?️
سچ خبریں:یومِ قدس، جسے امام خمینی نے رمضان المبارک کے آخری جمعے کو بطور عالمی دن فلسطین کی آزادی اور صہیونیت کے خلاف بیداری کے لیے منتخب کیا، آج ایک ایسے مرحلے پر آن پہنچا ہے جہاں اس کی معنویت صرف فلسطین تک محدود نہیں رہی۔
طوفان الاقصیٰ کی مزاحمتی کارروائی اور اس کے اثرات نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اسلامی دنیا نے یومِ قدس اور اس کے پیغام کو سنجیدگی سے اختیار کر لیا ہے،یہی وجہ ہے کہ صہیونی لابی آج اس دن کو غیر مؤثر بنانے کے لیے تحریف، غلط معلومات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا سہارا لے رہی ہے۔
امام خمینی کا تاریخی ویژن
امام خمینی نے یومِ قدس کو صرف فلسطین کی آزادی کا دن قرار نہیں دیا، بلکہ اسے اسلام کی حیات، مظلومین کی نجات، اور استعمار کے خلاف بیداری کا دن قرار دیا۔ ان کے نزدیک قدس محض ایک سرزمین نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی غیرت کا مرکز ہے،امام خمینی کا کہنا تھا کہ اگر مسلمان شروع سے اسرائیل کی مخالفت میں یک زبان ہوتے تو آج یہ سرطان نما ریاست اس قدر طاقتور نہ بنتی۔
طوفان الاقصیٰ اور حقیقت کا انکشاف
فلسطینی مزاحمت کی تازہ ترین کارروائی طوفان الاقصیٰ نے اس پیغام کو مزید واضح کر دیا کہ صہیونی خطرہ صرف فلسطینی حدود تک محدود نہیں، یہ ایک منصوبہ بند سامراجی سازش ہے جو پورے مشرق وسطیٰ اور اسلامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا چاہتی ہے،اس وقت جب بعض عرب ریاستیں اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے میں لگی ہیں، یہ مزاحمتی حملے ان کے دعووں کو جھٹلا رہے ہیں۔
مزاحمت کا عالمی نظریہ
امام خمینی نے عالمی سطح پر حزب مستضعفین کے قیام کی بات کی، تاکہ دنیا کے تمام مظلوم ایک متحدہ محاذ بنا سکیں،ان کا نظریہ آج حزب اللہ کی شکل میں حقیقت بن چکا ہے، جو مزاحمت کی عالمی علامت بن چکی ہے اور قرآن کے وعدے کے مطابق زمین کے وارث مظلومین کو بنانے کی سمت میں رواں دواں ہے۔
صہیونیت؛ صرف ایک ریاست نہیں، ایک سامراجی سوچ
امام خمینی نے بارہا واضح کیا کہ اسرائیل صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک فساد پر مبنی سامراجی نظریہ ہے، جو صرف فلسطین تک محدود نہیں رہے گا،اگر اس کے منصوبے مکمل ہوئے، تو پورا مشرق وسطیٰ اور اسلامی تہذیب خطرے میں پڑ جائے گی،یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسرائیل سے تعلقات کو اسلام سے غداری قرار دیا اور خبردار کیا کہ یومِ قدس کو بھلا دینا، دراصل دشمن کی چالوں کو کامیاب بنانا ہے۔
موجودہ صورتِ حال اور مسلم دنیا کی ذمہ داری
آج جب طوفان الاقصیٰ نے ایک بار پھر صہیونی ریاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، اسلامی وحدت کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے، یومِ قدس، محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ مظلومین و مستضعفین کی عالمی بیداری کا ستون ہے،اب وقت آ چکا ہے کہ اسلامی حکومتیں اور عوام اس دن کو سیاسی، ثقافتی، سفارتی اور عملی سطح پر بھرپور انداز میں منائیں، تاکہ فلسطین کی آزادی کی منزل قریب آ سکے۔
مزید پڑھیں: نہ ختم ہونے والا صیہونیوں کا خوف و ہراس
یومِ قدس کے حوالے سے غفلت، امتِ مسلمہ کی اجتماعی کمزوری کا باعث بنے گی، اور مسئلہ فلسطین کو نظرانداز کرنا اسلامی تہذیب کے قلب پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
آئی ایم ایف کو لکھا جائے گا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا، عمران خان
?️ 27 فروری 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے کہا ہے کہ میں جیل سے
فروری
مغربی استعماری نظام میں پامال ہوتے خواتین کے حقوق اور اسلامی نظام میں خواتین کا مقام
?️ 14 مارچ 2021(سچ خبریں) ایک طرف جہاں مغربی ممالک، خواتین کے حقوق کے جھوٹے
مارچ
برازیل میں ایکس نیٹ ورک پر پابندی پر ایلون مسک کا ردعمل
?️ 1 ستمبر 2024سچ خبریں: ایکس نیٹ ورک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ
ستمبر
بنوں میں اہم جرگہ، فتنۃ الخوارج اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
?️ 8 جون 2025بنوں: (سچ خبریں) بنوں میں اہم جرگہ منعقد ہوا جس میں فیصلہ
جون
عمران ریاض کا نام پی این آئی ایل سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
?️ 15 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ نے صحافی اور وی لاگر
فروری
ٹرمپ نے دنیا میں تفرقہ انگیز سیاست کے شعلوں کو بھڑکا دیا: لندن
?️ 17 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانیہ کے دورے سے قبل
ستمبر
صیہونیوں کے ہاتھوں غزہ کے ہسپتال کو آگ لگائے جانے پر عرب پارلیمنٹ کا ردعمل
?️ 28 دسمبر 2024سچ خبریں:عرب پارلیمنٹ نے شمالی غزہ میں اسرائیل کی جانب سے ہسپتال
دسمبر
یونیفیل: اقوام متحدہ کی افواج پر اسرائیلی حملے تشویشناک ہیں
?️ 17 نومبر 2025سچ خبریں: یونیفل کے ترجمان نے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی
نومبر