دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے، بلاول بھٹو

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔  بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی اور دہشت گردی کے حوالے سے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ ہم چند معاملات میں غلط اور دیگر معاملات میں درست تھے لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمیں دہشت گردی کے معاملے پر اپنے نقطہ نظر کا جائزہ لینا چاہیے، خیبرپختونخوا اور جنوبی وزیرستان کے شہریوں نے ہمیشہ دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے اور امن کی حمایت کی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں نے ان دہشت گردوں کو بھاگنے پر مجبور کیا اور عوام سمجھتے ہیں کہ خطے میں کچھ دہشت گرد ایک بار پھر واپس آرہے ہیں جن کے خلاف عوام احتجاج کررہی ہے اور احتجاج کرنا ان کا حق ہے، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ ملکی سلامتی سے متعلق فیصلوں پر اندرونی معاملات کا جائزہ لیا جائے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں امن، قانون کی حکمرانی اور ریاست کی رٹ کو یقینی بنائے، ہم ملک میں دہشت گردی کی واپسی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات یا جنگ کے حوالے سے سوال پر بلاول بھٹو زرداری کاکہنا تھا کہ اس مسئلے کا حل اتنا آسان نہیں ہے، اس معاملے پر میرا نقطہ نظر پچھلے حکومتوں کے فیصلوں سے مختلف ہے۔

انہوں نے جامعہ کراچی میں حملے اور خیبر پختونخوا میں متعدد واقعات کا حوالے دیتے ہوئے کہا پچھلے ایک سال سے دہشت گردانہ حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

وزیرخارجہ نےپریس کانفرنس کے دوران لکی مروت اور باجوڑ کے اضلاع میں دو الگ الگ واقعات میں 8 پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کی شہادت کا بھی حوالہ دیا۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی فوج کے ساتھ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ستمبر میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، زیادہ تر حملے خیبرپختونخوا کے اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں ہوئے ہیں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں پہلی بار پاکستانی حکام اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات ہوئے لیکن دسمبر میں ختم ہوگئے تھے بعد ازاں رواں سال مئی میں ایک بار بھی مذکرات کا آغاز ہوا تاہم یہ عمل قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کی منسوخی کے بعد ختم ہوگیا تھا۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان کی صورتحال سے متعلق کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے دنیا اب برداشت نہیں کرسکتی، انہوں نے باالخصوص لڑکیوں کی تعلیم اور دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر تشتویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کے ساتھ اپنے وعدے پورے کریں۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ طالبان کے فیصلوں سے متعلق دنیا کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے لیکن ہم ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائے گیں اور افغانستان کے ساتھ اپنے روابط جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا سوال ہے تو پاکستان اس فیصلے پر اکیلا نہیں جائےگا بلکہ بین الاقوامی برادری سے اتفاق رائے کے ساتھ یہ فیصلہ کرےگا۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے طالبان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان، دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے اور پاکستان یا دیگر ممالک کو دھمکیاں/ڈرانے کے بجائے عملی اقدامات پر غور کرے۔

مشہور خبریں۔

شاید ہم صرف پیوٹن کے بعد ہی منصفانہ امن حاصل کر سکیں: زلنسکی

?️ 29 مئی 2025سچ خبریں: کیف کے صدر وولودیمیر زلنسکی نے برلن کے دورے کے

شن بیٹ میں نیتن یاہو کے ساتھ منسلک سربراہ کی تقرری کے نتائج

?️ 24 مئی 2025سچ خبریں: اسرائیلی امور کے ایک ماہر نے بنجمن نیتن یاہو کے

نیٹو مولڈووا کو ہڑپ کرنے کے درپے!

?️ 28 دسمبر 2024سچ خبریں:روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مولڈووا

حکومت نے اسمبلی اختیارات محدود کرنے کیلئے ایوان اقبال میں اجلاس بلایا:چوہدری شجاعت حسین

?️ 15 جون 2022لاہور(سچ خبریں)مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے اسپیکر پرویز

عراق اور شام کی سرحدوں پر 10 ہزار دہشت گردوں کی موجودگی

?️ 12 اگست 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ نے عراق اور شام کی سرحدوں پر 10,000 دہشت

وزارت اعلیٰ پنجاب کے شفاف الیکشن کیلئے پی ٹی آئی کی درخواست پر جواب طلب

?️ 20 جولائی 2022لاہور: (سچ خبریں)لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے وزارت اعلیٰ کا انتخاب

دہشتگردی کی جڑ کہاں ہے؟

?️ 18 جون 2024سچ خبریں: عالمی افراتفری کے پھیلاؤ میں امریکہ کی وحشیانہ دہشت گردی

اسلام آباد کے ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے جگہ نہیں

?️ 1 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کا قہر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے