?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ زخمی ہونے کے باوجود وہ قوم کی خاطر آج راولپنڈی جانے کے لیے پرعزم اور اپنی پارٹی کے لانگ مارچ کی قیادت کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
عمران خان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی احتجاجی تحریک کے حتمی مرحلے کے لیے راولپنڈی پہنچ جائیں۔ انہوں نے ایک بار پھر نئے انتخابات کا مطالبہ کیا جہاں ان کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ملک کو دیوالیہ ہونے اور سیاسی تباہی سے بچائے گا، انہوں نے کہا کہ وہ اپنی اگلی حکمت عملی کا اعلان ہفتہ کو راولپنڈی میں اپنی تقریر کے دوران کریں گے۔
ایک نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ عناصر میرے اور فوج کے درمیان جھگڑا چاہتے تھے لیکن یہ ملک اور فورس دونوں ان کی ہیں، انہیں پورے اداروں سے نہیں بلکہ فوج کے اندر صرف کچھ کالی بھیڑوں سے مسئلہ ہے۔
حکومت کے ساتھ بات چیت کے امکانات کے بارے میں انہوں نے سوال کیا کہ اگر وہ عام انتخابات قبل از وقت کرانے پر راضی نہیں ہیں تو بات کرنے کے لیے کیا رہ گیا ہے؟۔
انہوں نے کہا کہ بدترین صورتحال میں انتخابات یقینی طور پر اگلے سال اکتوبر میں ہوں گے اور دعویٰ کیا کہ عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے موجودہ حکمرانوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی آزادی کی تحریک آج (26 نومبر) کو ختم نہیں ہو گی بلکہ انصاف کی فراہمی تک جاری رہے گی۔
جب ان سے فیصل واوڈا کے دہری شہریت کے مقدمے میں عدالتی فیصلے اور اس کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جو طاقتیں ہیں وہ معاشرے کی بنیادی اخلاقی اقدار کو برباد کر رہی ہیں، جمہوریت ہمیشہ اخلاقی معیار پر کھڑی رہی ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ نواز کو الیکشن لڑنے کا اہل بنانے کے لیے قوانین میں ’ترمیم‘ کی جا رہی ہے۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ دونوں کے تعلقات خوشگوار ہیں لیکن ہمیں مخلوط حکومت میں لینے اور دینے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔
قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر کے اندراج کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے مونس جتنا دباؤ ڈال سکتئے تھے، اتنا ڈالا لیکن پولیس نے ان کی ہدایات پر عمل نہیں کیا کیونکہ انہیں طاقتور حلقے کنٹرول کرتے ہیں۔
اپنی صحتیابی کے بارے میں اپ ڈیٹ دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ان کی ران میں لگنے والی دو گولیوں کے زخم ٹھیک ہو رہے ہیں لیکن تیسری گولی ان کی ٹانگ کے نچلے حصے میں لگنے والی گولی کی وجہ سے انہیں چلنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ انہیں اب بھی خطرات کا سامنا ہے اور وہ اس سلسلے میں ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کریں گے۔
دریں اثنا، پی ٹی آئی پنجاب نے لانگ مارچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے اور منصوبہ بنایا ہے کہ دو الگ الگ قافلے موٹر وے اور جی ٹی روڈ سے ہوتے ہوئے راولپنڈی کی طرف روانہ ہوں گے، وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مارچ کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب سے جمعہ کو اپنے دفتر میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فواد چوہدری سے ملاقات کی اور جب ان سے سوال کیا گیا کی خبریں کہ پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کو صوبائی حکومت کے خاتمے کا کام سونپا گیا ہے تو پرویز الٰہی نے جواب دیا کہ لوگ آتے جاتے رہیں گے لیکن پنجاب میں کوئی بھی سیاسی مہم جوئی کامیاب نہیں ہو گی۔
اس دوران فواد چوہدری نے کہا کہ لانگ مارچ کے شرکا پرامن رہیں گے۔


مشہور خبریں۔
عراق کو شام میں دہشتگرد گروہوں کی واپسی پر تشویش
?️ 22 دسمبر 2024سچ خبریں:عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے شام اور غزہ کی صورتحال
دسمبر
عمران خان کسی کی بھی غیر قانونی سفارش نہیں کریں گے:فواد چوہدری
?️ 22 مئی 2021لاہور (سچ خبریں) لاہور میں جہانگیر ترین گروپ کے رکن نعمان لنگڑیال
مئی
وزیراعظم کی ترک وزیر خارجہ و دفاع سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر اظہاراطمینان
?️ 9 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے ترک وزیر خارجہ اور
جولائی
کالیفرنیا میں تارکین وطن کے ڈرائیونگ لائسنس منسوخ
?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: کیلیفورنیا کی ریاستی حکام 17,000 جاری کردہ ڈرائیونگ لائسنس منسوخ
نومبر
حکومت سابق وزیر خزانہ لے سکتی ہے
?️ 1 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی کابینہ میں غیر متوقع طور پر تبدیلیوں میں
اپریل
18 بار عمر قید کی سزا پانے والا فلسطینی قیدی
?️ 1 اپریل 2025 سچ خبریں:علی الرجبی نامی وہ فلسطینی مجاہد جو 18 بار عمر
اپریل
ترکی میں 12 ہزار 873 اور شام میں 3 ہزار 162 ہلاک
?️ 9 فروری 2023سچ خبریں:ترکی کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ ملک
فروری
غزہ جنگ کا امریکی اور صیہونی بنیادی مقصد
?️ 30 اکتوبر 2024سچ خبریں:غزہ کی جنگ میں امریکہ کی عملی حمایت، زمینی حقائق اور
اکتوبر