?️
اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر شیخ رشید نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان یہ طہ پایا کہ اسمبلی میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرانے کی قرار دار پیش کی جائے گی شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک ملک بھر بالخصوص مسجد رحمتہ اللعالمین سے دھرنے ختم کرنے پر رضامند ہوگئی ہے اور بات چیت کا سلسلہ مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
یہاں یہ بات مدِنظر رہے کہ گزشتہ روز قومی اسبملی کا اجلاس جمعرات 22 اپریل تک کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا اور آج کوئی اجلاس شیڈول نہیں تھا۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک ملک بھر بالخصوص مسجد رحمتہ اللعالمین سے دھرنے ختم کرنے پر رضامند ہوگئی ہے اور بات چیت کا سلسلہ مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کارکنان کے خلاف درج کیے گئے تمام مقدمات بشمول فورتھ شیڈول کے واپس لیے جائیں گے اور اس حوالے سے مزید تفصیلات آج پریس کانفرنس کر کے جاری کی جائیں گی۔
یہ اعلان وزیر مذہبی امور اور وزیر داخلہ شیخ رشید پر مشتمل حکومتی ٹیم کے ٹی ایل پی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد کیا گیا۔
قبل ازیں مذاکرات کے دوسرے دور میں گورنر پنجاب چوہدری سرور اور صوبائی وزیر قانون راجا بشارت نے حکومت کی نمائندگی کی تھی۔
مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل کوٹ لکھپت جیل میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی اور حکومتی ٹیم کے مابین 7 گھنٹے طویل مذاکرات کے تینوں ادوار بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے تھے۔
ان مذاکرات میں پنجاب قرآن بورڈ کے چیئرمین حامد رضا، سنی تحریک کے ثروت اعجاز قادری، جے یو آئی پاکستان کے سابق رکن اسمبلی عبدالخیر محمد زبیر اور مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی میاں جلیل شرقپوری نے حکومت کی نمائندگی کی تھی۔
حکومتی وفد کے ہمراہ سعد رضوی کے چھوٹے بھائی انس رضوی بھی جیل گئے جہاں انہوں نے ٹی ایل پی سربراہ کے ساتھ افطاری کی اور تراویح پڑھی۔
ٹی ایل پی کے مطالبات
تحریک لبیک نے حکومت کے سامنے چار شرائط رکھی تھیں جس میں کہا گیا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کے بعد فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔
انہوں نے مزید مطالبات کیے کہ پارٹی کے امیر سعد رضوی کو رہا کیا جائے، پارٹی پر پابندی ختم کی جائے اور گرفتار کارکنوں کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف درج ایف آئی آرز بھی ختم کی جائیں۔
ٹی ایل پی کا حالیہ احتجاج
گزشتہ برس اکتوبر کے دوران فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر ٹی ایل پی نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور فرانسیسی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کیا تھا۔
جس پر حکومت نے 16 نومبر کو ٹی ایل پی کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمان کو شامل کیا جائے گا اور جب 16 فروری کی ڈیڈ لائن آئی تو حکومت نے سمجھوتے پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت مانگا۔چنانچہ ٹی ایل پی نے مزید ڈھائی ماہ یعنی 20 اپریل تک اپنے احتجاج کو مؤخر کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔
بعد ازاں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اتوار کے روز ، مرحوم خادم حسین رضوی کے بیٹے اور جماعت کے موجودہ سربراہ سعد رضوی نے ایک ویڈیو پیغام میں اپنے کارکنان کو کہا تھا کہ اگر حکومت ڈیڈ لائن تک مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہتی ہے تو احتجاج کے لیے تیار رہیں، جس کے باعث حکومت نے انہیں 12 اپریل کو گرفتار کرلیا تھا۔
ٹی ایل پی سربراہ کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع ہوگئے تھے جنہوں نے بعض مقامات پر پرتشدد صورتحال اختیار کرلی تھی۔
جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد جاں بحق جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے اور سڑکوں کی بندش کے باعث لاکھوں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بعد ازاں حکومت پاکستان کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے اعلان کیا گیا تھا، اس دوران ملک کے مختلف احتجاجی مقامات کو کلیئر کروا لیا گیا تھا تاہم لاہور کے یتیم خانہ چوک پر مظاہرین موجود تھے جہاں اتوار کی صبح سے حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ اس نے نواں کوٹ تھانے پر حملے کے بعد مظاہرین کے خلاف آپریش کیا، اس کارروائی کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 15 پولیس اہلکاروں سمیت سیکڑوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔
دوسری جانب ٹی ایل پی نے ڈی ایس پی سمیت 11 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنالیا تھا جنہیں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ وزارت داخلہ نے 15 اپریل کو تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیا تھا، بعد ازاں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جماعت کی میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔


مشہور خبریں۔
ابو عبیدہ کا بچنا اسرائیلی سیکورٹی نظام کی ایک بڑی ناکامی
?️ 20 جنوری 2025سچ خبریں: صہیونی عسکری امور کے تجزیہ کار امیر بخبوت نے واللا
جنوری
سعودی عرب اور امارات کے تنازع پر امریکہ کو تشویش
?️ 3 مئی 2026 سچ خبریں:جریدہ ایکسیوس نے امریکی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے
مئی
صہیونی ریاست کی نئی کابینہ کے تشکیل پانے سے پہلے ہی سیاسی جماعتوں میں شدید اختلاف پیدا ہوگیا
?️ 13 جون 2021تل ابیب (سچ خبریں) ایک طرف جہاں صہیونی ریاست کی نئی کابینہ کی
جون
اسرائیل مستقل جنگ بندی قبول کیوں نہیں کر رہا ہے؟
?️ 1 مئی 2025سچ خبریں: ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اطالیہ سے واپسی پر صحافیوں
مئی
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی بھارت میں کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟
?️ 27 جنوری 2023سچ خبریں:مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی گزشتہ روز اپنے بھارت کے دورہ
جنوری
نیتن یاہو مزاحمتی تحریک کے خلاف جنگ کو وسعت دینے سے کیوں ڈرتے ہیں؟
?️ 10 اپریل 2023سچ خبریں:نیتن یاہو جنہیں عدالتی بغاوت کی وجہ سے ان دنوں بڑے
اپریل
غزہ میں 20 لاکھ فلسطینیوں کا بھوکا رہنا جائز اور اخلاقی ہے: صیہونی وزیر
?️ 5 اگست 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کی کابینہ کے وزیر بیٹسلیل اسموٹریچ نے نسل
اگست
یورپ میں امن کو خطرہ لاحق
?️ 19 مارچ 2024سچ خبریں:جرمن ٹیگس شا، ہسپانوی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے روسی صدر
مارچ