خیبر پختونخوا میں بیوروکریسی کا 100فیصد جھکاؤ پی ٹی آئی کی جانب ہے، نگران وزیر اطلاعات

?️

خیبرپختونخوا:(سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے نگراں وزیر اطلاعات فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے دعویٰ کیا کہ صوبائی اسمبلی کے منصفانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے کیونکہ پوری مقامی بیوروکریسی کا 100فیصد جھکاؤ سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کی طرف ہے۔

جمال شاہ کاکاخیل نے کابینہ کے طویل اجلاس کے حوالے سے بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے صوبائی اسمبلی کے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کا حلف اٹھایا ہے لیکن موجودہ بیوروکریٹک سیٹ اپ کی سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کے لیے جانبداری کی وجہ سے ایسا نہیں کر پائیں گے، بیوروکریسی ہمارے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور یہاں تک کہ چیف سیکریٹری بھی اس کے خلاف کارروائی کرنے میں بے بس نظر آتے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ لوگوں کے لیے سیاسی طور پر غیر جانب دار ہونا انسانی طور پر ممکن نہیں کیونکہ ان کی سیاسی وابستگی یا جھکاؤ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت آئندہ انتخابی مشق منصفانہ انداز میں اس وقت تک ادا نہیں کر سکے گی جب تک صوبے میں چھ اور سات سال سے اہم انتظامی عہدوں پر فائز سیکریٹریز کا تبادلہ نہیں کیا جاتا۔

جمال شاہ کاکاخیل نے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا منصفانہ انعقاد یقینی بنانے کے لیے صوبے کے تمام سیکریٹریز کی فوری تبادلوں کی حمایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بیوروکریٹک ردوبدل کوئی مشکل چیز نہیں ہے، بس سیکریٹریوں کو کم از کم دو ماہ یا الیکشن ہونے تک تبدیل کر دیں اور منتخب حکومت کے عہدے سنبھالنے سے قبل انہیں ان کے متعلقہ عہدوں پر واپس آنے دیں۔

وزیر نے کہا کہ انہوں نے بیوروکریٹس کو پی ٹی آئی کے حامی لوگ نہیں کہا لیکن وہ یہ کہنا چاہیں گے کہ بیوروکریسی میں کسی دوسری سیاسی جماعت کی طرف کوئی جھکاؤ نہیں دیکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے یکساں مواقع فراہم کرے اور ساتھ ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان کو انتخابی مشق کے انعقاد میں مدد فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت میں گزشتہ صوبائی حکومت نے پارٹی کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر 5 ہزار کے قریب سوشل میڈیا ورکرز کو ملازمت دی تھی۔

وزیر نے کہا کہ محکمہ اطلاعات میں صرف 1200 ایسی بھرتیاں ہیں جنہوں نے گھر میں رہ کر پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کو اجاگر کیا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سے پچھلی حکومت کی جانب سے ہونے والی بھرتیوں کی تحقیقات کرائے۔

مشہور خبریں۔

آصف کرمانی نے ن لیگ چھوڑنے کا اعلان کیوں کیا؟

?️ 21 جولائی 2024سچ خبریں: مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف

پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب سمیت 9 افراد گوادر سے گرفتار

?️ 29 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)

23 ارب روپے آزاد کشمیر حکومت کے اکاؤنٹ میں پہنچ چکے، شہباز شریف

?️ 16 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ

2,346 زخمی صہیونی فوجی سوروکا اسپتال منتقل

?️ 30 دسمبر 2023سچ خبریں:سوروکا اسپتال نے اس جمعہ کو اعلان کیا کہ غزہ جنگ

عارضی بنیادوں پر ججوں کو تعینات کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟تنازع کیا ہے؟

?️ 20 جولائی 2024سچ خبریں: جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود

کیا پی ٹی آئی کے کئی دھڑے ہو چکے ہیں؟

?️ 2 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے

کوئٹہ میں ہوئے خود کش دھماکے پر بلوچستان گورنر کا ردعمل سامنے آگیا

?️ 5 ستمبر 2021بلوچستان(سچ خبریں) گورنر بلوچستان سید ظہور آغا نے سیکیورٹی حکام کو کوئٹہ

ہم شہید طباطبائی کے قتل کے جرم کا جواب دینے کا وقت خود معین کریں گے: نعیم قاسم

?️ 29 نومبر 2025سچ خبریں:  حزب اللہ لبنان کے نائب سیکرٹری جنرل سید نعیم قاسم نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے