?️
اقوام متحدہ: (سچ خبریں) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان عبوری حکومت سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرنے کےپاکستان کے مطالبے کی حمایت کرے جو پاکستان کے فوجی اور سویلین اہداف پر حملے کے لیے مسلسل ذمہ دار ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم گزشتہ روز 15 رکنی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بحث کے دوران خبردار کیا کہ القاعدہ اور کچھ ریاستی سرپرستوں کی حمایت یافتہ ٹی ٹی پی جلد ہی عالمی دہشت گردی کے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغان عبوری حکومت کی ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروپوں پر قابو پانے میں ناکامی اس کے اپنے علاقے پر مکمل کنٹرول کے اس دعوے کے برعکس ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری میں شناخت کی خواہاں ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ پر بھی زور دیا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرے کہ ٹی ٹی پی نے جدید فوجی سازوسامان اور ہتھیار کیسے حاصل کئے اور ٹی ٹی پی کی مالی اعانت کے ذرائع کی نشاندہی کی جائے، جو اس کے 50 ہزار جنگجوؤں اور ان کے زیر کفالت افراد اور اس کی دہشت گرد کارروائیوں کے لئے معاونت کر رہے ہیں۔
انہوں نےتوقع ظاہر کی کہ سلامتی کونسل پاکستان کے اس مطالبے کی حمایت کرے گی کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی سے اپنے تعلقات ختم کرے اور ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ تنظیموں کو پاکستان یا دوسرے ہمسایہ ممالک کے خلاف سرحد پار حملے کرنے سے روکا جائے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اس لئے افغان عبوری حکومت کے ساتھ روابط کے لیے کسی بھی مستقبل کے روڈ میپ میں انسداد دہشت گردی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو غیر مشروط انسانی امداد کی فراہمی کے ذریعے لاکھوں بے سہارا افغان شہریوں کی مدد کرنی چاہیے نیز افغانستان کی معیشت کی مدد کے لیے بین الاقوامی برادری کو بینکنگ سسٹم کی بحالی میں مدد کرنی چاہیے اور ملک کے مرکزی بینک کے منجمد اثاثے واگزار کرنے میں سہولت فراہم کرنی چاہیے ۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اس سلسلے میں افغان حکومت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے شمولیت کو فروغ دینا اور سب سے بڑھ کر افغانستان میں اور وہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے افغان عبوری حکومت اور بین الاقوامی برادری کے باہمی اقدامات کے ساتھ ایک حقیقت پسندانہ روڈ میپ کا مطالبہ کیا، جس سے ملک کےبین الاقوامی برادری کا حصہ بننے کی راہ ہموار ہو۔
پاکستانی مندوب نے افغانستان کی صورت حال پر سیکرٹری جنرل کی رپورٹ پر کچھ اعتراضات بھی پیش کئے، جن میں پاکستان میں تحفظ کے نامناسب ماحول کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ اس حوالہ سے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان 40 سال سے زائد عرصے سے تقریباً 50 لاکھ افغان مہاجرین کو عالمی برادری کی بہت کم مدد کے ساتھ بڑی اقتصادی، سماجی اور سلامتی کی قیمت پر میزبانی کر رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
مغرب نے چین کو نشانہ بنایا لیکن کشمیر کے معاملے پر خاموشی بنائی رکھی
?️ 29 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) اسلام آباد میں چینی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے
جنوری
آئینی ترمیم منظوری معاملہ، بلاول بھٹو کی وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتیں
?️ 19 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) آئینی ترمیم کی منظوری کے مشن کوآگے بڑھاتے
اکتوبر
ایرانی حملے کے خوف سے صیہونی وزراء کے درمیان سیٹلائٹ فونز تقسیم
?️ 3 اگست 2024سچ خبریں: عبرانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو نے
اگست
شہباز شریف کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، امن بحالی کی اہمیت پر زور
?️ 24 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے
جون
کرپشن کے سال؛ امریکہ میں ایک ریاست کے پراسیکیوٹر کے بے مثال مقدمے کا آغاز
?️ 5 ستمبر 2023سچ خبریں: ٹیکساس کے ریپبلکن اٹارنی جنرل، جنہیں حال ہی میں بدعنوانی
ستمبر
مائیکرو سافٹ کو امریکی معاشی کساد بازاری کا سامنا ، 10,000 ملازموں کی چھٹی
?️ 19 جنوری 2023سچ خبریں: مائیکروسافٹ کمپنی کی جانب سے یہ اقدام کورونا وبا کے
جنوری
ترکی برائی کا محور
?️ 5 نومبر 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ میں صیہونی حکومت کے سفیر ڈینی ڈینن نے
نومبر
پاکستان نے علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر ایک مؤثر آواز کے طور پر خود کو منوایا ہے، وزیرِ دفاع
?️ 3 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے
نومبر