?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) افغانستان کے عبوری وزیرتجارت نے اسلام آباد میں نگران وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی سے ملاقات میں تجارت اور پاکستان سے بے دخل ہونے والے لاکھوں افغان باشندوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا کہ وہ کیسے اپنے ساتھ نقدی اور دیگر جائیدادیں واپس لے جاسکتے ہیں۔
اسلام آباد میں افغانستان کے سفارت خانے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ طالبان کے عبوری وزیرتجارت حاجی نورالدین عزیزی کی سربراہی میں افغان وفد نے نگران وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی سے ملاقات کی۔
بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران ’دو طرفہ تجارت بالخصوص کراچی پورٹ میں افغان تاجروں کی پھنسی ہوئی مصنوعات، مہاجرین کی جائیدادوں کی افغانستان واپسی اور اسے جڑے مسائل پر گفتگو کی گئی‘۔
افغانستان کے وزیر تجارت کے دورہ پاکستان سے قبل نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور مہاجرین کی بے دخلی کو بھی اسی سے جوڑا تھا۔
انوارالحق کاکڑ نے کہا تھا کہ افغان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی یقین دہانی کے باوجود پاکستان مخالف گروپس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔
دوسری جانب طالبان عہدیداروں نے کہا تھا کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی معاملہ اور مطالبہ کیا تھا کہ افغان شہریوں کی بے دخلی روک دی جائے۔
پاکستان سے بے دخل ہونے والے افغان مہاجرین کا کہنا ہے کہ انہیں نقدی اور جائیدادوں کی پاکستان سے افغانستان منتقلی پر پابندیاں ہیں اور کئی افغان شہریوں کے پاکستان میں کاروبار ہیں اور دہائیوں سے ان کے گھر موجود ہیں۔
افغان وزیر سے ملاقات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی نے انہیں بتایا کہ علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کے بھرپور مواقع دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں سے میسر ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے گزشتہ ماہ غیرقانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین سمیت غیرملکیوں کی رضاکارانہ بے دخلی کے لیے یکم نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی، جس کی وجہ سیکیورٹی معاملات قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مغربی سفارت کاروں کے مطالبات بھی مسترد کردیے تھے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے افغان مہاجرین کی واپسی پر ان کو درپیش سنگین حالات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس وقت سردیوں کا موسم ہے اور سرحد کے قریب کئی مہاجرین این جی اوز اور افغان حکام کی جانب سے فراہم کردہ پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔
دفترخارجہ نے بیان میں کہا کہ افغان وزیرتجارت ازبکستان اور پاکستان کے نمائندوں کے ساتھ سہ فریقی ملاقات میں بھی شریک ہوں گے۔
بیان میں سہ فریقی اجلاس کے حوالے سے تفصیلات نہیں بتائی گئیں لیکن تینوں ممالک ٹرانزٹ ٹریڈ اور جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان ریلوے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جو افغانستان سے گزرے گی۔


مشہور خبریں۔
افغانستان کا بینکاری نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاہے: اقوام متحدہ
?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ نے تین صفحات پر مشتمل اپنی ایک رپورٹ میں
نومبر
اقوام متحدہ غیر مؤثر ادارہ بننے کی جانب گامزن
?️ 28 ستمبر 2025اقوام متحدہ غیر مؤثر ادارہ بننے کی جانب گامزن ایک مغربی میڈیا
ستمبر
حزب اللہ کا مزاحمتی ہتھیاروں کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کا جواب
?️ 17 اپریل 2025سچ خبریں: بعض مغرب نواز لبنانی جماعتوں کے اشتعال انگیز بیانات اور
اپریل
ہم اپنی سرحدوں کا بھرپور دفاع کریں گے: وینزویلا کے وزیر دفاع
?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں: وینزویلا کے وزیر دفاع جنرل پادرینو لوپز نے ایک مقامی
دسمبر
غزہ میں باغی مسلح گروہوں کو اسرائیلی فوج کی عسکری مدد حاصل
?️ 16 اکتوبر 2025 غزہ میں باغی مسلح گروہوں کو اسرائیلی فوج کی عسکری مدد حاصل
اکتوبر
یوکرین میں پیش رفت کے بارے میں صیہونی حکومت کو ماسکو کا جواب
?️ 11 اکتوبر 2022سچ خبریں: تل ابیب میں ماسکو کے سفارت خانے نے یوکرین
اکتوبر
پی آئی اے کی خریداری: بلیو ورلڈ سٹی کی 85 ارب روپے کی بڑی پیشکش
?️ 4 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) بلیو ورلڈ سٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی
نومبر
مقبوضہ کشمیر میں حد بندی کا عمل کشمیری عوام کے ساتھ ایک اور بڑا دھوکا ہے
?️ 10 جولائی 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے آئے دن نئے
جولائی