سخت ویزا پالیسی کے خلاف احتجاج جاری، چمن بارڈر سے پاک-افغان تجارت چوتھے روز بھی معطل

?️

چمن: (سچ خبریں) پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن بارڈر کراسنگ کے ذریعے تجارت مسلسل چوتھے روز بھی معطل رہی، سخت ویزا پالیسی کے خلاف دیے جانے والے دھرنے کے شرکا نے قندھار جانے والی شاہراہ کو مسلسل بند کر رکھا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کو ’ون-ڈاکیومنٹ رجیم‘ کے تحت ریگولرائز کرنے کے فیصلے کے خلاف ہزاروں تاجر، مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور سول سوسائٹی کے اراکین ایک ماہ سے زائد عرصے سے کوئٹہ-چمن شاہراہ پر دھرنا دے رہے ہیں۔

یہ فیصلہ گزشتہ ماہ نیشنل اپیکس کمیٹی نے لیا تھا، پاکستان نے یکم نومبر کو نئی بارڈر کراسنگ پالیسی کا نفاذ کیا، چمن میں سرحدی حکام نے پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر کسی کو بھی پاک-افغان سرحد عبور کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

تاجر اتحاد نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ’ون-ڈاکیومنٹ رجیم‘ کی پالیسی کو واپس لے اور چمن اور افغان ضلع اسپن بولدک کے لوگوں کو اپنے قومی شناختی کارڈ کے ذریعے سرحد عبور کرنے کی اجازت دے۔

مظاہرین نے چمن کی مرکزی شاہراہ کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا، اور پاکستان-افغانستان کے درمیان فرینڈ شپ گیٹ کے ذریعے ہر قسم کی تجارت معطل کر دی۔

کوئٹہ کے سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور سمیت وفاقی اور بلوچستان حکومتوں کے اعلیٰ حکام نے تاجر اتحاد کی قیادت اور علاقے کے قبائلی عمائدین سے مذاکرات کیے اور انہیں بتایا کہ حکومت نے سرحد پار کرنے کے لیے ’ون-ڈاکیومنٹ رجیم‘ متعارف کروا کر بین الاقوامی سرحدوں کو ریگولرائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم چمن انتظامیہ سمیت حکام کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور شاہراہ مسلسل بند رہی۔

چمن میں کسٹمز حکام نے بھی دونوں ممالک کے درمیان افغان ٹرانزٹ اور دیگر تجارت کی معطلی کی تصدیق کی، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور دیگر سامان سے لدے بڑی تعداد میں ٹرک سرحد کے دونوں جانب کھڑے ہیں اور شاہراہ کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکومت کا سرحدی گزرگاہوں کے لیے ’ون-ڈاکیومنٹ رجیم‘ کو واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

حکام نے مزید کہا کہ لوگوں نے چمن اور قلعہ عبداللہ کے دفاتر میں پاسپورٹ کے لیے درخواستیں دینا شروع کر دی ہیں۔

مشہور خبریں۔

متحدہ عرب امارات کی زلنسکی کو اقتصادی پیشکش

?️ 6 مارچ 2025 سچ خبریں:ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ متحدہ عرب

ٹرمپ کا دعویٰ: ہمارے پاس غزہ کے بارے میں اچھی خبر ہے

?️ 17 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات اور غزہ

سوشل میڈیا کیسے اسرائیل کے شانہ بشانہ فلسطینوں سے لڑ رہا ہے؟

?️ 30 اکتوبر 2023سچ خبریں: سوشل میڈیا لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے میں اہم کردار

صیہونی ریاض کے ممکنہ سمجھوتے پر فلسطینیوں کا رد عمل

?️ 8 اگست 2023سچ خبریں:فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم محمد اشتیہ نے اس اعتماد کا

لبنان میں سعودی سفیر کی نقل و حرکت

?️ 14 مئی 2022سچ خبریں:لبنان کے انتخابات قریب آتے ہی سعودی سفیر نے لبنان کے

غزہ میں اسیر ہونے والے شہداء کا دل دہلا دینے والا بیان

?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: غزہ شہر میں الشفا میڈیکل کمپلیکس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد

کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت کرانے میں سنجیدہ نہیں۔ الیکشن کمیشن

?️ 19 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ

شام میں ترکی اور اسرائیلی حکومت کو درپیش منظرنامے

?️ 9 اپریل 2025سچ خبریں: 8 دسمبر 2024 کو شام میں بشار الاسد کی حکومت کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے