عدالتوں کو تحویل کے مقدمات میں بچوں کو بھی لازمی سننا چاہیے، سپریم کورٹ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے اس امر پر زور دیا ہے کہ عدالتوں، خصوصاً فیملی کورٹس اور ضلعی عدلیہ کے ججز کو بچوں کی تحویل اور سرپرستی سے متعلق مقدمات میں بچے کی آواز کو سننا اور اس کا احترام کرنا چاہیے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق جسٹس سید منصور علی شاہ نے بچوں کی تحویل سے متعلق ایک مقدمے کے فیصلے میں لکھا کہ یہ کوئی خواہش یا ہدف نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ طفل (سی آرسی) کے تحت ایک لازمی ذمہ داری ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے زور دیا کہ عدالتوں، خاص طور پر فیملی کورٹس پر اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر بچے کو صرف ایک خاموش فریق کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ ایک ایسے فرد کے طور پر تسلیم کریں جو حقوق رکھتا ہے اور جس کی عزت اور وقار کا تحفظ عدالتی عمل کے ہر مرحلے پر لازم ہے۔

یہ کارروائی ابتدائی طور پر ڈاکٹر ثنا ستار (والدہ) نے شروع کی تھی جنہوں نے لیّہ کے سینئر سول جج (فیملی ڈویژن) کی عدالت میں اپنے دو بچوں کی تحویل کے لیے درخواست دائر کی، ان کی درخواست 14 جولائی 2023 کو مسترد کر دی گئی تاہم ان کے اور بچوں کے درمیان ملاقاتوں کو یقینی بنانے کے لیے ایک شیڈول ترتیب دیا گیا۔

تاہم دونوں والدین نے لیّہ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں الگ الگ اپیلیں دائر کیں، جن پر عدالت نے بچوں کی تحویل والدہ کو دے دی اور والد ڈاکٹر محمد آصف کے لیے ملاقات کا شیڈول مقرر کر دیا۔

اس فیصلے کے خلاف والد نے لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ میں آئینی درخواست دائر کی جو 24 مئی 2024 کو مسترد ہو گئی۔ بعد ازاں انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، جو 18 جولائی کو خارج کر دی گئی۔

اس کے بعد والد نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی اور قرار دیا کہ بچوں کی تحویل بدستور والدہ کے پاس رہے گی۔

نظرثانی کی درخواست خارج کرتے ہوئے عدالت نے فریقین کو ہدایت دی کہ وہ ماتحت عدالت کی جانب سے مقرر کردہ ملاقات کے شیڈول پر سختی سے عمل کریں، عدالت نے مزید کہا کہ بچوں کی تحویل والدہ کے پاس ہی رہے گی، جب تک والد نئی درخواست دائر نہ کرے جسے کوئی مجاز فورم حالات میں کسی بنیادی تبدیلی کی روشنی میں فیصلہ کرے۔

12 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے وضاحت کی کہ بچوں، خاص طور پر خصوصی ضرورتوں والے بچے کا بہترین مفاد اسی میں ہے کہ وہ والدہ کی تحویل میں رہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی دوسرا نگران ماں کی فطری محبت، جذباتی تسلسل اور حفاظتی ماحول کا مکمل متبادل فراہم نہیں کر سکتا، یہاں تک کہ ایک پیشہ ور ماں ہونا بھی تحویل کے لیے اس کی موزونیت کو کم نہیں کرتا بلکہ اس کی ثابت قدمی اور اپنے بچوں کو محفوظ، پرورش پزیر اور باوقار ماحول فراہم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

فیصلے میں عدالتوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ بچوں سے متعلق مقدمات میں ایک دوستانہ، شمولیتی انداز اپنائیں اور بچوں پر مرکوز عدالتی فلسفہ اختیار کریں، جو قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے بچوں کے تحفظ، نگہداشت اور اختیار سازی پر مبنی ہو۔

فیصلے میں ’چائلڈ جسٹس‘ کے جامع تصور پر بھی زور دیا گیا، جس میں نہ صرف ان بچوں کو شامل کیا گیا ہے جنہیں قانون سے ٹکراؤ کی صورتحال درپیش ہوتی ہے، جن کے لیے اصلاحی اور بحالی پر مبنی طریقہ کار اپنانا ضروری ہے، بلکہ تحویل اور سرپرستی کے تنازعات میں ملوث بچوں کو بھی عزت، بولنے کی آزادی، تحفظ اور اختیار کے ساتھ عدالتی کارروائیوں میں شامل کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ بچوں کے مفاد کو ہر صورت میں اولین ترجیح دینی چاہیے، اس اصول کے تحت عدلیہ کو رسمی طریقہ کار سے آگے بڑھ کر ہر بچے کی انفرادی کمزوریوں، ارتقائی ضروریات اور مستقبل کی صلاحیتوں کو سنجیدگی سے مدِنظر رکھنا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

نیتن یاہو عالمی عدالت پر غصہ

?️ 12 جنوری 2024سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم نے ہیگ کی عدالت میں اس حکومت کے

یومِ قدس طوفان الاقصیٰ کے سائے میں؛ اسرائیلی خطرہ صرف فلسطین تک محدود نہیں

?️ 28 مارچ 2025 سچ خبریں:یومِ قدس، جسے امام خمینی نے رمضان المبارک کے آخری

اقوام متحدہ کی اگلی سیکریٹری جنرل، خاتون کا ہونا ضروری ہے: جرمن

?️ 27 ستمبر 2024سچ خبریں: جرمن فوکس، جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک نے نیویارک میں

 سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کی تازہ ترین صورتحال

?️ 3 فروری 2024سچ خبریں:ایک امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل سے

واشنگٹن کی امریکی شہریوں کو عراق کا سفر نہ کرنے کی وارننگ

?️ 11 جون 2026سچ خبریں: بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے نے جاری کردہ ایک بیان

ایک اور طوفان الاقصی آنے والا ہے: شاباک کے سربراہ

?️ 23 جون 2026سچ خبریں:صیہونی میڈیا کے مطابق شاباک کے سربراہ نے خبردار کیا ہے

ہمیں واضح پیغام دیا گیا پاکستان کے ساتھ ہیں لیکن آئی ایم ایف پروگرام مکمل کریں، وزیراعظم

?️ 24 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم

جنوبی لبنان میں ایک بار پھر صیہونیوں کی جارحیت

?️ 14 مارچ 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے جنوبی لبنان پر اپنے حملوں کے نئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے