6 اگست کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے دوران الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا تھا۔
ترمیمی بل کے مطابق انتخابی نشان کے حصول سے قبل پارٹی سرٹیفکیٹ جمع نہ کرانے والا امیدوار آزاد تصور ہو گا، مقررہ مدت میں مخصوص نشستوں کی فہرست جمع نہ کرانے کی صورت میں کوئی سیاسی جماعت مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ہوگی۔
ترمیمی بل میں کہا گیا کہ کسی بھی امیدوار کی جانب سے مقررہ مدت میں ایک مرتبہ کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا اظہار ناقابل تنسیخ ہو گا۔


مشہور خبریں۔
امریکہ اور یورپ افریقہ میں استعمار کی واپسی کے خواہاں ہیں: روس
?️ 27 جنوری 2023سچ خبریں:روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایک تقریر میں کہا کہ
جنوری
ایکسٹینشن نہیں لوں گا،5 ہفتوں بعد ریٹائرڈ ہو جاؤں گا،جنرل قمر جاوید باجوہ
?️ 21 اکتوبر 2022راولپنڈی: (سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بار پھر واضح
اکتوبر
صیہونی حکومت کے سربراہ ترکی کے راستے پر
?️ 7 مارچ 2022سچ خبریں: اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ بدھ کو ترکی کے صدر رجب
مارچ
بحیرہ احمر میں امریکی جنگی طیارے کے ساتھ کیا ہوا؟
?️ 22 دسمبر 2024سچ خبریں:یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے رکن محمد علی الحوثی نے
دسمبر
یمن میں امن مذاکرات کے عمل میں امریکہ کی رکاوٹ
?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:امریکی اشاعت انٹرسیپٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں یمن کی تازہ
مئی
صہیونی میڈیا: سنوار نے اسرائیل کو دو ناقابل فراموش سبق سکھائے
?️ 3 مئی 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے صہیونی اخبار "اسرائیل ہیوم” نے اپنی ایک
مئی
اسٹیک ہولڈرز کا وی پی این رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ
?️ 28 نومبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک بھر میں غیر رجسٹرڈ ورچوئل پرائیویٹ
نومبر
سعودی اتحاد نے 80 سے زائد مرتبہ یمنی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی
?️ 6 اپریل 2022سچ خبریں: یمنی فوج کے آپریشن روم رابطہ کے ایک ذریعے نے،
اپریل