لاہور: مریم اورنگزیب، جاوید لطیف 30 ستمبر کو انسداد دہشت گردی عدالت میں طلب

?️

لاہور:(سچ خبریں) لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف اور مریم اورنگزیب کو اشتعال انگیز گفتگو کرنے کے مقدمے میں 30 ستمبر کو طلب کرلیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل خان نے درخواست پر سماعت کی اور جج نے سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے پیش کی گئی ڈسچارج رپورٹ مسترد کردی۔

انسداد دہشت گری عدالت نے مریم اورنگزیب اور جاوید لطیف کو 30 ستمبر کو طلب کر لیا۔

یاد رہے کہ ستمبر 2022 میں لاہور کے گرین ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں مقامی مسجد کے امام کی مدعیت میں مریم اورنگزیب اور جاوید لطیف کے خلاف سیکشن 9 (فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کا جرم) اور 11 ایکس-3 (شہری انتشار پیدا کرنے کی ذمہ داری) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں شکایت کنندہ نے کہا تھا کہ انہوں نے 14 ستمبر کو مسلم لیگ(ن) کے رہنما جاوید لطیف کی پریس کانفرنس دیکھی جس میں انہوں نے عمران خان کے خلاف مذہب کے نام پر تشویش ناک الزامات لگائے۔

مقدمے میں پاکستان ٹیلی ویژن کے منیجنگ ڈائریکٹر سہیل خان اور کنٹرولر پروگرام راشد بیگ کو بھی نامزد کیا گیا تھا اور ان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پریس کانفرنس قومی ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی۔

پنجاب میں اس وقت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت تھی اور اس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) محمد ہاشم ڈوگر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس ایف آئی آر کی کاپی شیئر کی اور کہا تھا کہ کسی بھی شہری بشمول عمران خان کے خلاف مذہبی منافرت اور تشدد پر اکسانے کی اجازت نہیں دی جاے گی۔

واضح رہے کہ پروگرام میں جاوید لطیف نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں احمدی کمیونٹی کی سپورٹ کر کے اسلام کے بنیادی اصولوں پر حملہ کیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ جب عمران خان نے نیا پاکستان بنایا تو کراچی میں قادیانی سرگرم ہوگئے، کیا عمران خان نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں نہیں کہا تھا کہ قادیانیوں کو مذہبی آزادی دی جائے گی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ جاوید لطیف نے عمران خان کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے پارٹی قیادت کے ساتھ مریم اورنگزیب کے کہنے پر متنازع بیان دیا۔

شکایت کنندہ نے کہا تھا کہ اس پریس کانفرنس کے ایک روز بعد جاوید لطیف کی ایک اور پریس کانفرنس دیکھی جس میں انہوں نے اصرار کیا کہ وہ اپنے پہلے بیان پر قائم ہیں۔

بعد ازاں جاوید لطیف نے اپنے خلاف پنجاب کے مختلف تھانوں میں دائر مقدمات کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی اور مؤقف اپنایا تھا کہ اسلام آباد سے نشر ہونے والے ایک پروگرام کے دوران میرے بیانات کے خلاف پنجاب میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس طرح کے مقدمات اسلام آباد کے علاوہ کہیں اور درج نہیں ہوسکتے کیونکہ پروگرام اسلام آباد سے نشر ہوا تھا۔

جاوید لطیف نے کہا تھا کہ یہ پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا دائرہ اختیار ہے کہ اگر پروگرام میں میری باتیں نامناسب اور جارحانہ ہیں تو وہ میرے خلاف کارروائی کرے اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان کے خلاف دائر تمام مقدمات کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

مشہور خبریں۔

صہیونی صحافی: ہم جنگ کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں

?️ 16 جون 2025سچ خبریں: ایک صیہونی صحافی نے ایران کے خلاف قابض حکومت کی

طالبان کو تسلیم کرنا ابھی بہت دور ہے:امریکی صدر

?️ 7 ستمبر 2021سچ خبریں:افغانستان میں پیش آنے والی صورتحال اور طالبان کی جانب سے

قرآن پاک کی توہین کے خلاف احتجاج کی لہر جاری

?️ 1 جولائی 2023سچ خبریں:اسلامی، عرب اور غیر عرب ممالک سویڈن کے ایک انتہا پسند

بائیڈن کے خاندان کا حقیقی چہرہ

?️ 3 جون 2023سچ خبریں:امریکی صدر کے بیٹے کے لیپ ٹاپ میں موجود فحش مواد

امریکی بنیادی ڈھانچہ پر سائبر حملہ

?️ 25 مئی 2023سچ خبریں:چینی ہیکرز امریکہ کے اہم انفراسٹرکچر کی جاسوسی کرنے میں کامیاب

عمران خان سے بدسلوکی پر پی ٹی آئی کی چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کی درخواست

?️ 19 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے چیف جسٹس

گورنر راج سے نہیں ڈرتے، وفاق میں ہمت ہے تو لگا کر دکھائے، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا

?️ 30 نومبر 2024 پشاور: (سچ خبریں) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے

صیہونی حکومت کے سب سے بڑے جاسوس غبارے کا مقصد ؟

?️ 30 مئی 2023سچ خبریں:Yediot Aharonot اخبار نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے سب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے