سپریم کورٹ نے عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے این اے 262 کوئٹہ سے مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر انہیں عہدے پر بحال کردیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عادل بازئی کو قومی اسمبلی سے ڈی سیٹ کیے جانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ عادل بازئی کیس میں حقائق جانچنے کے لیے کمیشن نے انکوائری کی؟

جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ بس بڑے صاحب کا خط آگیا تو بندے کو ڈی سیٹ کردو یہ نہیں ہو سکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک حلقے کے عوام کو ڈی فرنچائز کرنے کا پیمانہ سخت ہونا چاہیے۔

عادل بازئی کے وکیل سردار تیمور نے کہا کہ ایک دن معاملہ الیکشن کمیشن پہنچا اگلے دن کارروائی شروع کر دی، ہم نے (ن) لیگ سے وابستگی کا بیان حلفی مانگا تو دیا نہیں گیا۔

جسٹس عائشہ ملک نے ڈی جی لا الیکشن کمیشن سے مکالمہ کیاکہ آپ کے پاس دو بیان حلفی آئے تھے، ایک جیتنے والا کہہ رہا ہے میرا ہے دوسرا وہ کہتا ہے میرا نہیں، آپ نے کس اختیار کے تحت بغیر انکوائری ایک بیان حلفی کو درست مان لیا، کیا الیکشن کمیشن یہ کہہ سکتا ہےکہ بس ایک بیان حلفی پسند نہیں آیا دوسرا آگیا؟

یاد رہے کہ 9 دسمبر کو سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا 21 نومبر کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن ) کے منحرف رکن عادل  بازئی کی قومی اسمبلی کی رکنیت بحال کردی تھی۔

عادل بازئی نے 8 فروری کو منعقدہ انتخابات میں آزاد حیثیت میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم بجٹ سیشن کے دوران انہوں نے پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی کی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے عادل خان بازئی کی نااہلی کا ریفرنس اسپیکر ایاز صادق کو بھجوایا تھا جس میں آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل خان بازئی کی نشست کو خالی دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

اسپیکر ایاز صادق نے مزید کارروائی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن کو ارسال کیا تھا، الیکشن کمیشن نے 12 نومبر کو عادل بازئی کی نااہلی کے ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

بعد ازاں، ریفرنس پر فیصلہ سناتے ہوئے عادل خان بازئی کو ڈی سیٹ کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں این اے 262 کوئٹہ ون کی نشست کو خالی قرار دے دیا۔

قانون کے مطابق ایک آزاد امیدوار الیکشن کمیشن میں وفاداری کا حلف نامہ جمع کرانے کے بعد پارٹی نہیں بدل سکتا، اس کے باوجود عادل بازئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے ارکان کا ساتھ دیتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے خصوصی سیکریٹری نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو خط تحریر کیاتھا جس میں بتایا گیا تھا کہ رکن قومی اسمبلی عادل بازئی نے پارٹی قیادت کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔

عادل بازئی کے خلاف الیکشن کمیشن کو ریفرنس قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے آرٹیکل 63 اے کے تحت ارسال کیا تھا۔

مشہور خبریں۔

السنوار جنگ بندی کے خلاف تھے ؛ امریکہ کا چھوٹا دعوی

?️ 18 اکتوبر 2024سچ خبریں: یحییٰ السنوار کے قتل کے اعلان کے بعد، جس کی

عمران خان کیخلاف جعلی مقدمات بنانے کا حساب لیں گے، علی امین گنڈاپور

?️ 5 جون 2024پشاور: (سچ خبریں) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا

میں نے2 سال پہلے بتا دیا تھا کہ نمو آئے گی:اس عمر

?️ 28 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد چیمبرز آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے

پی ٹی آئی کا علی امین گنڈاپور کے فوج کی سیاست میں مداخلت سے متعلق بیان پر معذرت سے انکار

?️ 10 ستمبر 2024پشاور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف  نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی

صیہونی کابینہ کی لبنان میں جنگ بندی کی تجویز کو منظوری:صیہونی ریڈیو کا انکشاف

?️ 11 نومبر 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت کی جنگی کابینہ نے لبنان میں جاری تنازع کو

عراقی انتخابات میں سوڈانی اور شیعہ جماعتوں نے کیسے کامیابی حاصل کی؟

?️ 17 نومبر 2025سچ خبریں: حالیہ انتخابات میں سوڈانی شیعوں اور شیعہ جماعتوں کی فیصلہ

حزب اللہ: ان مذاکرات کے خلاف ہیں جو لبنان کی خودمختاری کو نقصان پہنچائیں

?️ 15 اپریل 2026سچ خبریں: حزب اللہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے لبنان کی حکومت

محض الفاظ نہیں عملی اقدام سے عزم کو دہرانا ہوگا۔ اسحاق ڈار

?️ 22 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے