?️
لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے شہری کی درخواست پر حکومت کو 1990 سے 2001 تک توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کرنے کا حکم دے دیا، اس سے قبل فروری میں حکومت نے کابینہ کا ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کے فیصلے کا عدالت کو بتایا تھا، جس کے بعد 2002 سے 2022 کے دوران توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کردیا گیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے شہری منیر احمد کی درخواست پر سماعت کی اور توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے حکم میں کہا کہ جس دوست ملک نے تحائف دیے ہیں وہ بھی بتائے جائیں اور کوئی چیز چھپائی نہیں جا سکتی، سارا ریکارڈ پبلک کیا جائے۔
وفاقی حکومت نے عدالت کی جانب سے تحائف کے ذرائع بتانے کی ہدایت پر اعتراض کیا اور وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ہم اس کے خلاف اپیل فائل کریں گے۔
جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ اپیل کرنا آپ کا حق ہے لیکن قیمت کی ادائیگی کے بغیر کوئی تحفہ نہیں رکھ سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے شہری منیر احمد کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے توسط سے قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنے کے لیے دسمبر 2022 میں دائر درخواست پر 14 مارچ کو حکم دیا تھا کہ 1990 سے 2001 تک ریکارڈ پیش کردیں۔
جسٹس عاصم حفیظ نے تحریری حکم نامے میں کہا تھا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پیش ہو کر بتایا کہ 2002 سے اب تک کا ریکارڈ پبلک کردیا ہے، درخواست گزار کے مطابق پیش کیا گیا ریکارڈ نامکمل ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ ریکارڈ پبلک کرنے کا مصدقہ ریکارڈ عدالت کے روبرو پیش کریں۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ سیکشن افسر نے بتایا کہ 1990 سے 2001 کا ریکارڈ جزوی طور پر موجود ہے، سیکشن افسر کے مطابق اس ریکارڈ کی تصدیق نہیں کی جاسکتی، متعلقہ ریکارڈ کی جانچ اوپن کورٹ میں کی جائے گی، 21 مارچ کو ریکارڈ عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔
اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے توشہ خانہ کا 466 صفحات پر مشتمل 2002 سے 2023 تک کا ریکارڈ پبلک کرنے کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے تحائف سے متعلق پالیسی بنادی ہے۔
وفاقی حکومت نے 21 فروری کو کیس کی سماعت کے دوران توشہ خانہ کا سیل شدہ ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا تھا جبکہ 12 مارچ کو2002 سے 2022 کے دوران توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والے سرکاری عہدوں کے حامل افراد کا ریکارڈ پبلک کردیا تھا۔
دستاویزات کے مطابق چند تحائف کے سوا بیشتر تحائف سرکاری عہدیداروں نے مفت حاصل کیے، آصف زرداری اور نواز شریف نے اپنے ادوار میں ایک ایک بلٹ پروف گاڑی حاصل کی اور توشہ خانہ کو کچھ رقم ادا کرنے کے بعد ان گاڑیوں کو اپنے پاس رکھ لیا۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ نے 5 قیمتی گھڑیاں، زیورات اور دیگر اشیا حاصل کیں، پرویز مشرف اور شوکت عزیز نے ایک پیسہ بھی ادا کیے بغیر سیکڑوں غیر ملکی تحائف اپنے پاس رکھے۔
غیر ملکی معززین سے ملنے والے تحائف کے عوض ان عوامی عہدیداران، خصوصاً حکمرانوں نے غیر ملکی مندوبین کو کروڑوں روپے کے تحائف دیے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے توشہ خانہ کی تفصیلات کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی تھیں۔


مشہور خبریں۔
امریکی عدالتوں میں سرکاری شٹ ڈاؤن جاری رہنے کے ساتھ ہی برطرفی شروع ہو گئی
?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن جاری رہنے اور عدالتوں کے
اکتوبر
کارگل کے عوام نے شہید رئیسی کے لیے سوگ منایا
?️ 25 مئی 2024سچ خبریں: ہیلی کاپٹر حادثے میں ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم
مئی
انتخابی اصلاحات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے متعلق قانون اگلے ہفتے منظور کرالیا جائے گا
?️ 14 نومبر 2021پشاور(سچ خبریں) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز کا کہنا ہے
نومبر
17 مئی سے ملک بھر میں مارکیٹیں کھولی جائیں گی
?️ 15 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)
مئی
یمنی دارالحکومت کو ایک بار پھر سعودیوں نے نشانہ بنایا
?️ 16 فروری 2022سچ خبریں: یمن میں عام شہریوں کے خلاف سعودی جارح اتحاد کے
فروری
ڈونلڈ ٹرمپ کی ذلت میں کمی کے بجائے مزید اضافہ، فیس بک نے اہم قدم اٹھالیا
?️ 6 جون 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذلت و
جون
لبنان میں اسرائیلی دہشت گردی کے نتائج اور عالمی خطرات
?️ 24 ستمبر 2024سچ خبریں: لبنان پر اسرائیل کے مربوط حملے، جس کے دوران دو
ستمبر
غزہ کی جنگ سے نیتن یاہو کے ذاتی مفاد وابسطہ
?️ 26 دسمبر 2023سچ خبریں:اسرائیلی حکومت کے سابق وزیراعظم ایہود باراک کے سابق سیاسی مشیر
دسمبر