?️
سوات: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات اور دیر کی سرحد سے متصل پہاڑی علاقے میں دو روز قبل پولیس پارٹی پر فائرنگ کرنے والے عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سوات اور دیر اضلاع سے متصل تحصیل مٹہ کے علاقے بالاسور کے پہاڑوں میں پیر کے روزسرچ آپریشن جاری تھا کہ اس دوران کچھ شرپسندوں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی، پولیس کی جانب سے یہ آپریشن کنالہ اور بالاسور کے پہاڑی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد شروع کیا گیا تھا۔
سوات پولیس کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فائرنگ سے مٹہ سرکل کے ڈی ایس پی پیر سید خان زخمی ہوگئے تھے جب کہ پولیس کی جوابی فائرنگ کے بعد عسکریت پسند فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد ضلعی پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی اور ایلیٹ فورس کے اہلکار موقع پر پہنچے اور سرچ آپریشن کا دائرہ ملحقہ علاقوں تک بڑھا دیا گیا۔
بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے ڈی ایس پی کو سیدو شریف ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زیر علاج ہیں۔
سوات پولیس کے ترجمان معین فیاض نے بھی تصدیق کی کہ کبل اور خوازہ خیلہ تحصیلوں کے پہاڑوں میں دہشت گردوں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک شخص کو دکھایا گیا ہے جو طالبان عسکریت پسند ہونے کا دعویدار ہے کہ وہ ڈی ایس پی سید خان اور دو افسران کا انٹرویو کر رہا ہے، غیر تصدیق شدہ دعوے کے مطابق ان دو افسران کا تعلق پاک فوج سے ہے۔
زیر گردش ویڈیو میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان تینوں افراد کو طالبان عسکریت پسندوں نے یرغمال بنا رکھا تھا۔
اسی طرح مبینہ طور پر طالبان عسکریت پسند اور ایک صحافی کے درمیان ریکارڈ شدہ ٹیلی فون کال بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں عسکریت پسند کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ طالبان نے ایک ڈی ایس پی اور دو فوجی افسران کو یرغمال بنایا ہے اور جب تک جرگہ ان سے ملاقات نہیں کرے گا وہ ان افسران کو آزاد نہیں کریں گے۔
غیر سرکاری ذرائع کے مطابق تینوں مغویوں کو جرگہ ارکان کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد رہا کر دیا گیا، تاہم انتظامیہ اور پولیس حکام تاحال عسکریت پسندوں کے ہاتھوں افسران کے یرغمال بنائے جانے سے متعلق خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔


مشہور خبریں۔
حکومت نے عوام پر ٹیکس کا اضافی بوجھ کیوں ڈالا؟
?️ 4 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان کے حالیہ بجٹ پر نہ صرف اپوزیشن رہنماؤں نے
جولائی
شام میں امریکہ کو اپنی موجودگی کافی مہنگی پڑی
?️ 15 جنوری 2023سچ خبریں:امریکی وزارت دفاع کے رکن جیف لامیر نے اپنی ایک رپورٹ
جنوری
افغان طالبان کا امن معاہدے کے متعلق اہم بیان
?️ 6 جولائی 2021سچ خبریں:طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات میں تیزی
جولائی
دوسری جنگ عظیم کے بعد غزہ کی صورتحال برلن سے بھی زیادہ تباہ
?️ 16 جنوری 2024سچ خبریں:بریچ نے گوئٹے مالا کے صدر برنارڈو اروالڈو کی افتتاحی تقریب
جنوری
وزیر اعظم کی روسی صدر کے ساتھ ملاقات کے شیڈول میں تبدیلی
?️ 24 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات
فروری
افغان مہاجرین کی وطن واپسی: صرف ایک دن میں 10 ہزار افراد افغانستان روانہ
?️ 1 نومبر 2025کوئٹہ (سچ خبریں) افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کا عمل تیزی
نومبر
الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری اور اعظم سواتی سے جواب طلبی کا فیصلہ کیا
?️ 17 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کی زیرصدارت
ستمبر
الیکشن ٹریبونل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست
?️ 29 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پنجاب الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کا معاملے میں
اکتوبر