سینیٹ میں سرعام پھانسی کی سزا کا بل کثرت رائے سے مسترد

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ نے سر عام پھانسی کی سزا سے متعلق بل کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا ہے۔ میڈیا  کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں (ن) لیگ، پاکستان تحریک انصاف، پیپلز پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں نے بل کی مخالفت کی۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے سینیٹر مشتاق احمد کی پاکستان پینل کوڈ اور کریمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشنز میں مجوزہ ترامیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی میں نے کمیٹی میں بھی مخالفت کی تھی، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سزائے موت کی سزا کی مخالفت کی ہے۔

رہنما پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ریپ ایک سنگین اور سنجیدہ جرم ہے، لیکن سر عام پھانسیوں سے معاشرے میں بربریت اور تشدد پسند سوچ میں اضافہ ہوگا، سرے عام پھانسی سے کسی ملک میں ریپ کا جرم ختم نہیں ہوا ہے، سرے عام پھانسی ایک جرم کے لیے رکھی جائے گی تو دوسرے جرائم کے لیے بھی اس سزا کا مطالبہ کیا جائے گا۔

سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں استغاثہ، پولیس اور تفتیش کے پہلے ہی مسائل ہیں، سزائے موت کی سزا کے حوالے سے پاکستان کا پانچواں نمبر ہے، کیا اس سے جرم رکا ہے؟ سرعام پھانسی اکیسویں صدی کے معاشرے کو زیب نہیں دیتی ہے، سرعام پھانسی سے جرم نہیں رکے گا بلکہ اس کے معاشرے پر دوسرے اثرات مرتب ہوں گے۔

سینیٹر تاج حیدر نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے بتایا کہ کہ سرعام پھانسی دینے سے انسانیت کا احترام ختم ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اسحٰق ڈار نے بتایا کہ (ن) لیگ سرعام پھانسی کے قانون کے حق میں نہیں ہے، سینیٹر عرفان صدیقی نے مؤقف اپنایا کہ ہم موت کی سزا ختم نہیں کرناچاہتے ہیں لیکن موت کی سزا کوپھانسی گھاٹ تک ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے۔

سینیٹر طاہر بزنجو نے اس معاملے پر مجرمان کی اصلاح اور تربیت کرنے پر زور دیا، متعدد سینیٹرز نے مؤقف اپنایا کہ ایسے بل اسلامی قوانین اور بین الاقوامی ضوابط کے خلاف ہیں۔

سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ امریکا میں موت کی سزا دے کر اس کی ویڈیو جاری کی جاتی ہے، سعودی عرب میں بھی پھانسی دی جاتی ہے۔

بعد ازاں سینیٹ نے سر عام پھانسی سے متعلق بل کو کثرت رائے سے مسترد کردیا۔

اس کے علاوہ سینیٹ اجلاس میں ملک میں آبی وسائل ، سیلابوں اور پانی کی بد انتظامی کے حوالے سے تحریک پر بحث کی گئی۔

اس معاملے پر سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ 35 سے 50 فیصد پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے، ہمارے پاس دریائے سندھ، قدرتی وسائل موجود ہیں لیکن ہم نے انہیں استعمال نہیں کیا، دریاؤں میں پانی کی کمی کیوں آئی ہے؟ کہیں بھارت تو ہمارے وسائل کو استعمال نہیں کر رہا؟

ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک میں ضائع ہونے والے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے پلاننگ کی جاتی ہے، 2010 میں جو سیلاب آیا تھا اس میں 43 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا، کیا یہ کہنا مناسب ہو گا کہ بھارت نے پانی چھوڑ دیا ہے؟

سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ ہمارے پاس بہت بڑا ایریا ہم اسے استعمال کر سکتے ہیں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کہتا ہے 1.2، 1.3 ہیڈرو بجلی استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ کو پنجاب سے شکایت ہے کہ جب ہم پانی مانگتے ہیں تو گڈو سے پانی پہنچنے تک 7 روز لگ جاتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں تل ابیب کی ناکامی اور مستقبل کی تبدیلی کا روڈ میپ

?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی کے مطالعہ کے مرکز، INSS، اس

 افریقی یونین صیہونی سفیر کی تذلیل 

?️ 7 اپریل 2025 سچ خبریں:ایتھوپیا میں صیہونی ریاست کے سفیر کو افریقی یونین کے

بن گوئر کے خلاف مظاہروں میں شدت؛ غلط پوزیشن پر غلط وزیر!

?️ 14 فروری 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ملٹری انٹیلی جنس ادارے کے سابق سربراہ آموس

سپریم کورٹ نے جبری گمشدگیوں کے خلاف درخواست اعتراضات لگا کر واپس کردی

?️ 12 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک

جرمن پولیس ایک مسلمان بچے کی علیحدگی کی متنازع فلم کی تحقیقات کے درپے

?️ 1 مئی 2023سچ خبریں:جرمن پولیس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ایسے بچے

کیا صہیونی نیتن یاہو کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟

?️ 28 مارچ 2024سچ خبریں: زیادہ تر صہیونی 7 اکتوبر کے بعد نیتن یاہو کی

عدالتوں کو اپنی غلطیوں کے نتیجے میں ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ کرنا چاہیے

?️ 13 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ یہ عدالت

فیصل واڈا کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہوئی، نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں

?️ 6 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فیصل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے