?️
مصر کے بعداسرائیل کے حامی کمپنیوں کے خلاف پابندیوں کی لہر تونس تک پہنچ گئی
الجزیرہ کے مطابق، تونس کے عوام نے مصر اور دیگر مسلم ممالک کی طرح، غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف بین الاقوامی اور کثیر القومی کمپنیوں کے تحریم کی مہم میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے اور یہ تحریک دن بہ دن مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔
تونس میں پچھلے چند مہینوں کے دوران وہ برانڈز جن پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا الزام ہے، صارفین کی جانب سے بائیکاٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کمپنیوں کو اپنی مارکیٹنگ اور کاروباری حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
مثال کے طور پر، مشروب کی کمپنی کوکا کولا کو کم فروخت کا سامنا ہے اور اس نے صارفین کو راغب کرنے کے لیے خصوصی پروموشنز اور رعایتی پیشکشیں شروع کی ہیں۔ اسی طرح، فاسٹ فوڈ چین "کینٹاکی فرائیڈ چکن” نے بھی اپنے کچھ صارفین کھو دیے ہیں اور اب زیادہ تر فروخت ڈلیوری سروس کے ذریعے ہو رہی ہے۔
تحریم کی مہم نہ صرف مارکیٹوں میں بلکہ آن لائن بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ فرانسوی سپرمارکیٹ چین کارفور کے خلاف احتجاجات تونس کی دارالحکومت اور دیگر شہروں میں منعقد کیے گئے، اور سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز اور آگاہی ویڈیوز کے ذریعے اس تحریک کو مزید فروغ دیا گیا۔
کمپین کے رکن آلاء الهادف نے الجزیرہ کو بتایا کہ اگرچہ ابھی تک کسی بڑی عالمی کمپنی کے دفتر بند نہیں ہوئے، مگر اس مہم نے صارفین کی سوچ اور روزمرہ زندگی میں فلسطین کے مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
اسی طرح، علاء الدین الهمامی نے کہا کہ کم فروخت اور رعایتی پیشکشیں واضح ثبوت ہیں کہ عوامی دباؤ کمپنیوں کی پالیسیوں کو بدلنے پر مجبور کر رہا ہے۔ احمد الکحلاوی، جو عرب مزاحمت کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نارملائزیشن کے خلاف تنظیم کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ یہ تحریم صرف علامتی نہیں بلکہ ایک معاشی ہتھیار بن گئی ہے جو فلسطینی عوام کی حمایت کو ظاہر کرتی ہے۔
تحریم مہم نے تونس میں صارفین میں شعور پیدا کیا ہے، لوگ اب خریداری کرتے وقت اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کون سی مصنوعات اسرائیلی جنگی مشینری کی حمایت کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں، "کاروان پائداری” کے ذریعے فلسطینی عوام کے ساتھ عملی یکجہتی کا مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے، اگرچہ یہ کاروان مصر کے رفح راستے تک پہنچنے سے پہلے روک دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق، یہ تحریکیں ظاہر کرتی ہیں کہ تونس کے عوام صرف سیاسی یا علامتی حمایت تک محدود نہیں، بلکہ روزمرہ کی زندگی اور معاشی فیصلوں کے ذریعے بھی فلسطین کے مسئلے کے ساتھ وابستگی کا عملی مظاہرہ کر رہے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
سعودی عرب اور شام ایک قدم اور قریب
?️ 21 ستمبر 2023سچ خبریں: باخبر ذرائع نے بتایا کہ عنقریب دمشق اور ریاض میں
ستمبر
چینی صدر کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ٹرمپ کا بیان
?️ 29 اکتوبر 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ
اکتوبر
کیا نیٹو کے تمام اقدامات کا مقصد روس کے ساتھ تنازعہ ہے؟
?️ 13 جون 2024سچ خبریں: روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر گروشکو نے کہا کہ
جون
صہیونی حکومت کا فلسطینی مہاجرین کے خیموں میں آتشزدگی کا ہولناک جرم
?️ 14 اکتوبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی حکومت نے غزہ میں الشہداء الاقصیٰ اسپتال کے قریب
اکتوبر
امریکا کی جانب سے جنوبی کوریا کو وارننگ
?️ 21 دسمبر 2025 امریکا کی جانب سے جنوبی کوریا کو وارننگ جنوبی کوریا، جو گزشتہ
دسمبر
بائیڈن کی تجویز پر السنوار کا ردعمل
?️ 7 جون 2024سچ خبریں: وال اسٹریٹ جرنل اخبار کے مطابق غزہ کی پٹی میں
جون
اربعین واک کے لیے 20 ہزار سیکیورٹی فورسز موجود
?️ 27 اگست 2022سچ خبریں: کربلا آپریشنز کی کمان میں عراقی فوج کے محکمہ
اگست
افغانستان میں امریکہ کی نئی سازش اور پاکستان کا واضح موقف
?️ 21 جون 2021(سچ خبریں) امریکہ کی جانب سے افغانستان میں ایک نئی سازش کی
جون