ساڑھے تین سال میں ذمہ داری میری تھی لیکن حکمرانی کسی اور کی، عمران خان

?️

لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ساڑھے 3 سالہ حکومت کے دوران پورے اختیارات نہیں ملے، ذمہ داری میری تھی لیکن حکمرانی کسی اور کی تھی۔

لاہور میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ساڑھے 3 سال میں آدھی پاور بھی مل جاتی تو شیر شاہ سوری سے مقابلہ کر لیتے۔

سابق وزیراعظم  نے کہا کہ یہاں ذمہ داری میری تھی لیکن حکمرانی کسی اور کی تھی۔انہوں نے کہا کہ جب قانون کی حکمرانی ہوتی ہے تو معاشرہ خوش حال ہوتا ہے، انسانی معاشرے میں قانون کی بالادستی ہوتی ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہر دس سال گزشتہ زندگی سے بہتر ہوتے گئے اور زندگی میں چیلنج قبول کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ جس وقت اسپورٹس مین کی زندگی سے چیلنج ختم ہوتا ہے تو زندگی رک جاتی ہے۔

عمران خان نے گفتگو کے دوران کہا کہ جب پیسے ختم ہوتے تو کرکٹ پر تبصرے کرتا تھا، جب قوم محنت کرنا اور جدوجہد کرنا چھوڑ دے اور بھکاری بن جائے تو بہت برا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت میں رہ کر پتا چلا کہ پاکستانیوں کے اربوں روپے باہر ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارہ سے معاہدے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کے لیے اپنی آزادی سب چھوڑ دیتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ 1960 کی دہائی میں دنیا پاکستان کی مثال دیتی تھی، پاکستان کا سنگاپور سے مقابلہ تھا، پاکستانی صدر کو امریکی صدر ائیرپورٹ پر لینے آیا۔

انہوں نے کہا کہ جب قوم بن جائے تو پیسہ اکٹھا کرنا مشکل نہیں ہوتا، جب چیلنج ختم ہوتا ہے تو آپ کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ قوم مل کر قربانی دیتی ہے، مل کے ہر مشکل کا سامنا کرتی ہے۔

بعد ازاں لاہور میں ڈاکٹرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ معیشت خراب اور صنعت بند ہو گئی ہے حالانکہ ہمارے زمانے میں ریکارڈ برآمدات ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب زر مبادلہ اور ٹیکس جمع ہونا ختم ہو چکا ہے، موجودہ حکومت کے اربوں کے کرپشن کیسز معاف کر دیے گئے، اس سے زیادہ ظلم کسی معاشرے میں نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پر ظلم ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے قوم کو کال دے رہا ہوں، بیرونی سازش کے تحت ان چوروں کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

لبنان اور یمن صہیونی دشمن کے خلاف متحد ہیں: صنعا

?️ 28 مئی 2022سچ خبریں:  دمشق میں یمنی سفیر عبداللہ علی صبری نے استقامت اور

امریکی کانگریس بھی مریم نواز کے اقدامات کی معترف ہے۔ عظمی بخاری

?️ 20 نومبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ امریکی

جماعت اسلامی نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیوں کیا؟

?️ 7 فروری 2021اسلام آباد(سچ خبریں) جماعت اسلامی کراچی نے سال 2017 میں ہوئی مردم

انصاراللہ کے بارے میں امارات کی امریکہ سے درخواست

?️ 18 جنوری 2022سچ خبریں: متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید النہیان

ایہود باراک: اسرائیل دنیا میں نفرت انگیز حکومت بن چکا ہے

?️ 25 جولائی 2025سچ خبریں: سابق وزیر اعظم اور صیہونی حکومت کے جنگی وزیر ایہود

امریکہ کا شامی سرزمین پر مسلسل دوسری رات جارحانہ حملہ

?️ 25 اگست 2022سچ خبریں:     جمعرات کی صبح مقامی ذرائع نے شام کے ٹھکانوں

مزاحمت کی طاقت سے صیہونیوں کو تشویش

?️ 20 دسمبر 2021سچ خبریں:عرب دنیا کے ایک معروف تجزیہ نگار نے اپنے ایک کالم

فلسطینیوں کی خوشی سے صیہونی بوکھلاہٹ کا شکار؛ مغربی کنارے میں جشن پر پابندی

?️ 21 جنوری 2025سچ خبریں:قابض صیہونی انتظامیہ نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر ہونے والی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے